Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہپاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہ

حکومتی دعوے بے بنیاد نکلے، پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں تشویشناک اضافہ


کراچی: پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ کم ہونے کا حکومتی دعویٰ گمراہ کن نکلا، پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مزید سنگین ہوگیا، 10 ماہ میں قرض 18 ارب سے بڑھ کر 240 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ری فنانسنگ اور ری سائیکلنگ سے گردشی قرضہ کم نہیں بلکہ صرف تبدیل ہوا ہے۔

تھنک ٹینک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء کے ابتدائی 10ماہ کے دوران نئے گردشی قرضے کی مالیت 18ارب سے بڑھ کر 240 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی اداروں نے پاور سیکٹر کے مجموعی گردشی قرضوں کے حجم میں 23 فیصد کمی ظاہر کی ہے جب کہ مالی سال 2026ء کے ابتدائی 10ماہ کے دوران نئے گردشی قرضوں کے حجم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگے پاور پرچیز ایگریمنٹس، کمر توڑ کیپسٹی چارجز اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیاں پاور سیکٹر خسارے کی بنیادی وجہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فنانس ایڈجسٹمنٹ سے بجلی کے گردشی قرضوں کو وقتی طور پر دبایا جارہا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *