Banner

پشین میں جے یو آئی کا تاریخ ساز پاور شو

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: عبد الغنی شہزاد

جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی جانب سے پشین میں منعقدہ ’’تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس‘‘ نہ صرف ایک عظیم الشان عوامی اجتماع ثابت ہوئی بلکہ اس نے سیاسی و عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا۔ اس تاریخ ساز پاور شو نے یہ واضح کر دیا کہ جمعیت علماء اسلام کے خلاف مختلف ادوار میں اختیار کیے جانے والے تمام تر سیاسی، انتظامی اور پروپیگنڈا حربوں کے باوجود اس کا اصل سرمایہ، یعنی نظریاتی کارکن اور عوامی وابستگی، آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود اور متحرک ہے۔ کانفرنس سے قبل قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی آمد کے موقع پر کوئٹہ، ایئرپورٹ روڈ، کچلاک اور دیگر علاقوں میں نصب استقبالی بینرز اور جھنڈوں کو ہٹانے کی کوششیں، مختلف مقامات پر موبائل نیٹ ورک کی بندش اور پٹرول کی مبینہ مصنوعی قلت جیسے عوامل نے یہ تاثر مزید گہرا کیا کہ بعض حلقے اس اجتماع کی غیر معمولی عوامی پذیرائی سے خائف تھے، لیکن حالات نے ثابت کر دیا کہ عوامی جذبات اور نظریاتی وابستگیوں کو انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر پشین پہنچا اور اس نے یہ پیغام دیا کہ جب کسی تحریک کی بنیاد عقیدے، نظریے اور عوامی اعتماد پر استوار ہو تو اسے دبانا ممکن نہیں رہتا۔ افسوسناک پہلو یہ بھی رہا کہ ملک کے قومی میڈیا نے اس غیر معمولی اجتماع کو تقریباً نظر انداز کیا، جس سے میڈیا کی غیر جانبداری اور آزادیٔ اظہار کے حوالے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں، تاہم زمینی حقائق کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ لاکھوں لوگوں کی موجودگی خود ایک زندہ حقیقت کے طور پر سامنے آگئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن نے جس اعتماد اور بصیرت کے ساتھ جمعیت علماء اسلام کے تاریخی کردار، مدارس دینیہ کی خدمات، اسلامی تشخص کے تحفظ، ختم نبوت کے دفاع، صوبائی خودمختاری، بلوچستان کے حقوق اور وفاق پاکستان کے استحکام پر گفتگو کی، اس نے حاضرین کے حوصلوں کو مزید جلا بخشی۔ درحقیقت پشین میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام منعقدہ حقوقِ بلوچستان و تحفظِ مدارس کانفرنس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست محض انتخابی سیاست نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، صوبائی حقوق اور عوامی نمائندگی کے گرد گھومتی ایک مضبوط سیاسی فکر کا نام ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بلوچستان کے پشتون اور بلوچ عوام کے حقوق، اٹھارویں ترمیم، صوبائی خودمختاری، دینی مدارس کے تحفظ اور انتخابی شفافیت جیسے اہم قومی مسائل کو اجاگر کیا۔ اگرچہ ان کے بعض سیاسی مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ملک کی ان بڑی سیاسی جماعتوں میں شامل ہے جس کی جڑیں عوام میں گہری ہیں اور جس کے کارکن ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ پشین کا عظیم الشان اجتماع اسی عوامی قوت کا مظہر تھا۔ ریاستی اداروں اور مقتدر حلقوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ عوامی بنیادوں پر کھڑی جماعتوں کا راستہ رکاوٹوں، دباؤ یا سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ عوامی قوتوں کو محدود کرنے کی ہر کوشش نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ آئین اور جمہوریت کے دائرے میں تمام سیاسی قوتوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ عوام خود فیصلہ کریں کہ ان کی نمائندگی کون کرے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن کے پشین خطاب کا بنیادی پیغام بھی یہی تھا کہ ملک کے استحکام، وفاق کی مضبوطی اور قومی یکجہتی کا راستہ آئین کی بالادستی، عوام کے حقوق کے احترام اور حقیقی جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہی وہ سوچ ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت اور نفرت کی سیاست کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے وحدت، اخوت اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا، جبکہ مدارس دینیہ کے حوالے سے ان کا یہ مؤقف بھی توجہ طلب ہے کہ یہ ادارے صدیوں سے علومِ قرآن و سنت کے امین ہیں اور انہیں مسائل کا سبب نہیں بلکہ معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر کا مرکز سمجھا جانا چاہیے۔ عالمی سیاست، امت مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین کے مسئلے پر ان کی گفتگو نے بھی حاضرین کے جذبات کی ترجمانی کی اور اسلامی دنیا کے مشترکہ لائحۂ عمل کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ ان کا یہ مؤقف کہ جمعیت علماء اسلام محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ دو صدیوں پر محیط دینی، فکری اور عوامی جدوجہد کا تسلسل ہے، تاریخ کے تناظر میں ایک مضبوط حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ درحقیقت پشین کا یہ عظیم اجتماع اس حقیقت کا عملی ثبوت بن کر سامنے آیا کہ جمعیت علماء اسلام آج بھی ملک کی ایک بڑی عوامی، دینی اور نظریاتی قوت ہے، اور اگر کسی اجتماع کو روکنے کے لیے بینرز اتارنے، نیٹ ورک بند کرنے اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ضرورت محسوس کی جائے تو یہ دراصل اس کی اہمیت، اثر پذیری اور عوامی مقبولیت کا سب سے بڑا اعتراف ہوتا ہے۔ پشین کانفرنس نے ثابت کر دیا کہ عوامی قوت کو وقتی رکاوٹوں سے دبایا جا سکتا ہے مگر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور جب نیت، مقصد اور نظریہ زندہ ہوں تو عوامی تحریکیں مزید مضبوط ہو کر ابھرتی ہیں۔

پشین میں جے یو آئی کا تاریخ ساز پاور شو

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us