Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
زیارت کراس پر ٹول پلازہ قائم، ٹرانسپورٹرز سے ٹیکس وصولی شروعکوئٹہ میں بھکاریوں کی آڑ میں جرائم کی شکایات، شہریوں میں تشویشحبیب اللہ عارف کو کمشنر مردان ڈویژن چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمعروف پاکستانی کاروباری شخصیت عبد الرسول بھٹی پی ایف یو جے ملائشیا چیپٹر کے چیئرمین منتخبتربت: مرکزی انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس، بارڈر مسائل پر تشویشسیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئےوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوالزیارت کراس پر ٹول پلازہ قائم، ٹرانسپورٹرز سے ٹیکس وصولی شروعکوئٹہ میں بھکاریوں کی آڑ میں جرائم کی شکایات، شہریوں میں تشویشحبیب اللہ عارف کو کمشنر مردان ڈویژن چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمعروف پاکستانی کاروباری شخصیت عبد الرسول بھٹی پی ایف یو جے ملائشیا چیپٹر کے چیئرمین منتخبتربت: مرکزی انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس، بارڈر مسائل پر تشویشسیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئےوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوال

وفاقی آئینی عدالت کا سی ڈی اے کو 4 ہفتوں میں کچی آبادی ریگولرائزیشن پالیسی بنانے کا حکم

وفاقی آئینی عدالت میں کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن کے کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے کو 4 ہفتوں میں کچی آبادی ریگولرائزیشن پالیسی بنانے کا حکم دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہم سی ڈی اے کو آخری موقع دے رہے ہیں۔

کچی آبادی کے مکینوں کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیس پر تیاری مکمل ہے تو دلائل کا آغاز کر دیں،۔

صل صدیقی نے کہا میں نے سی ڈی اے کی رپورٹ پر جواب جمع کرانا ہے لیکن دلائل کے لیے تیار ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ کی اس کیس میں استدعا کیا ہے؟کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے لیے کوئی خاص جگہ مختص ہے؟

فیصل صدیقی نے کہااسلام آباد کی 1995 سے آج تک کی ہاؤسنگ پالیسیز میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا،کچی آبادیوں کی یہ رحم کی اپیل نہیں جائز حق کی درخواست ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکچی آبادیاں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھیں، فیصل صدیقی بولےپئلے آپ دلائل دے دیں آپ تو ویسے بھی مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں یہ ہمیں 2001 اور 2016 کی پالیسی کے باوجود ہمارے گھروں سے بےگھر کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا اگر پالیسی موجود ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ فیصل صدیقی نے کہا مسئلہ پالیسی پر عملدرآمد کا ہے جو آپ کے حکم سے ممکن ہو سکتی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا عدالتی فیصلوں کے ذریعے کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن کا کہا گیا، کچی آبادیوں کو 1995 میں تسلیم کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پچھلی بار آپ نے کہا کہ جو حکم عدالت دے گی وہ قبول ہو گا، وکیل سی فی ڈی اے نے کہا اسلام آباد میں کچی آبادی کے نام پر دی گئی جگہ کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔

کچی آبادی میں ایک شخص کے دس دس بچوں کے لیے 10 گھر الگ نہیں ہو سکتے،ہمیں اس طرح کچی آبادیوں کو خالی کرانے میں بہت مسئلہ ہو رہا ہے، کچی آبادیوں میں 4 لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں، ماسٹر پلان میں تسلیم کیا گیا کہ 50 فیصد اسلام آباد کچی آبادی میں رہ رہا ہے۔

اسلام آباد ہے یہ غزہ تو نہیں ہے،دو ہزار سولہ سے آج تک پالیسی نہیں بن سکی،راتوں رات کچی آبادیاں مسمار ہو رہی ہیں، چئیرمین کی تبدیلی کی وجہ سے سی ڈی اے پالیسی نہیں بنا سکا۔

سی ڈی اے کے اگلے بورڈ کے اجلاس میں پالیسی منظور کر لیں گے، عدالت نے پالیسی بنانے کا وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *