Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان نے 16 ہزار افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کر دیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالپاکستان نے 16 ہزار افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کر دیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحال

سردار احمد خان اچکزئی علم، ادب اور فکری بیداری کا قیمتی سرمایہ ہیں، بدرالدین خان کاکڑ

سردار احمد خان اچکزئی علم، ادب اور فکری بیداری کا قیمتی سرمایہ ہیں، بدرالدین خان کاکڑ

قلم اور اسلحے کا تقابل قوموں کی تقدیر کا فیصلہ علم و شعور سے ہوتا ہے۔

معاشرے کو کلاشنکوف کلچر سے نجات دلا کر نئی نسل کو کتاب دوست بنانا وقت کی اہم ضرورت

کوئٹہ(رنزوریار سے )بدرالدین خان کاکڑ نے غبیزئی قوم کے معزز مشر، سردار احمد خان اچکزئی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک کتاب دوست، قلم دوست اور علم پرور شخصیت ہیں، جنہوں نے ہمیشہ علم، ادب، شعور اور مثبت فکر کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ایسے افراد کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، جو اپنی سوچ، کردار اور سرپرستی کے ذریعے نئی نسلوں کو علم و آگہی کی راہ دکھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر دور میں قوموں کی تقدیر بنانے والے دو راستے سامنے رہے ہیں؛ ایک راستہ قلم کا اور دوسرا اسلحے کا۔ قلم علم، شعور، تحقیق، امن اور ترقی کی علامت ہے، جبکہ اسلحہ اکثر نفرت، خوف اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔ ہمارے وطن اور علاقے کی تاریخ میں بھی ایسے جلیل القدر لوگ گزرے ہیں جنہوں نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا، کتاب کو فروغ دیا، علم کی شمع روشن کی اور نوجوان نسل کو تعلیم، تحقیق اور فکری بیداری کا راستہ دکھایا۔ انہی شخصیات کی بدولت معاشرے میں امید، آگاہی اور ترقی کے چراغ روشن ہوئے۔بدرالدین خان کاکڑ نے مزید کہا کہ دوسری جانب ایسے عناصر بھی رہے جنہوں نے اسلحہ کلچر کو فروغ دیا، کلاشنکوف کو طاقت کی علامت بنایا اور نوجوانوں کو علم و دانش کے بجائے تشدد اور تصادم کے راستے پر ڈال دیا، جس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ طویل عرصے تک بدامنی، خوف اور پسماندگی کا شکار رہا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی سے سبق سیکھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں قلم دینا ہے یا اسلحہ۔ کیونکہ قلم قوموں کو زندگی، شعور اور ترقی دیتا ہے، جبکہ بندوق صرف خاموشی، ویرانی اور محرومی چھوڑ جاتی ہے۔ جو لوگ علم، ادب اور شعور کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں، درحقیقت وہی اپنے وطن، قوم اور آنے والی نسلوں کے حقیقی محسن ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ سردار احمد خان اچکزئی جیسے علم دوست اور کتاب دوست مشران کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی معاشرے میں علمی و فکری روایات کے استحکام کا باعث بنتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ انہی شخصیات کو عزت، احترام اور قدر کی نگاہ سے یاد رکھتی ہے جنہوں نے کتاب، قلم اور علم کی روشنی کو عام کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔کاکاشہیدفاؤنڈیشن کے زیراہتمام احمدخان ایجوکیشن سسٹم اور تعمیرنوشدہ احمدخان کالج کا افتتاح ایک واضح عملی ثبوت و کردار ہے ۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *