Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دیامن بورڈ نے حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کر لیا، صدر ٹرمپموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتدہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دیامن بورڈ نے حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کر لیا، صدر ٹرمپموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقات

صوبوں کو آئینی حقوق کے بغیر مستحکم پاکستان خواب ہے، پروفیسر حلیم صادق

1973ء کا آئین محکوم قوموں کے لیے امید کی کرن تھا، 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔
اگر آئین پر عمل نہ ہوا تو نئے سوشل کنٹریکٹ کا مطالبہ مزید مضبوط ہوگا۔ عوام پاکستان پارٹی
کوئٹہ: عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا ہے کہ صوبوں کو ان کے آئینی، سیاسی، معاشی اور انتظامی حقوق دیے بغیر ایک مستحکم، مضبوط اور خوشحال پاکستان کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ 1973ء کا آئین محکوم اور پسماندہ قومیتوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن تھا، مگر افسوس کہ اس کی حقیقی روح کے مطابق عملدرآمد نہ ہونے کے باعث وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوا۔ 5 جولائی کی مناسبت سے جاری اپنے بیان میں پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ 5 جولائی 1977ء پاکستان کی آئینی اور جمہوری تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جب جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر 1973ء کے آئین کو معطل کیا اور ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔ اس اقدام نے جمہوری ارتقاء، آئینی بالادستی اور وفاقی نظام کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے اثرات آج بھی ملکی سیاست اور ریاستی ڈھانچے پر نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین تمام اکائیوں کے درمیان اعتماد، مساوات اور وفاقی ہم آہنگی کی بنیاد تھا، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم نے صوبائی خودمختاری کو مزید مضبوط بنایا۔ تاہم بدقسمتی سے اس ترمیم پر مکمل اور دیانتدارانہ عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے خصوصاً بلوچستان سمیت چھوٹے صوبے آج بھی اپنے آئینی، مالی اور انتظامی حقوق سے محروم ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ اگر 1973ء کے آئین پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جاتا اور 18ویں ترمیم کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے تو آج بلوچستان میں احساسِ محرومی، بداعتمادی اور ترقیاتی پسماندگی کی موجودہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وسائل پر صوبوں کا آئینی حق، مقامی آبادی کی شراکت، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی آئین کی بالادستی، حقیقی وفاق، جمہوریت، پارلیمانی نظام اور صوبائی خودمختاری پر کامل یقین رکھتی ہے۔ اگر آئین اور 18ویں ترمیم پر مسلسل عملدرآمد سے گریز کیا گیا تو نئے سوشل کنٹریکٹ کا مطالبہ مزید شدت اختیار کرے گا، کیونکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد صرف آئین، انصاف اور مساوی حقوق کی بنیاد پر ہی قائم رہ سکتا ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت، پارلیمنٹ اور تمام ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ 1973ء کے آئین کی مکمل بحالی، 18ویں آئینی ترمیم پر من و عن عملدرآمد، صوبوں کے آئینی اختیارات کے تحفظ اور بلوچستان سمیت تمام محروم علاقوں کے عوام کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں پائیدار جمہوریت، قومی یکجہتی اور حقیقی استحکام کی راہ ہموار ہوسکے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *