Banner
Daily Sahafat Quetta
November 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عبدالاکرام کو ایڈیشنل سیکرٹری یونیورسٹیز خیبرپختونخوا تعینات ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینحکیم سراج الدین چانڈیو کی حکماء کے حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد، سندھ بھر میں ایک ہی نعرہ گونجنے لگاسید علی گیلانی پیپلز پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں، حیات اللہ خان کاکڑصحافی امام بخش بلیدی کیخلاف ایف آئی آر انصاف کے منافی ہے، بلوچستان میڈیا فورمبلوچستان میڈیا فورم کو صحافیوں کے اتحاد و اتفاق کا اعزاز حاصل ہے، میجر جمالیتعلیم کے بغیر ترقی و خوشحالی ناممکن ہے،صالح محمد کاکڑجنگل بھی ہمیں سکھا رہا ہے، ہم سیکھ کیوں نہیں رہے؟پنجپائی کے متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف دیا جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقچاغی بازار میں حجام کی دکان پر نامعلوم افراد کی فائرنگ، 1 شخص جاں بحق، 2 زخمیڈیرہ بگٹی میں کچی کینال کے قریب بارودی سرنگ کا دھماکہ، 1 شخص جاں بحقعبدالاکرام کو ایڈیشنل سیکرٹری یونیورسٹیز خیبرپختونخوا تعینات ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینحکیم سراج الدین چانڈیو کی حکماء کے حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد، سندھ بھر میں ایک ہی نعرہ گونجنے لگاسید علی گیلانی پیپلز پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں، حیات اللہ خان کاکڑصحافی امام بخش بلیدی کیخلاف ایف آئی آر انصاف کے منافی ہے، بلوچستان میڈیا فورمبلوچستان میڈیا فورم کو صحافیوں کے اتحاد و اتفاق کا اعزاز حاصل ہے، میجر جمالیتعلیم کے بغیر ترقی و خوشحالی ناممکن ہے،صالح محمد کاکڑجنگل بھی ہمیں سکھا رہا ہے، ہم سیکھ کیوں نہیں رہے؟پنجپائی کے متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف دیا جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقچاغی بازار میں حجام کی دکان پر نامعلوم افراد کی فائرنگ، 1 شخص جاں بحق، 2 زخمیڈیرہ بگٹی میں کچی کینال کے قریب بارودی سرنگ کا دھماکہ، 1 شخص جاں بحق

حکیم سراج الدین چانڈیو کی حکماء کے حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد، سندھ بھر میں ایک ہی نعرہ گونجنے لگا

تنھنجو سائیں منھنجو سائیں، سراج سائیں سراج سائیں

تحریر :حکیم حسن عابد بھٹو نوڈیرو ،لاڑکانہ سندہ

سندھ بھر میں حکماء برادری کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد اب ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے، اور اس تحریک کے مرکز میں ایک ہی نام گونج رہا ہے، حکیم سراج الدین چانڈیو۔ کراچی سے کشمور تک، حیدرآباد سے لاڑکانہ تک، سکھر سے میرپورخاص تک، ہر ضلع، ہر تعلقہ اور ہر گاؤں سے ایک ہی آواز اٹھ رہی ہے کہ تنھنجو سائیں منھنجو سائیں، سراج سائیں سراج سائیں۔
حکیم سراج الدین چانڈیو نے جب حکماء کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تو اس وقت حکماء برادری مختلف مسائل کا شکار تھی۔ طب یونانی کو نظرانداز کیا جا رہا تھا، حکماء کے مطبوں کو بلا جواز تنگ کیا جا رہا تھا، لائسنس اور رجسٹریشن کے معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی تھیں، اور قدیم و آزمودہ طریقہ علاج کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایسے مشکل حالات میں حکیم سراج الدین چانڈیو نے ہمت نہیں ہاری، بلکہ وہ حکماء کے حقوق کے لیے میدان میں نکل آئے اور ایک منظم و مؤثر جدوجہد کا آغاز کیا۔
ان کی جدوجہد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے حکماء کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ انہوں نے سندھ کے تمام اضلاع کا دورہ کیا، حکماء سے ملاقاتیں کیں، ان کے مسائل سنے اور ان کو حل کرانے کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ حکیم صرف علاج نہیں کرتا، بلکہ وہ انسانیت کی خدمت کرتا ہے، اور اس خدمت گار کی عزت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔
حکیم سراج الدین چانڈیو کی قیادت میں حکماء برادری نے کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے حکیموں کے جائز مطالبات کو حکومتی ایوانوں تک پہنچایا، طب یونانی کی اہمیت کو اجاگر کیا، اور نوجوان حکماء میں ایک نیا جذبہ پیدا کیا۔ آج سندھ کا ہر حکیم خود کو تنہا نہیں سمجھتا، بلکہ وہ خود کو ایک مضبوط اور منظم برادری کا حصہ سمجھتا ہے۔
حکماء برادری کا کہنا ہے کہ سراج سائیں نے ہمیں عزت دی ہے، ہمیں پہچان دی ہے اور ہمیں اپنے حقوق کے لیے لڑنا سکھایا ہے۔ وہ ہمارے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، ہر حکیم کے دروازے پر جاتے ہیں اور ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج سندھ بھر سے ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے کہ تنھنجو سائیں منھنجو سائیں، سراج سائیں سراج سائیں۔حکیم سراج الدین چانڈیو کی جدوجہد صرف حکماء تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ غریب اور مستحق مریضوں کے لیے بھی آواز بلند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طب یونانی سستی، محفوظ اور قدرتی علاج ہے، جس کو عام آدمی تک پہنچانا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت طب یونانی کو سرکاری سرپرستی دے، حکماء کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائے۔
سندھ کے حکماء نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے قائد حکیم سراج الدین چانڈیو کی قیادت میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، جب تک کہ ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جدوجہد کسی ایک شخص کی نہیں، بلکہ پوری برادری کی عزت اور بقاء کی جدوجہد ہے، اور اس جدوجہد میں سراج سائیں ہمارا فخر ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *