Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئی

نوجوان نسل اور واقعۂ کربلا سے رہنمائی

عنوان :نوجوان نسل اور واقعۂ کربلا سے رہنمائی
تحریر :ماھر نفسیات نبیلہ شاھد
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، جو ہمیں تاریخِ اسلام کے ایک عظیم اور لازوال واقعے، یعنی واقعۂ کربلا کی یاد دلاتا ہے۔ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق، عدل، صبر، استقامت اور قربانی کی ایسی داستان ہے جو ہر دور کے انسان، خصوصاً نوجوان نسل، کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج جب نوجوان بے شمار فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، واقعۂ کربلا ان کے لیے کردار سازی اور مقصدِ حیات کے تعین کا ایک روشن نمونہ پیش کرتا ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔ جب باطل قوتوں نے اپنی طاقت کے زور پر حق کو دبانے کی کوشش کی تو حضرت امام حسینؓ نے ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کا ساتھ دیا۔ انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصولوں اور سچائی کی خاطر قربانی دینا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ آج کے نوجوانوں کے لیے یہ سبق نہایت اہم ہے کہ وہ تعلیمی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت داری، سچائی اور انصاف کو ترجیح دیں، خواہ اس کے لیے انہیں مشکلات ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔” (سورۃ آل عمران: 200)
یہ آیت صبر اور استقامت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ واقعۂ کربلا اسی قرآنی تعلیم کی عملی تفسیر نظر آتا ہے، جہاں امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے شدید آزمائشوں کے باوجود صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
یہ حدیث نوجوانوں کو جذباتی توازن اور خود پر قابو رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ کربلا کے میدان میں بھی ہمیں جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور اعلیٰ کردار کی مثالیں نظر آتی ہیں۔ شدید مصائب کے باوجود امام حسینؓ نے اخلاق اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
آج کی نوجوان نسل مختلف قسم کے دباؤ، مقابلے اور آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، منشیات کا رجحان، اخلاقی کمزوریاں، بے مقصدیت اور مایوسی جیسے مسائل نوجوانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کربلا کا پیغام انہیں یہ سکھاتا ہے کہ وقتی فائدوں کے بجائے بلند مقاصد کو اپنایا جائے اور کردار کو دولت، شہرت یا طاقت پر ترجیح دی جائے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم امتحان میں نقل کے ذریعے کامیابی حاصل کر سکتا ہو لیکن وہ دیانت داری کو ترجیح دے کر محنت کے راستے کا انتخاب کرے تو یہ کربلا کے اصولِ حق پسندی کی ایک عملی مثال ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نوجوان دوستوں کے دباؤ کے باوجود غلط سرگرمیوں میں شامل نہ ہو اور اپنے اخلاقی اصولوں پر قائم رہے تو وہ بھی واقعۂ کربلا کے پیغام پر عمل کر رہا ہے۔
کربلا نوجوانوں کو قربانی کا درس بھی دیتی ہے۔ آج قربانی کا مفہوم صرف جان دینا نہیں بلکہ وقت، صلاحیتوں اور وسائل کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنا بھی ہے۔ ایک نوجوان جو اپنی تعلیم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے قوم کی خدمت کرتا ہے، وہ درحقیقت کربلا کے جذبۂ ایثار کو زندہ رکھتا ہے۔
واقعۂ کربلا ہمیں اتحاد، وفاداری اور مقصد سے وابستگی کا سبق بھی دیتا ہے۔ امام حسینؓ کے ساتھی تعداد میں کم تھے، لیکن ان کے عزم اور وفاداری میں کوئی کمی نہ تھی۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اچھے دوستوں کا انتخاب کریں، مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں اور اپنے معاشرے میں خیر اور اصلاح کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں۔
آج کے دور میں نوجوانوں کو صرف معلومات کی نہیں بلکہ کردار کی ضرورت ہے۔ تعلیمی ڈگریاں انسان کو پیشہ ور بنا سکتی ہیں، لیکن عظیم کردار ہی اسے معاشرے کا مفید فرد بناتا ہے۔ واقعۂ کربلا اسی عظیم کردار، اصول پسندی اور اخلاقی جرات کا نام ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ کربلا کا پیغام کسی ایک زمانے یا قوم تک محدود نہیں۔ یہ ہر دور کے نوجوانوں کو سچائی، صبر، ہمت، قربانی اور اعلیٰ اخلاق کا درس دیتا ہے۔ اگر ہماری نوجوان نسل واقعۂ کربلا کے اسباق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف انفرادی کردار مضبوط ہوگا بلکہ ایک بہتر، بااخلاق اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔
واقعۂ کربلا صرف ماضی کا ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک عملی تربیت گاہ بھی ہے۔ آج کے نوجوان اگر کربلا کے پیغام کو اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کریں تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بھی بن سکتے ہیں۔
سب سے پہلے نوجوانوں کو اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کرنا چاہیے۔ امام حسینؓ نے اقتدار، شہرت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ حق اور اصلاحِ امت کے لیے جدوجہد کی۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی اپنی تعلیم، صلاحیتوں اور توانائیوں کو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
دوسرا اہم سبق خود احتسابی ہے۔ نوجوان روزانہ چند منٹ اپنے اعمال، رویوں اور فیصلوں کا جائزہ لیں۔ یہ سوچیں کہ آیا ان کے کام سچائی، دیانت داری اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ خود احتسابی انسان کو غلطیوں کی اصلاح اور مسلسل بہتری کی طرف لے جاتی ہے۔
تیسری رہنمائی یہ ہے کہ نوجوان علم کو اپنی طاقت بنائیں۔ کربلا کا پیغام شعور، بصیرت اور حق کی پہچان کا پیغام ہے۔ ایک باشعور نوجوان افواہوں، انتہا پسندی اور منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے تحقیق، مطالعہ اور دلیل کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔
چوتھا سبق خدمتِ خلق ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی انسانیت کی بھلائی اور حق کے تحفظ کے لیے تھی۔ نوجوان اپنے معاشرے میں غریبوں، یتیموں، بزرگوں اور ضرورت مند افراد کی مدد کرکے اس جذبے کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے نیکی کے کام بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ نفرت، جھوٹ اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کے بجائے علم، اخلاق اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔ ایک ذمہ دار نوجوان اپنی تحریر، گفتگو اور آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال بنتا ہے۔
کربلا نوجوانوں کو یہ بھی سکھاتی ہے کہ مشکلات اور ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ زندگی میں امتحانات، مالی مسائل، تعلیمی دباؤ اور دیگر چیلنجز آ سکتے ہیں، لیکن صبر، محنت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
اگر آج کا نوجوان سچائی، دیانت داری، علم، صبر، خدمتِ خلق اور اعلیٰ کردار کو اپنا شعار بنا لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہوگا بلکہ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہی واقعۂ کربلا کا حقیقی پیغام اور نوجوان نسل کے لیے سب سے بڑی رہنمائی ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *