Banner

تعلیمی ادارے بند کرنا مسائل کا حل نہیں جہالت کو فروغ دینا ہے، عارفہ صدیق

featured
Share

Share This Post

or copy the link

کوئٹہ (پ ر)یہ کیسا انصاف ہے کہ اندھیروں سے لڑنے کے نام پر علم کے چراغ ہی بجھا دیے جائیں؟پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی صوبائی سیکرٹری برائے خواتین و انسانی حقوق، آغلی عارفہ صدیق ایڈووکیٹ نے حکومت کے اس تعلیم دشمن فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کی بندش دراصل نئی نسل کے خوابوں کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ طلبہ کے روشن مستقبل پر حملہ ہے،صوبے کو مزید جہالت اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش ہے،اور پہلے سے کمزور تعلیمی ڈھانچے پر ایک اور کاری ضرب ہے۔ آغلی عارفہ صدیق نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی بحران حل کرنا چاہتی ہے تو متبادل راستے تلاش کرے! تعلیم کو بند کرنا کوئی حل نہیں، بلکہ یہ قوم کے مستقبل کو تاریکی کے حوالے کرنا ہے۔ ہم اپنی نسلوں کو اندھیروں میں نہیں دھکیلنے دیں گے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کے اگر یہ ظالمانہ فیصلہ فوری واپس نہ لیا گیا تو پھر سڑکیں بولیں گی، عوام اٹھ کھڑے ہوں گے، اور ایک بھرپور احتجاجی تحریک اس ناانصافی کے خلاف جنم لے گی۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی خاموشی اب جرم ہے! اٹھو، متحد ہو جاو¿، اور تعلیم کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرو کیونکہ یہی آواز آنے والی نسلوں کا مقدر بدل سکتی ہے

تعلیمی ادارے بند کرنا مسائل کا حل نہیں جہالت کو فروغ دینا ہے، عارفہ صدیق

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us