Banner
Daily Sahafat Quetta
October 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026سیاسی عدم استحکام سے پاک چین تعلقات متاثر ہورہے ہیں، مولانا عبدالقادر لونی27 اکتوبر کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے،مہراللہ بادینیسرکاری امور میں غفلت اور تاخیر برداشت نہیں کی جائےگی،مہراللہ بادینیمسئلہ کشمیر کے پرامن حل کےلئے عالمی سطح پر آواز اٹھاناناگزیر ہے،عبدالخالق اچکزئیسردار عبدالرحمٰن کھیتران کی دوبارہ وزارت ملنے کی خبروں کی تردیدکشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے، سلیم کھوسہوویمن یونیورسٹی کو ملک کی ماڈل یونیورسٹی بنائیں گے ،جعفر مندوخیلTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026سیاسی عدم استحکام سے پاک چین تعلقات متاثر ہورہے ہیں، مولانا عبدالقادر لونی27 اکتوبر کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے،مہراللہ بادینیسرکاری امور میں غفلت اور تاخیر برداشت نہیں کی جائےگی،مہراللہ بادینیمسئلہ کشمیر کے پرامن حل کےلئے عالمی سطح پر آواز اٹھاناناگزیر ہے،عبدالخالق اچکزئیسردار عبدالرحمٰن کھیتران کی دوبارہ وزارت ملنے کی خبروں کی تردیدکشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے، سلیم کھوسہوویمن یونیورسٹی کو ملک کی ماڈل یونیورسٹی بنائیں گے ،جعفر مندوخیل

سیاسی عدم استحکام سے پاک چین تعلقات متاثر ہورہے ہیں، مولانا عبدالقادر لونی

جمعیت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا محمودالحسن قاسمی اور دیگر مرکزی رہنماں نے کہا ہے کہ ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام اور کشیدگی کے باعث پاک چین تعلقات، باہمی اعتماد اور سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہورہے ہیں۔ حکمرانوں کو سیاسی انتقام کے بجائے ملکی معیشت اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔جاری کردہ بیان میں مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی نائب امرا مولانا عبدالوہاب ڈھیر اور مولانا عبدالروف، سرپرست اعلی مولانا ڈاکٹر شمس الہدی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ نے کہا کہ مسلسل سیاسی عدم استحکام نے پاک چین تعلقات اور دیرینہ اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے منفی اثرات ملکی معیشت اور ترقیاتی منصوبوں پر مرتب ہورہے ہیں۔رہنماں نے کہا کہ سیاسی کشیدگی اور مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی پالیسی نے پاک چین اقتصادی راہداری سمیت اہم ترقیاتی منصوبوں کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو اصلاحات اور معاشی منصوبہ بندی پر توجہ دینی چاہیے، لیکن حکمرانوں کی زیادہ تر توانائیاں سیاسی مخالفین کو زیر کرنے میں صرف ہورہی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس وقت سیاسی اور معاشی بحرانوں، مہنگائی، توانائی کی قلت اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ریاستی اور آئینی اداروں پر اعتماد میں کمی ملک کے لیے تشویش ناک ہے، جبکہ غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات پائیدار ترقی اور استحکام کے بجائے بحرانوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنماں نے دعوی کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران مقتدر حلقوں اور حکمرانوں کی پالیسیوں سے ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی و سفارتی تنہائی کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔انہوں نے حکمرانوں پر زور دیا کہ ذاتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر میثاقِ جمہوریت اور میثاقِ معیشت پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے، تاکہ قومی معاملات میں استحکام اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنایا جاسکے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *