Banner
Daily Sahafat Quetta
September 10, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سیوی ریلوے اسٹیشن پر بڑی کارروائی، 8 کلو آئس برآمد، خاتون گرفتارریونیو معاملات میں شفافیت اور میرٹ ہر صورت یقینی بنایا جائے، ڈپٹی کمشنرلورالائیناقص خوراک کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 36 یونٹس جرمانہبلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ بل 2026 کا جائزہکوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں من مانا فرق اور ہوشربا اضافہ، شہریوں کا شدید تشویش کا اظہارکوئٹہ میں مبینہ فحاشی کا پھیلاؤ تشویشناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقسونا 600 روپے سستا، فی تولہ نئی قیمت سامنے آگئیپیٹرول پوری دنیا میں مہنگا اور پاکستان میں سستا ہے، گورنر سندھنیب بلوچستان کا سٹی اسکول کوئٹہ کینٹ میں انسدادِ بدعنوانی آگاہی پروگرام13 ستمبر صحافت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا،بی ایم ایفسیوی ریلوے اسٹیشن پر بڑی کارروائی، 8 کلو آئس برآمد، خاتون گرفتارریونیو معاملات میں شفافیت اور میرٹ ہر صورت یقینی بنایا جائے، ڈپٹی کمشنرلورالائیناقص خوراک کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 36 یونٹس جرمانہبلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ بل 2026 کا جائزہکوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں من مانا فرق اور ہوشربا اضافہ، شہریوں کا شدید تشویش کا اظہارکوئٹہ میں مبینہ فحاشی کا پھیلاؤ تشویشناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقسونا 600 روپے سستا، فی تولہ نئی قیمت سامنے آگئیپیٹرول پوری دنیا میں مہنگا اور پاکستان میں سستا ہے، گورنر سندھنیب بلوچستان کا سٹی اسکول کوئٹہ کینٹ میں انسدادِ بدعنوانی آگاہی پروگرام13 ستمبر صحافت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا،بی ایم ایف

بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ بل 2026 کا جائزہ

بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین خیر جان بلوچ نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین رحمت صالح بلوچ، میر جہانزیب مینگل اور میر لیاقت علی لہڑی نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ہاشم غلزئی، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، بورڈ ممبر تعمیر نو ٹرسٹ حافظ طاہر، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں “تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ بل 2026” کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس کا مقصد بلوچستان میں نجی شعبے کے تحت اس یونیورسٹی کا قیام عمل میں لانا ہے تاکہ معیاری اعلی تعلیم، تحقیق، جدت اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے قیام سے اعلی تعلیم تک رسائی میں توسیع، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط کے فروغ، کاروباری صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کے نفاذ سمیت صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں بڑی معاونت حاصل ہوگی، اور یہ ادارہ حکومتِ بلوچستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقرر کردہ معیارِ تعلیم اور کوالٹی ایشورنس کے اصولوں کے مطابق کام کرے گا۔اس موقع پر رکنِ کمیٹی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ تعمیرِ نو نے تعلیم کے فروغ اور معاشرتی بہتری کے لیے قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں اور اس کے بانیوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی بل کو ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کے تعلیمی اداروں کے درمیان صحت مند مسابقت اور نوجوانوں کو جدید تعلیمی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ صوبے کی سرکاری جامعات کو بھی مناسب وسائل اور تحقیقی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی خیر جان بلوچ نے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے متعلق قانون سازی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ایسے بلوں کا جائزہ لیتے وقت صوبے کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے مفادات، اعلی معیارِ تعلیم اور طلبہ کے وسیع تر مفاد کو ہر صورت پیشِ نظر رکھا جائے گا کیونکہ صوبے کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعلیم کو ہمیشہ اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *