Banner

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں

Share

Share This Post

or copy the link

ایمرجنسی سروس قرار دیے جانے کے باوجود ہڑتال کرنا قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔حکومت سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔عوامی حلقوں کا مطالبہ
سول سوسائٹی سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال اور نجی ہسپتالوں میں مبینہ لوٹ مار پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
ڈاکٹرز کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے دیگر قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کرنے چاہئیں، نہ کہ غریب عوام کو اذیت میں مبتلا کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کریں۔
سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کے باعث روزانہ ہزاروں مریض علاج سے محروم ہو کر تکلیف اٹھا رہے ہیں۔
غریب مریضوں کو علاج معالجے میں درپیش مشکلات کا ذمہ دار کون ہے؟
نجی ہسپتال سرمایہ دار طبقے کے لیے موجود ہیں، جبکہ اشرافیہ کو سرکاری ہسپتالوں سے کوئی خاص سروکار نہیں۔
صرف کوئٹہ میں روزانہ ہزاروں غریب مریض علاج سے محروم ہو رہے ہیں۔
صرف سنڈیمن سول ہسپتال کوئٹہ میں روزانہ ہزاروں مریضوں کا او پی ڈی میں معائنہ کیا جاتا ہے، جبکہ سینکڑوں مریضوں کے جراحی آپریشن بھی ہوتے ہیں۔
روزانہ سینکڑوں ایکسرے، ایم آر آئی اور دیگر تشخیصی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح سرجری، زچہ و بچہ، دل، دماغ اور دیگر امراض کے مریض علاج کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔
صرف سول ہسپتال کوئٹہ میں مجموعی طور پر روزانہ دس ہزار سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
صوبے کے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث بے یار و مددگار ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
ڈاکٹرز کو مسیحا کہا جاتا ہے، لیکن موجودہ ہڑتال کے باعث روزانہ ہزاروں مریض مشکلات اور اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں اور طبی شعبے کو قانونی طور پر ایمرجنسی سروس قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ ہائی کورٹ بھی ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹرز کی ہڑتال پر پابندی عائد کر چکی ہے

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us