Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
N-25 اور N-50 پر مسافروں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکمچیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کا بس اڈے کا تفصیلی دورہ، ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکمبلوچستان محکمہ جیل کے ذمے کیسکو کے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے واجب الادابلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی کارروائی اسمگلنگ ناکام بنادیاپشتون کلچر ڈے امن، محبت، رواداری اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت اظہار ہے، بشری رندزندہ اور باشعور قومیں ثقافتی و روایتی اقدار اور تاریخی ورثے کا تحفظ کرتی ہیں،نسیم الرحمان ملاخیلپشتون کلچرل ڈے ہماری شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے، حاجی ولی محمد نورزئیقلات میں نامعلوم مسلح افراد ایدھی ایمبولینس اغوا کرکے لے گئےصبا فیصل کے طلاق اور خواتین سے متعلق بیان پر بحث چھڑ گئینوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی پروقار تقریبN-25 اور N-50 پر مسافروں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکمچیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کا بس اڈے کا تفصیلی دورہ، ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکمبلوچستان محکمہ جیل کے ذمے کیسکو کے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے واجب الادابلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی کارروائی اسمگلنگ ناکام بنادیاپشتون کلچر ڈے امن، محبت، رواداری اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت اظہار ہے، بشری رندزندہ اور باشعور قومیں ثقافتی و روایتی اقدار اور تاریخی ورثے کا تحفظ کرتی ہیں،نسیم الرحمان ملاخیلپشتون کلچرل ڈے ہماری شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے، حاجی ولی محمد نورزئیقلات میں نامعلوم مسلح افراد ایدھی ایمبولینس اغوا کرکے لے گئےصبا فیصل کے طلاق اور خواتین سے متعلق بیان پر بحث چھڑ گئینوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی پروقار تقریب

تاریخی عبرت فرعونیت سے جدید آمریت تک تکبر اور زوال

2

قارئینِ صحافت! قومِ عاد کی طرح تاریخِ انسانی کے ہر دور میں ایسے طاقتور حکمران اور ریاستیں ابھریں جنہوں نے اپنی مادی ترقی، جسمانی جاہ و حشمت اور اقتدار کی ہوس میں انسانیت کو پامال کیا۔ مصر کے فرعون ریمیسس دوم نے خدائی کا دعویٰ کر کے بنی اسرائیل پر وہ مظالم ڈھائے جن کی مثال نہیں ملتی، اس نے نوزائیدہ بچوں کے قتل اور غلامی کو اپنا حق سمجھا لیکن آخرکار بحیرہ قلزم کی موجوں نے اس کے تکبر کو خاک میں ملا دیا۔ اسی طرح منگول سلطنت کا چنگیز خان ایشیاء سے یورپ تک ایک ایسی قہرمان لہر بن کر ابھرا جس نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اور ہنستی بستی تہذیبوں کو گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا، اس کا غرور یہ تھا کہ وہ خود کو خدا کا عذاب کہتا تھا مگر موت کے ایک جھٹکے نے اسے گمنام قبر کا اسیر کر دیا۔ روم کے شہنشاہ نیرو نے اپنی طاقت کے نشے میں خود اپنے شہر کو آگ لگا دی اور معصوم انسانوں کو درندوں کے آگے پھینک کر جشن منایا لیکن اسی اقتدار کی ہوس نے اسے خودکشی پر مجبور کر دیا۔ روس کے آئیون دی ٹیریبل نے اپنے ہی لوگوں اور یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو بھی اپنے غیظ و غضب کا نشانہ بنایا، اس کی سفاکی نے اسے ایک عبرت ناک تنہائی میں دھکیل دیا۔ جرمنی کے ایڈولف ہٹلر نے یورپ کو اپنی فوجی طاقت اور آریائی برتری کے زعم میں آگ و خون کے سمندر میں جھونک دیا، اس نے کروڑوں انسانوں کو گیس چیمبرز کی نذر کیا اور پوری دنیا پر قبضے کا خواب دیکھا مگر اس کی ہوسِ ملک گیری نے اسے ایک زیرِ زمین بنکر میں رسوائی کے ساتھ ختم کر دیا۔ اٹلی کے مسولینی نے قدیم رومی سلطنت کی بحالی کے جنون میں حبشہ اور لیبیاء میں معصوموں کا قتلِ عام کیا لیکن آخر کار اس کی لاش کو چوراہے پر لٹکا دیا گیا جو ہر جابر کے لیے نشانِ عبرت بنی۔ جدید دور میں بھی فرعونیت کے یہ سائے ختم نہیں ہوئے، امریکہ نے اپنی عالمی چوہدراہٹ اور سپر پاور ہونے کے زعم میں افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر بیس سال تک بارود کی بارش کی، وہاں کے نہتے شہریوں پر جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ مظالم ڈھائے کہ انسانیت لرز اٹھی، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں سے لے کر ویتنام اور افغانستان تک امریکی غرور نے لاکھوں معصوم جانیں نگل لیں لیکن آخرکار اسے بھی ذلت آمیز واپسی کا سامنا کرنا پڑا جو اس بات کی دلیل ہے کہ مادی طاقت حق کو نہیں دبا سکتی۔ اسی طرح اسرائیل کی ناجائز ریاست نے فلسطین کی سرزمین پر ظلم و بربریت کی جو داستان رقم کی ہے وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، صیہونی حکمرانوں نے غزہ کو ایک کھلے زندان میں تبدیل کر کے بچوں، بوڑھوں اور خواتین پر فاسفورس بموں کا استعمال کیا اور ہسپتالوں تک کو نشانہ بنایا، وہ اپنی ناقابلِ تسخیر فوج اور عالمی پشت پناہی پر اتراتے ہیں مگر مظلوم فلسطینیوں کا لہو ان کے زوال کی بنیاد بن رہا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کے علمبرداروں نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی بنا کر لاکھوں کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا، پیلٹ گنوں کے استعمال سے نوجوانوں کی بینائی چھیننا، ماورائے عدالت قتل اور عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھارتی آمریت کا وہ بھیانک چہرہ ہے جو آر ایس ایس کے نظریاتی تکبر سے عبارت ہے، مودی سرکار نے اپنی سیاسی ہوس کے لیے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا جینا محال کر رکھا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ کمبوڈیا کے پول پوٹ نے اپنی نظریاتی بالادستی کے لیے کنگ فیلڈز آباد کیں جہاں لاکھوں انسانوں کو محض اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ پڑھے لکھے تھے، اس کا انجام بھی ذلت آمیز گمنامی پر ہوا۔ یوگنڈا کے عیدی امین نے خود کو لاسٹ کنگ آف اسکاٹ لینڈ اور ناقابلِ شکست قرار دیا لیکن اس کی درندگی نے اسے ملک بدر ہونے پر مجبور کر دیا اور وہ پردیس میں بے بسی کی موت مرا۔ یہ تمام طاقتیں اور حکمران قومِ عاد کی طرح اپنی جسمانی قوت اور عسکری ٹیکنالوجی پر نازاں تھے، انہوں نے کمزور قوموں کو اپنا غلام بنانے کے لیے سازشوں کے جال بنے اور ہنستی بستی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا مگر قدرت کا قانون اٹل ہے کہ جابر چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے اسے ایک دن مظلوم کی آہ کے سامنے ڈھیر ہونا پڑتا ہے۔ آج کے جدید دور کے جابروں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فرعون کا غرور دریائے نیل میں ڈوبا تھا اور قومِ عاد کی بلند و بالا عمارتیں ریت کے بگولوں میں گم ہو گئی تھیں، طاقت اور اقتدار صرف اللہ کے پاس ہے اور تکبر کا انجام ہمیشہ ہلاکت اور رسوائی ہوتا ہے جو تاریخ کے کوڑے دان کی زینت بنتے ہیں۔ ان ظالموں کی داستانیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ زمین پر کسی کا جاہ وجلال دائمی نہیں اور جو بھی مظلوموں کی آہوں سے ٹکراتا ہے وہ نشانِ عبرت بن کر رہ جاتا ہے چاہے وہ مشرق کا کوئی آمر ہو یا مغرب کی کوئی استعماری طاقت۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *