Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کی سینئر صحافی نصیر احمد پر تشدد اور حملے کی مذمتتحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان کی جانب سے سینئر صحافی نصیر احمد پر حملے کی مذمتسینئر صحافی نصیر احمد پر مبینہ تشدد، کوئٹہ پریس کلب اور بی یو جے کی شدید مذمتمسلم لیگ ن نے عوامی مسائل کے حل اور ملکی ترقی کےلئے عملی اقدامات کیے، سلیم کھوسہکوئٹہ کے مختلف علاقوں میں مرمت کے سلسلے میں بجلی بندر ہے گیصحت کے شعبے میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، بخت محمد کاکڑثقافت تقسیم کا ذریعہ نہیں لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا بہترین وسیلہ ہے ،راحیلہ درانیحکومت عوام کو روزگار دینے میں ناکام ہو چکی ہے اراکین بلوچستان اسمبلیخواتین کی مہارتوں کو تسلیم کئے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ،گورنر بلوچستانامن دشمن عناصر کے عزائم کبھی پورے نہیں ہونے دینگے ،وزیراعلیٰ بلوچستانمرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کی سینئر صحافی نصیر احمد پر تشدد اور حملے کی مذمتتحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان کی جانب سے سینئر صحافی نصیر احمد پر حملے کی مذمتسینئر صحافی نصیر احمد پر مبینہ تشدد، کوئٹہ پریس کلب اور بی یو جے کی شدید مذمتمسلم لیگ ن نے عوامی مسائل کے حل اور ملکی ترقی کےلئے عملی اقدامات کیے، سلیم کھوسہکوئٹہ کے مختلف علاقوں میں مرمت کے سلسلے میں بجلی بندر ہے گیصحت کے شعبے میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، بخت محمد کاکڑثقافت تقسیم کا ذریعہ نہیں لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا بہترین وسیلہ ہے ،راحیلہ درانیحکومت عوام کو روزگار دینے میں ناکام ہو چکی ہے اراکین بلوچستان اسمبلیخواتین کی مہارتوں کو تسلیم کئے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ،گورنر بلوچستانامن دشمن عناصر کے عزائم کبھی پورے نہیں ہونے دینگے ،وزیراعلیٰ بلوچستان

صوبائی حکومت کا اکیڈمیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ، قابل تشویش ہے، یوسف احمد خان اچکزئی

صوبائی حکومت کا اکیڈمیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ، قابل تشویش ہے، یوسف احمد خان اچکزئی
صوبائی حکومت کے غیر ادبی فیصلے پر سخت ردعمل۔ اکیڈمیوں کو سرکاری بیوروکریسی کے حوالے کرنے کی مذمت۔
علمی اداروں کی خود مختاری پر شب خون مارنا لسانی و ثقافتی ورثے کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔عوامی ترجمان
قلعہ عبداللہ(اچکزئی ہاؤس گلستان سے )وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی ہوش کے ناخن لیں؛ ادیبوں اور محققین کی پانچ دہائیوں کی محنت پر سرکاری افسر شاہی کو مسلط نہ کیا جائے۔ معروف سماجی و تعلیمی شخصیت اور احمد خان ایجوکیشن سسٹم کے روحِ رواں یوسف احمد خان اچکزئی نے بلوچستان کابینہ کے اس حالیہ فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں کو سرکاری تحویل میں لے کر بیوروکریسی کے ذریعے چلانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اپنے ایک خصوصی بیان میں یوسف احمد خان اچکزئی نے کہا کہ صوبائی حکومت کا یہ اقدام علمی و ادبی اداروں کی روح کو کچلنے کے مترادف ہے۔ یہ اکیڈمیاں گزشتہ پچاس برسوں سے اپنی زبانوں کی بقاء تحقیق اور تخلیق کا گہوارہ رہی ہیں۔ ادیبوں اور دانشوروں کے ان مستند مراکز کو سرکاری ملازمین کے سرکاری ذہنیت کے تابع کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔فرزنداحمدخان اچکزئی یوسف احمدخان اچکزئی نے مزید کہا کہ حکومت کا کام اداروں کی سرپرستی کرنا ہوتا ہے، انہیں فتح کرنا نہیں۔ اگر یہ اکیڈمیاں سرکاری محکموں کی طرح چلائی گئیں تو ان کا تحقیقی اور تنقیدی معیار ختم ہو جائے گا اور یہ محض بیوروکریسی کے دفاتر بن کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ارکان اور وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا کہ اس غیر مہذب اور غیر علمی فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے، ورنہ صوبے کے تمام باشعور طبقات، ادیب اور ولس اس کے خلاف بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
یوسف احمد خان اچکزئی نے واضح کیا کہ جس طرح سیاسی حلقوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے، اسی طرح قبائلی اور سماجی شخصیات بھی اپنے علمی ورثے کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں کھڑی ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *