Banner

یوم مئی۔۔۔۔ایک حقیقی تحریک

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: ملک محمد مختار اعوان
جنرل سیکرٹری
پاکستان یونائٹیڈ ورکرز فیڈریشن
جنوبی پنجاب

یکم مئی پوری دنیا میں ہر سال مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ھے۔ اس دن کو منانے کا مقصد شگاگو کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ یہ دن انسانی تاریخ میں محنت و عظمت اور جدوجہد کا دن مانا جاتا ھے۔ کیونکہ اس وقت مزدوروں کو بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ انہیں آرام تک کا وقت میسر نہ تھا آرام نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز حادثات پیش آتے جس سے مزدوروں کی ہلاکتوں بھی ہوتیں اور زخمیوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہوتا گپا۔
یکم مئی 1886 کو ہزاروں مزدوروں نے ان حالات سے تنگ آ کر امریکہ کے شہر شگاگو میں ہڑتال کر دی۔ ہرتالیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وہاں مزدوروں نے جذباتی تقریروں سے ماحول کو خوب گرمایا۔ ان حالات کو بھانپتے ہوئے پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا لیکن مزدور اپنے موقف پر ڈٹے رھے۔ پولیس جب لاٹھی چارج سے مزدوروں کو منتشر کرنے میں ناکام ہو گئی تو مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے سینکڑوں مزدور ہلاک ہو گئے۔ بے شمار زخمی بھی ہوئے شہداء اور زخمیوں کے خون آلود کپڑوں کو مزدور پرچم بنا کر ہوا میں لہراتے رہے تب سے سرخ پرچم مزدوروں کا عالمی نشان مانا جانے لگا۔ اس طرح مزدوروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار مقرر کروائے اور یہ نظریہ دیا کہ آٹھ گھنٹے کام کے لیے۔ آٹھ گھنٹے آرام کے لیے اور آٹھ گھنٹے دیگر دنیاوی کاموں کے لیے ہوں گے۔ اس سے پہلے کام کرنے کے کوئی اوقات کار نہ تھے مزدور مشین کی طرح کام کرتے کوئی آرام کی گنجائش نہ تھی اور نہ اجرت کا کوئی تعین تھا سرمایہ دار اپنی مرضی کے مطایق کام لیتا اور مرضی کی اجرت دیتا تھا ان حالات سے تنگ آ کر یکم مئی 1886 میں اس تحریک کا آغاز ہوا۔
یکم مئی 1886 کا واقعہ انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ظالم اور مظلوم کی طبقاتی کشمکش صدیوں سے جاری ہے۔ غلام اور آقا۔ کسان اور جاگیردار ۔ مزدور اور سرمایہ دار۔ لوٹنے والے اور لوٹے جانے والوں کے درمیان اس کشمکش کا آغاز اس وقت ہوا جب اس دھرتی پر محنت کرنے والوں کی محنت پر پلنے والوں کے لیے گنجائش پیدا کی گئی۔اور یہ کشمکش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک محنت کو غصب کرنے والوں کا وجود اس دنیا میں باقی رہے گا۔ اس پر ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ مظلوموں اور دبا کر رکھے جانے والوں پر ظلم کرنے کی اجازت بھی ظالموں نے ہمیشہ قانون سے ہی حاصل کی۔ قانون کے دعویداروں نے تاریخ انسانی کے زریں اوراق کو خون میں تر کرنے کے لیے ہمیشہ ایسے مواقع فراہم کیے ہیں۔
1889 کو دوسری عالمی کانگریس میں یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ سے ہر سال یکم مئی کو پوری دنیا کے محنت کش اس عظیم انسانی المیے کو یاد کرنے کے لیے مزدوروں کا عالمی دن منائیں گے حس کو یوم مئی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے دنیا بھر کے محنت کشوں کے اتحاد اور ان کی سالمیت کو تقویت پہنچے گی۔ یوم مئی کی تحریک اگرچہ بظاہر آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر کرانے کی ہی تھی مگر آج بڑھ کر یہ زمین۔ صنعت۔ امن۔ مساوات۔ انصاف و آزادی کے حصول اور تحفظ کے لیے جگہ جگہ لڑی جانے والی چھوٹی بڑی عوامی جھڑپوں ۔جنگوں ۔اجلاسوں اور مظاہروں کا دن بھی بن چکا ہے ۔ آج عوام دشمن حکمران اس دن کی تیزی و طراری کو کند کرنے کے لیے اپنے ہتھیار تیز کرتے رہتے ہیں مگر واقعات اور اعداد و شمار اس بات کے شاہد ہیں کہ وحشانہ منافع خوری اور بربریت کے خلاف یوم مئی تحریک سال بہ سال وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
یوم مئی تحریک محض اوقات کار کی تخفیف ۔ شرائط ملازمت ۔ حالات کار کی بہتری اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کی بحالی تک محدود نہ ہے اور نہ محدود کی جا سکتی ہے ۔پیشہ ور مزدور لیڈروں ۔مزدوروں کی محنت پر پلنے والے کارخانہ داروں ۔ ظالموں آمروں اور بظاہر جمہوری و پارلیمانی شکل و صورت رکھنے والے حکمرانوں کی حتی الامکان یہ ہی کوشش رہی ھے کہ کسی طرح بھی مزدوروں اور یوم مئی تحریک کو کچل دیا جائے یا انہیں صرف معمولی مراعات اور ترجیحات یا سال دو سال کے معاہدوں کی صورت میں سمجھوتہ بازی تک محدود رکھا جائے۔
جنگ اور عالمگیریت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے جنگی عزائم کے پیچھے بھی آئی ایم ایف ۔ ورلڈ بنک اور ڈبلیو ٹی او کی پوری حمایت اور کار فرمائیاں شامل ہیں ۔ امریکہ کا فوجی بجٹ اس کے نزدیک ترین 25 ممالک کے فوجی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی دنیا میں سیاست کے لیے مضبوط معاشی بنیادیں ہونا ضروری ہیں۔ محنت کش عوام پر ایسی سامراجی جنگیں مسلط ہونے کی بنا پر سرمایہ داری جو محنت کشوں کی سب سے بڑی دشمن ہے اس کی اجارہ داری تو مضبوط ہو جاتی ہے مگر بے روزگاروں کی تعداد ناقابل یقین حد تک بڑھتی جا رہی ھے کیونکہ وہ سرمایہ داری کے بحرانوں کی زد میں آ کر ملازمتوں سےنکال دیے جاتے ہیں تاکہ منافع کی شرح گراوتھ کا شکار نہ ہو۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت میں اس بات کا بہت پروپیگنڈہ کیا جاتا ھے کہ اس نظام نے دنیا کو یکسر بدل دیا ہے ۔ مگر حقیقتا” ایسا نہیں ھے۔
دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک صرف دو طبقات نظر آتے ہیں۔ ایک طبقہ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں اور کاروباریوں پر مشتمل ھے ۔دوسرا طبقہ بھوکے ننگے بے روزگار۔ بے گھر عوام اور محنت کشوں کا ھے۔اب تو ان محنت کشوں کو باہم مل کر اپنے حقوق کے لیے تنظیمیں اور یونین بنانے کے حق سے بھی روکا جاتا ہے۔ یعنی نیو ورلڈ آرڈر نے آتے ہی بین الاقوامی سطح پر ایک نئی غلامی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
موجودہ دنیا لوٹنے والوں اور لوٹے جانے والوں کے درمیان دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے اور ان دو طبقات میں ہمیشہ کشمکش جاری رہتی ہے۔ ماہر معیشت ایڈم سمتھ نے 1776 میں اپنی کتاب ویلتھ آف نیشن میں یہ بات کہی تھی کہ سرمائے اور محنت سے متعلق جو دو فریق یا جماعتیں ہیں وہ دونوں الگ الگ مقاصد رکھتی ہیں اور ان دونوں میں اشتراک مقاصد کا کوئی امکان نہیں۔ مزدور چاہتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ اجرت حاصل کرے جبکہ مالک کی کوشش ہوتی ہے کہ اجرت کی شرح کم سے کم رکھی جائے۔ سرمایہ داری نظام میں تجارتی اشیاء استعمال کے لیے نہیں بلکہ منافع کمانے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔
سرمایہ داری کی یہ ہی خوبی اور یہ ہی خامی ہے کہ اس کا مقصد نفع کمانا گوتا ھے۔ غربت کا خاتمہ یا ننگے بدن کو لباس فراہم کرنا نہیں ہوتا۔
اینگلز نے 1876 میں لکھا تھا کہ تجارت رکی ہوئی ھے ۔ مارکیٹیں بھری ہوئی ہیں۔ اشیاء جمع ہیں۔ کیونکہ ان کی خریداری نہیں ھو رہی ۔ہاتھ میں پیسہ نہیں ھے۔ ادھار ختم ھو گیا ھے۔ مارکیٹیں بند ہیں اور مزدور اپنی ضروریات زندگی کو ترس رہے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنی ضروریات زندگی کو محدود رکھا ہوا ھے۔ ایسا لگتا ھے کہ اینگلز نے یہ جملے آج کی صورت حال پر لکھے تھے
مزدوروں کے سیاسی عمل کے بارے میں بھی اینگلز کا کہنا ھے کہ “مزدوروں کی تنظیموں کو کسی سرمایہ دار پارٹی کا دم چھلہ بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اپنا آزادانہ وجود برقرار رکھنا چاہیے۔ اس طرح کہ اسکی اپنی خاص منزل ھو۔ سیاسی آزادیاں ۔ جلسے کرنے۔ انجمن بنانے کا حق۔ پریس کی آزادی یہ ھی مزدور سیاست کے ہتھیار ہیں۔ اگر کوئی ہم سے یہ ہتھیار لینا چاہے تو کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھ جائیں۔ اگر ہم سیاست کے میدان سے ہٹ جاہیں۔ تو “ایسا کرنے کا مطلب ہو گا کہ ہم نے موجودہ بندوبست کو اور حکومت وقت کو مان لیا”
سرمائے اور محنت کے تضادات نے دنیا بھر میں مزدور طبقے کی جدوجہد میں اضافہ کر دیا ھے اور وہ اس سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں جو اس کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا سبب ہے۔دنیا میں عوامی ابھار آ رہا ھے جو کہ ہر جگہ ہڑتالوں اور مظاہروں سے ظاہر ہوتا ھے۔ دنیا بھر کےمظلوموں نے اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے جو خون بہایا تھا۔ اس خون میں لت پت ہو جانے والا سرخ پرچم۔ اب کسی ایک ملک اور ایک قوم کی میراث نہیں ہے سرخ پرچم مظلوموں میں تفرقہ نہیں ڈالتا۔ صرف ان کا حق مانگتا ہے۔ آج بھی یوم مئی وہ عظیم عالمی طاقت و توانائی ھے جو ظلم کے سرمایہ دارانہ نظام۔ لوٹ مار اور استحصال کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے کا چیلنج ھے۔ ہسپتالوں کی کمی اورڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف کی کمی نے ان کی مسلمہ اہمیت کو مزید اجاگر کیا ھے۔
موجودہ حکومت نے کئی سالوں میں مرکزی اور صوبائی سطع پر کوئی سہ فریقی کانفرنس منعقد نہیں کی اور نہ مزدوروں کو کسی سطح پر اعتماد میں لینا گوارہ کیا ھے
مزدوروں سے متعلقہ تمام اداروں میں من پسند کے افراد کو بھرتی کر کے حقیقی قیادت کا راستہ روکا گیا ہے اور میرٹ کی رٹ لگانے والوں نے خود ہی میرٹ کو پامال کیا ہے
ہمیں انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد کی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ اور غیر تسلی بخش ھے اور آج بھی مزدوروں کی اکٹریت پرائیویٹ سیکٹر میں تقررناموں سے محروم، کم از کم اجرت کی ادائیگی پر عملدرامد نہ ہونے کے برابر ،بغیر اور ٹائم کے لمبے اوقات کار ،اور لاکھوں حقدار مزدور سوشل سیکیورٹی اور ای او بی ائی میں رجسٹریشن سے محروم ہیں اور متعلقہ ادارے سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی مکمل طور پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں
کیا کیا جائے اور کیا کہا جائے کہ ہمارا سب سے بڑا ایجنڈا آج بھی لیبر قوانین پر مکمل طور پر عملدرامد ہی کا ھے
طلباء یونینز کی بحالی کے مطالبہ کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور ٹریڈ یونین کی وجہ سے تمام برطرف مزدوروں کی بحالی اور عدلیہ مزدوروں کے تمام مقدمات کا ترجہی بنیادوں پر فیصلہ کریے انصاف کے عمل کو صرف اشرافیہ تک محدود کر دینا یکسر نا انصافی ہے ۔ھم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ منیمم ویجز موجودہ مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے کم از کم اسی ہزار مقرر کی جایے اور ای او بی ائی کی پنشن کم از کم اجرت کے برابر رکھا جائے۔ سوشل سیکورٹی ہسپتالوں میں ادوایات اور ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کیا جائے۔ تھرڈ پارٹی اور کنٹریکٹ ملازمت کا خاتمہ کیا جائے۔ چائلڈ لیبر۔ بانڈڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈومیسٹک۔ زرعی۔ تعمیراتی اور ہوم بیسڈ ورکرز کو ورکرز تسلیم کرتے ہوئے تمام لیبر قوانین کا اطلاق کیا جائے۔ پاکٹ یونینز کو ختم کرنے کے لیے اداروں میں سنگل یونین بنانے کی ترمیم کر کے یونین کے دو سال یا تین سال میں انٹرنل الیکشن کروائے جائیں۔ انسپکشن کے مظام کو مضبوط اور سہ فریقی بنیادوں پر کی جائے۔ این آئی آر سی اور صوبائی لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کا خاتمہ کیا جائے مزدوروں کی نئی یونینز رجسٹرڈ نہیں ہوتیں کیونکہ وہ رشوت نہیں دے سکتے دوسری طرف مالکان کی پاکٹ یونینز دو سے پانچ لاکھ رشوت لے کر راتوں رات رجسٹریشن کر دی جاتی ہیں جس سے مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔ سرکاری ملازمین میں وفاقی اور صوبائی اداروں کی تنخواہوں کی تفریق ختم کی جائے۔ پنشن کا پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے۔ 17 اے کو بحال کیا جائے۔ لیو انکیشمنٹ بنیادی تنخواہ پر ادائیگی کا پرانا طریقہ بحال کیا جائے۔ ڈیلی ویجز۔ ورکچارچڈ اور کنٹریکٹ ملازمیں کو نسقل کیا جائے۔ بلوچستان میں سرخاری اداروں کی یونینز کو بغال کیا جائے۔

یوم مئی۔۔۔۔ایک حقیقی تحریک

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us