Banner

لاہور – میری 22 سالہ یادوں کا شہر

Share

Share This Post

or copy the link

: لاہور – میری 22 سالہ یادوں کا شہر* شکیل گوندل۔

لاہور لاہور اے! یہ نعرہ صرف الفاظ نہیں، میری زندگی کے 22 سال کا خلاصہ ہے۔ 22 سال میں نے اس شہر میں اپنے بھائی کے ساتھ گزارے۔ یہ وہ شہر ہے جس نے مجھے ہنسایا، رلایا، سنوارا اور بڑا کیا۔ آج جب میں راولپنڈی میں بیٹھ کر لاہور کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

1. لاہور کی پرانی تاریخ – داستانوں کا شہر
لاہور کی مٹی میں ہزاروں سال کی تاریخ دفن ہے۔

1. بنیاد: کہتے ہیں لاہور کو راجہ لوہ نے آباد کیا تھا، جو رام چندر جی کے بیٹے تھے۔ اسی لیے پرانا نام “لوہ آور” یعنی لوہ کا قلعہ تھا۔
2. مغل دور: اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں نے اسے “باغوں کا شہر” بنا دیا۔ شالامار باغ، بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ – یہ سب اسی دور کی نشانیاں ہیں۔ جہانگیر اور نور جہاں کی قبریں آج بھی ہمیں محبت کی کہانی سناتی ہیں۔
3. سکھ دور: مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ رنجیت سنگھ کی سمادھی آج بھی لاہور قلعہ کے باہر کھڑی ہے۔
4. انگریز دور: مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، Aitchison College – گوروں نے اسے جدید لاہور بنایا۔
5. تحریک پاکستان: 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک – اب مینار پاکستان – میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ لاہور نے پاکستان بنایا۔

2. آج کا لاہور – ترقی اور ٹریفک کا امتزاج
پرانا لاہور اب “گریٹر لاہور” بن چکا ہے۔

1. ٹریفک: اللہ معاف کرے! مال روڈ، کینال روڈ، فیروزپور روڈ – شام 5 بجے گاڑیوں کا سمندر۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین اور سپیڈو بس نے کچھ سہولت دی ہے، لیکن آبادی کا سیلاب سب بہا لے جاتا ہے۔ موٹر سائیکل والے بھائی تو ایسے نکلتے ہیں جیسے انہیں جنازے پر پہنچنا ہو۔
2. کھابے: لاہور کا اصل حسن۔ گوالمنڈی کے نان چنے، لکشمی چوک کا حلوہ پوری، فیز 6 کا BBQ، فورٹ فوڈ سٹریٹ – یہاں پیٹ نہیں بھرتا، نیت بھر جاتی ہے۔
3. تعلیم و صحت: پنجاب یونیورسٹی، LUMS، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، شوکت خانم ہسپتال – پورے پاکستان سے لوگ علاج اور پڑھنے آتے ہیں۔
4. موسم: لاہور کی گرمی مشہور، دھند کمال۔ دسمبر جنوری میں دھند اتنی کہ اپنا ہاتھ نظر نہ آئے۔ اور بہار؟ جی ہاں، جیلانی پارک میں جب پھول کھلتے ہیں تو لگتا ہے جنت زمین پر اتر آئی۔

3. میری 22 سالہ یادیں – بھائی کے ساتھ گزرا وقت
میں اور میرا بھائی 22 سال لاہور میں اکٹھے رہے۔ وہ دن کیا دن تھے!

1. پہلا دن: جب لاہور آئے تو انارکلی میں 1 کمرے کا مکان لیا۔ بھائی کہتا تھا شکیل، لاہور میں بھوکا کوئی نہیں سوتا”۔ سچ کہا تھا۔
2. داتا دربار کی حاضری: ہر جمعرات داتا صاحب جاتے۔ وہاں لنگر کھاتے، دعا کرتے۔ بھائی کہتا تھا “پتر، داتا کے در سے خالی کوئی نہیں جاتا”۔
3. برسات اور پکوڑے: ساون میں کینال روڈ پر نہاتے، پھر لکشمی چوک سے گرم پکوڑے۔ بھائی چھیڑتا تھا “لاہور کی بارش میں نہ نہاؤ تو لاہوری نہیں”۔
4. مینار پاکستان کی سیر: کبھی کبھار اتوار کو موٹر سائیکل پر مینار پاکستان جاتے۔کافی بیٹھ کر باتیں کرتے۔ وہیں اس نے کہا تھا “بھائی، بڑا آدمی بننا ہے”۔
5. جدائی: 22 سال بعد جب لاہور چھوڑا تو گھر سے ہم سب فیملی بمع والدہ صاحبہ مرحومہ کے ساتھ روانہ ہونے تو بھائی گلے لگ کر رو پڑا تھا۔ اس نے کہا تھا ” شکیل تمھیں لاہور نہیں بھولے گا”۔

اللہ کریم کا خصوصی کرم ہے کہ آج بھائی دونوں ما شاءاللہ ساتھ ہیں لیکن لاہور کی ہر گلی سے اس کی آواز آتی ہے۔ شالامار باغ کا ہر درخت، بادشاہی مسجد کی ہر سیڑھی، انارکلی کا ہر کھمبا – سب ہمارے گواہ ہیں۔جس علاقے ٹاون شپ میں ہماری رہائش تھی وہ اور وہاں کے اہل محلہ اب بھی یاد آ تے ہیں۔یہ اللہ کیم کا خصوصی فضل ہے کہ لاہور میں بھی اچھی گذری اور الحمد للہ یہاں بھی بہت مثالی گذر رہی ہے۔

4. حرف آخر – لاہور مرتا نہیں
لوگ کہتے ہیں لاہور بدل گیا ہے۔ ہاں، پلازے بن گئے، ٹریفک بڑھ گئی، دھند کالی ہو گئی۔
لیکن لاہور کا دل نہیں بدلا۔ آج بھی کوئی بھوکا دروازے پر آ جائے تو لاہوری روٹی ضرور دیتا ہے۔ آج بھی مہمان کو “جی آیاں نوں” کہتے ہیں۔ آج بھی داتا کا لنگر چلتا ہے۔

میں لاہور سے دور ہوں، لیکن لاہور مجھ سے دور نہیں۔ وہ میری سانسوں میں بستا ہے۔ 22 سال کا حساب کتاب کیا کروں؟ وہ تو میری عمر کا سب سے حسین باب تھا۔

اے لاہور! تو سلامت رہے۔ تیرے مینار، تیری مسجدیں، تیرے بازار، تیرے لوگ سلامت رہیں۔ اور میرا بھائی جہاں بھی ہو، خوش رہے۔ آمین

لاہور – میری 22 سالہ یادوں کا شہر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us