Banner
Daily Sahafat Quetta
September 9, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیاامریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیںپاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کا علاقائی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورمیر عبداللہ جان بزنجو کے انتقال پر زبیر زامرانی کا اظہارِ تعزیتکوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمیآپریشن سوم ناتھ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے،سیدال ناصرصوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اولین ترجیح ہے ،بخت کاکڑنصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیاامریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیںپاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کا علاقائی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورمیر عبداللہ جان بزنجو کے انتقال پر زبیر زامرانی کا اظہارِ تعزیتکوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمیآپریشن سوم ناتھ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے،سیدال ناصرصوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اولین ترجیح ہے ،بخت کاکڑ

گرلز ایجوکیشن کی بہتری میں محترمہ فوزیہ درانی کی خدمات قابلِ تحسین، تبادلہ منسوخ کیا جائے،اہلیانِ لورالائی

لورالائی(میاں محمدعامربشیر آرائیں )اہلیانِ لورالائی نے سیکرٹری تعلیم بلوچستان لال جان جعفر سے پرزور اپیل کی ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل لورالائی محترمہ فوزیہ درانی کے تبادلے کے احکامات پر نظرثانی کرتے ہوئے ان کا ٹرانسفر فوری طور پر منسوخ کیا جائے، کیونکہ ان کی تعیناتی کے دوران ضلع میں گرلز ایجوکیشن کے شعبے میں متعدد مثبت اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ محترمہ فوزیہ درانی ایک محنتی، مخلص، فرض شناس اور عوام دوست افسر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے لورالائی میں خواتین کی تعلیم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے نہ صرف محکمانہ سطح پر بھرپور کوششیں کیں بلکہ تعلیمی اداروں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔اہلیانِ لورالائی کے مطابق ضلع میں طویل عرصے سے بعض گرلز اسکولز مختلف وجوہات کی بنا پر بند یا غیر فعال تھے، جنہیں دوبارہ فعال کرنے اور وہاں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے محترمہ فوزیہ درانی نے خصوصی دلچسپی لی۔ ان کی کوششوں سے متعدد بند گرلز اسکولز کو کھولنے میں پیش رفت ہوئی اور طالبات کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ ہوا۔شہریوں نے کہا کہ لورالائی جیسے وسیع اور دور دراز علاقوں پر مشتمل ضلع میں گرلز ایجوکیشن کے مسائل حل کرنا آسان کام نہیں، تاہم محترمہ فوزیہ درانی نے مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو محنت اور خلوص کے ساتھ نبھایا۔ انہوں نے گرلز اسکولز کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، تعلیمی ماحول اور دیگر بنیادی مسائل پر توجہ دی اور متعلقہ حکام کے سامنے مسائل کو اجاگر کیا۔اہلیانِ لورالائی کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر کی کارکردگی کا اصل معیار اس کے عملی اقدامات اور عوام کو حاصل ہونے والے فوائد ہوتے ہیں۔ اگر ایک افسر اپنی ذمہ داری کے دوران تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے، بند اداروں کو فعال کرنے اور طالبات کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کرے تو ایسی کارکردگی کو سراہا جانا چاہیے۔شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ فوزیہ درانی کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حوصلہ افزائی، تعریفی اسناد یا اعزازات دیے جانے چاہئیں تھے، مگر اس کے برعکس ان کا تبادلہ کر دیا گیا ہے، جس سے لورالائی کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف متعلقہ افسر کا مورال بلند ہوتا ہے بلکہ دیگر سرکاری افسران اور اہلکار بھی بہتر کارکردگی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔اہلیانِ لورالائی نے سیکرٹری تعلیم بلوچستان لال جان جعفر سے مطالبہ کیا ہے کہ محترمہ فوزیہ درانی کی کارکردگی اور خدمات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے اور ان کے تبادلے کے فیصلے پر ازسرِنو غور کیا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی انتظامی مجبوری یا محکمانہ ضرورت موجود نہیں تو ان کا ٹرانسفر فوری طور پر منسوخ کرکے انہیں لورالائی میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کا موقع دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ لورالائی میں گرلز ایجوکیشن کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تسلسل اور تجربہ رکھنے والے افسران کی ضرورت ہے۔ اچانک انتظامی تبدیلیوں سے جاری اقدامات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے محکمہ تعلیم کو عوامی مفاد، تعلیمی بہتری اور اداروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔اہلیانِ لورالائی نے امید ظاہر کی کہ سیکرٹری تعلیم بلوچستان لال جان جعفر اس عوامی مطالبے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے محترمہ فوزیہ درانی کے تبادلے پر نظرثانی کریں گے اور انہیں لورالائی میں اپنی خدمات جاری رکھنے کا موقع فراہم کریں گے، تاکہ گرلز ایجوکیشن کے حوالے سے شروع کیے گئے مثبت اقدامات کا سلسلہ مزید آگے بڑھ سکے۔شہریوں نے کہا کہ لورالائی کی بیٹیوں کے بہتر مستقبل کے لیے تعلیم کے شعبے میں جو بھی افسر مخلصانہ کردار ادا کرے، اسے سیاسی یا انتظامی اختلافات سے بالاتر ہوکر میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر سراہا جانا چاہیے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *