Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خیبر پختونخوا میں آپریشن 11 گرج کے تحت متعدد خوارج ہلاک، کئی ٹھکانے بھی تباہ27ویں آئینی ترمیم اور اس پر تنقیدمحمد فیصل ندیم سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقررتاریخ رقم کرنے والے نرمل پرجا براڈ پیک پر زندگی کی بازی ہار گئےڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سکھر کا روہڑی تا رحیم یار خان فٹ پلیٹ معائنہ، ریلوے آپریشن، ٹریک اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہجھل مگسی: پولیس کی بڑی کاروائی، ڈکیتی کے مختلف واقعات میں ملوث دو ملزمان گرفتار، مسروقہ سامان برآمدلسبیلہ میں این آر ایس پی کی عوامی خدمت: جہانگیر بلوچ کی قیادت، سلمان ستار رونجھو کی عملی کاوشیںشیخ الحدیث مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہکوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پولیس کو ہنگامی الرٹ جاریآزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، پی پی کا الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہخیبر پختونخوا میں آپریشن 11 گرج کے تحت متعدد خوارج ہلاک، کئی ٹھکانے بھی تباہ27ویں آئینی ترمیم اور اس پر تنقیدمحمد فیصل ندیم سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقررتاریخ رقم کرنے والے نرمل پرجا براڈ پیک پر زندگی کی بازی ہار گئےڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سکھر کا روہڑی تا رحیم یار خان فٹ پلیٹ معائنہ، ریلوے آپریشن، ٹریک اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہجھل مگسی: پولیس کی بڑی کاروائی، ڈکیتی کے مختلف واقعات میں ملوث دو ملزمان گرفتار، مسروقہ سامان برآمدلسبیلہ میں این آر ایس پی کی عوامی خدمت: جہانگیر بلوچ کی قیادت، سلمان ستار رونجھو کی عملی کاوشیںشیخ الحدیث مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہکوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پولیس کو ہنگامی الرٹ جاریآزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، پی پی کا الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ

عالمی سیاست پسِ پردہ حقائق

عالمی سیاست پسِ پردہ حقائق

قارئین کرام! عالمی سیاست کے اسٹیج پر طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ جوڑ توڑ، خفیہ معاہدات اور تزویراتی اتحاد ایک ایسی حقیقت ہیں جو عوامی منظر نامے سے کوسوں دور طے پاتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل، اور بھارت جیسے ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی معیشت، توانائی کے وسائل اور جغرافیائی حدود پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے ہی ایسے خفیہ پروٹوکولز تیار کیے گئے جن کے تحت مسلم ممالک کے قدرتی وسائل بالخصوص تیل اور گیس کی دولت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے بیانیے تخلیق کیے گئے۔ ان سو خفیہ نکات کا لب لباب یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے فالس فلیگ آپریشنز (False Flag Operations) ترتیب دیتی ہیں جن کا مقصد کسی خاص خطے میں عدم استحکام پیدا کر کے وہاں فوجی مداخلت کا جواز پیدا کرنا ہوتا ہے۔ نائن الیون کے بعد کی صورتحال ہو یا مشرق وسطیٰ میں عرب بہار کے نام پر برپا کی جانے والی تبدیلیاں، ان سب کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کے وہ مشترکہ سیلز (Cells) متحرک تھے جو صدور اور وزرائے اعظم کی سطح پر ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں طے پائے تھے۔ ان ملاقاتوں میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس طرح عالم اسلام کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کر کے ان کی داخلی قوت کو کمزور کیا جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر ایک متحد بلاک کے طور پر نہ ابھر سکیں۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام اور سائنسی اجارہ داری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر ان کی خود مختاری کا سودا کیا جا سکے۔ خفیہ دستاویزات اور وکی لیکس جیسے انکشافات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کئی ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کی طوالت کے لیے قومی اثاثوں اور سیکیورٹی مفادات پر سمجھوتے کیے۔ یہ لیڈرز ظاہری طور پر عوامی ہمدردی کا دم بھرتے ہیں لیکن بند کمروں میں ہونے والے معاہدوں میں وہ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کا عہد کرتے ہیں۔ اسی طرح بائیولوجیکل وارفیئر (Biological Warfare) اور مصنوعی وبائی امراض کا پھیلاؤ بھی اسی گریٹ گیم کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد عالمی معیشت کو ری سیٹ کرنا اور ادویات ساز کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر سمیٹنا ہے۔ میڈیاء وارفیئر کے ذریعے اسلاموفوبیا کو ہوا دینا اور مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کو انتہا پسندی سے جوڑنا ایک منظم نفسیاتی جنگ ہے تاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والے کسی بھی اقدام کو امن کی کوشش قرار دے کر جائز ثابت کیا جا سکے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد ایک ایسا نیا عالمی نظام (New World Order) وضع کرنا ہے جہاں طاقت کا سرچشمہ صرف چند مخصوص ہاتھوں میں ہو اور عالم اسلام محض ایک منڈی (Market) بن کر رہ جائے۔ عالمی سطح پر ہونے والے نامعلوم بم دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات اکثر اوقات ان تزویراتی اہداف کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں جن سے عالمی رائے عامہ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ جغرافیائی سیاست میں بھارت اور اسرائیل کا بڑھتا ہوا گٹھ جوڑ خطے کے نقشے بدلنے اور مسلم ممالک کی ایٹمی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ خفیہ ایجنڈوں کے تحت عالمی معیشت کو ڈیجیٹل کرنسی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ ہر فرد کی مالیاتی زندگی پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ تعلیم اور کلچر کے نام پر مسلم نوجوانوں کی فکری بنیادوں کو تبدیل کرنا اور انہیں ان کی اصل پہچان سے دور کرنا ایک خاموش زہر کی طرح رگوں میں اتارا جا رہا ہے۔ ان سو باتوں کا نچوڑ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے بڑے واقعات، چاہے وہ سیاسی ہوں، معاشی ہوں یا صحت سے متعلق، اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ طاقتور ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیاں پسِ پردہ ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں تاکہ عالمی وسائل کی بندر بانٹ میں ان کا حصہ محفوظ رہے۔ یہ طاقتیں بظاہر ایک دوسرے کی مخالف نظر آ سکتی ہیں لیکن جب بات عالم اسلام کو دبانے یا عالمی وسائل پر قبضے کی ہو تو ان کے مفادات ایک ہو جاتے ہیں۔ جیو پولیٹیکل نقشوں میں تبدیلی، سمندری تجارتی راستوں پر کنٹرول، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی ذہنوں کی پروگرامنگ وہ ہتھیار ہیں جو مستقبل قریب میں مزید شدت سے استعمال کیے جائیں گے۔ دنیا بھر میں جاری بے چینی اور معاشی بدحالی دراصل اس بڑے معاشی ری سیٹ کا پیش خیمہ ہے جس میں غریب ممالک کی بقا محض ان کی غلامی میں پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ عالمی امن کا راگ الاپنے والے ہی درحقیقت جدید دور کے وہ معمار ہیں جو انسانیت کو ایک غیر مرئی زنجیر میں جکڑنے کے درپے ہیں۔ ان خفیہ سرگرمیوں کا مقصد ایک ایسی عالمی حکومت کا قیام ہے جہاں اخلاقیات اور مذہب کی کوئی جگہ نہ ہو اور صرف مادہ پرستی اور طاقت کا سکہ چلے۔ اس مقالے کا مقصد ان حقائق سے پردہ اٹھانا ہے جو عام انسان کی نظروں سے اوجھل رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ حقیقت کو سمجھنے کے بجائے محض جذباتی نعروں اور میڈیا کے سحر میں گرفتار رہے۔ آخر کار، یہ سب طاقت کے اس عالمی کھیل کا حصہ ہے جہاں ہر مہرہ اپنی جگہ پر ایک خاص وقت کے لیے فٹ کیا جاتا ہے اور جب اس کا کام ختم ہو جاتا ہے تو اسے بے رحمی سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *