Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بنگلہ دیشی جوڑاخاتون صحافی عطیہ اکرم کو ہراساں کرنے اور امین اللہ مینگل پر تشدد کی مذمتسردیوں میں ایل این جی کے 18 کارگوز خریدنے کا ہدف مقررلاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ عدم ادائیگی پر قید کاٹنے سے جرمانہ ختم نہیں ہوگاپاکستانی اور سعودی انویسٹرز کی ایک دوسرے کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی دعوتکوئٹہ: جبل نور القرآن کے قریب فائرنگ، ہاؤسنگ اسکیم کی مشینری آگ کی نذرکوئٹہ: اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی گرفتارہمارے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوراجن پور مسافر بس حادثہ؛ مزید ایک بچہ دم توڑ گیا، جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی، 30 زخمیجس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہےبنگلہ دیشی جوڑاخاتون صحافی عطیہ اکرم کو ہراساں کرنے اور امین اللہ مینگل پر تشدد کی مذمتسردیوں میں ایل این جی کے 18 کارگوز خریدنے کا ہدف مقررلاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ عدم ادائیگی پر قید کاٹنے سے جرمانہ ختم نہیں ہوگاپاکستانی اور سعودی انویسٹرز کی ایک دوسرے کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی دعوتکوئٹہ: جبل نور القرآن کے قریب فائرنگ، ہاؤسنگ اسکیم کی مشینری آگ کی نذرکوئٹہ: اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی گرفتارہمارے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوراجن پور مسافر بس حادثہ؛ مزید ایک بچہ دم توڑ گیا، جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی، 30 زخمیجس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہے

او آئی سی کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی حکومت کی بھرپور حمایت کا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنانا مملکت کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیوں کا تسلسل خطرناک اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے، جو یمن میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

حسین ابراہیم طہٰ کے مطابق یہ حملے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات یمن کے بحران کے جامع اور مستقل سیاسی حل کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم مملکت کی جانب سے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور شہریوں و رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ خطے کو مزید کشیدگی اور بدامنی سے بچانے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیں اور امن عمل کے ساتھ سنجیدہ وابستگی کا مظاہرہ کریں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *