Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانمستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اہم پیش رفت ہے، شاہد رندجمہوریت کی طاقت عوام کی مؤثر شرکت اور قانون کی بالادستی میں ہے، نوابزادہ زرین مگسیبلوچستان میں ملک دشمنوں کیلئے صرف تباہی ہے، مینا مجید بلوچاسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے سیڈ منی دینے کا اعلانعوام کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، میر سلیم کھوسہہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانمستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اہم پیش رفت ہے، شاہد رندجمہوریت کی طاقت عوام کی مؤثر شرکت اور قانون کی بالادستی میں ہے، نوابزادہ زرین مگسیبلوچستان میں ملک دشمنوں کیلئے صرف تباہی ہے، مینا مجید بلوچاسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے سیڈ منی دینے کا اعلانعوام کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، میر سلیم کھوسہ

یونیورسٹی آف لورالائی اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے اہم ملاقات

یونیورسٹی آف لورالائی اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے اہم ملاقات

لورالائی(میاں محمدعامربشیر آرائیں )یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک سے ایک اہم اور مفید ملاقات کی، جس میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سینئر حکام اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی ٹیم کے دیگر معزز اراکین نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں بلوچستان بالخصوص یونیورسٹی آف لورالائی میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور ادارہ جاتی ترقی کے حوالے سے مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، ڈاکٹر شفیق اور دیگر متعلقہ حکام جبکہ یونیورسٹی آف لورالائی کی جانب سے ڈائریکٹر دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی روابط جناب اسلم زیب اور اسسٹنٹ رجسٹرار جناب محمد بلال بھی موجود تھے۔اس موقع پر یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی سرگرمیوں، جاری منصوبوں اور مستقبل کے تعلیمی اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی آف لورالائی علاقے کے نوجوانوں کو معیاری اور جدید اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تحقیق، جدت اور عملی مہارتوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
ملاقات کے دوران اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، تعلیمی قیادت کی تربیت، معیارِ تعلیم میں بہتری، تحقیقی تعاون، جدت و تخلیق، استعدادِ کار میں اضافے، پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے حوالے سے مستقبل کے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کے تعلیمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعات میں اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور استعدادِ کار میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے ذریعے اساتذہ، انتظامی افسران اور تعلیمی قیادت کے لیے مختلف تربیتی اور استعدادِ کار بڑھانے کے پروگراموں کے انعقاد کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں تحقیق اور جدت کے شعبے کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ یونیورسٹی آف لورالائی کے اساتذہ اور محققین کو تحقیقی سرگرمیوں، جدید تحقیق، باہمی تحقیقی منصوبوں اور علمی روابط کے لیے مزید مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ یونیورسٹی میں تحقیق کا کلچر مزید مستحکم ہو اور بلوچستان کے مقامی مسائل کے حل کے لیے علمی و تحقیقی بنیادوں پر کام کو فروغ دیا جا سکے۔وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی جانب سے ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی تربیت اور جامعات کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے جاری اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف لورالائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ تعلیمی و تحقیقی پروگراموں کو فروغ دینے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی آف لورالائی بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی، تعلیمی معیار میں بہتری، تحقیق و جدت کے فروغ اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے دستیاب تمام مواقع سے بھرپور استفادہ کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لیے جامعات، اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور متعلقہ قومی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملاقات میں تعلیمی قیادت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مؤثر تعلیمی قیادت کسی بھی جامعہ کی مجموعی کارکردگی، انتظامی بہتری، تعلیمی معیار اور تحقیقی ماحول کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اس موقع پر یونیورسٹی آف لورالائی کے ڈائریکٹر دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی روابط جناب اسلم زیب نے بھی یونیورسٹی میں تحقیق، جدت اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کے حوالے سے جاری اور مستقبل کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا، جبکہ اسسٹنٹ رجسٹرار جناب محمد بلال نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یونیورسٹی آف لورالائی، اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور مستقبل میں مشترکہ تربیتی پروگراموں، تحقیقی سرگرمیوں، تعلیمی قیادت، استعدادِ کار میں اضافے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
یہ ملاقات یونیورسٹی آف لورالائی کی تعلیمی ترقی اور بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔ اس طرح کے روابط نہ صرف اساتذہ اور انتظامی عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا ذریعہ بنیں گے بلکہ طلبہ کو بھی بہتر تعلیمی ماحول، جدید علمی مواقع اور تحقیقی سرگرمیوں سے مستفید ہونے کے امکانات فراہم کریں گے۔
یونیورسٹی آف لورالائی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، معیاری تعلیم، تحقیق، جدت اور پیشہ ورانہ تربیت کا مؤثر مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے ساتھ باہمی تعاون کو بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے پائیدار فروغ کے لیے مزید وسعت دی جائے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *