Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلاوتھل نیشنل بینک ڈکیتی کیس میں بڑی پیش رفت، 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان گرفتارکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکت“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلاوتھل نیشنل بینک ڈکیتی کیس میں بڑی پیش رفت، 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان گرفتارکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکت

“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”

“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”
تحریر:پروفیسر ڈاکٹر فضلیت بانو

ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی جنم لیتی ہیں جن کی فکر، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتیں اپنے عہد کی حدود سے نکل کر آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہیں۔ ان شخصیات کا امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مسائل کو محض بیان نہیں کرتیں بلکہ ان کے اسباب کا ادراک کرتے ہوئے مستقبل کے لیے فکری راستے بھی بہت متعین کرتی ہیں۔ علامہ محمد اقبال? ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جن کا کلام ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی معنویت، تازگی اور اثر انگیزی برقرار رکھے ہوئے ہے۔9 نومبر برصغیر کی علمی، ادبی اور فکری تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب 1877ئ میں سیالکوٹ کی سرزمین پر ایک ایسی شخصیت نے جنم لیا جس نے اردو اور فارسی شاعری کو نئی فکری جہتیں عطا کیں۔ اقبال محض شاعر نہیں تھے بلکہ مفکر، فلسفی، مصلح، ملت کے نباض اور انسانی عظمت کے علم بردار تھے۔ ان کی شاعری میں فرد کی تعمیر، ملت کی بیداری، خودی کی سربلندی، عشق کی حرارت، علم کی روشنی، عمل کی قوت اور انسان کی روحانی بالیدگی جیسے موضوعات اس انداز سے سامنے آتے ہیں کہ قاری اپنے وجود، معاشرے اور کائنات کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اقبال کا یومِ ولادت منانے کا حقیقی مقصد صرف ان کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ ان کے افکار کو عصرِ حاضر کے تناظر میں سمجھنا، ان کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا اور ان کے پیغام کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔قبال کا فکری نظام کسی ایک موضوع یا نظریے تک محدود نہیں۔ ان کی شاعری میں فلسفہ، مذہب، تاریخ، تہذیب، سیاست، معاشرت، اخلاقیات اور نفسیات کے مختلف پہلو ایک مربوط فکری وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان محض حالات کا تابع نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں، ارادے اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے حالات کو تبدیل کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ آج کا انسان سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب، مصنوعی ذہانت، معاشی مسابقت اور عالمی رابطوں کے باوجود ذہنی انتشار، اخلاقی کمزوری، عدم برداشت اور شناخت کے بحران سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں اقبال کی شاعری انسان کو اپنی اصل پہچان، مقصدِ حیات اور ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔اقبال کا پیغام یہ ہے کہ ترقی کا حقیقی معیار صرف مادی آسائشوں کاحصول نہیں بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر بھی ہے۔ اگر علم انسان کو شعور، سائنس انسان کو فلاح اور ترقی انسان کو انسانیت سے قریب نہ کرے تو اس کی افادیت نامکمل رہ جاتی۔اقبال کے فلسفے کا مرکزی تصور خودی ہے۔ خودی سے مراد غرور، خود پسندی یا دوسروں کو کمتر سمجھنا نہیں بلکہ اپنی ذات کی پہچان، اپنی صلاحیتوں کا شعور، اپنے مقصد سے وابستگی اور اپنی شخصیت کی مسلسل تکمیل ہے۔اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اپنی پوشیدہ قوتوں کو پہچانے، احساسِ کمتری سے نجات حاصل کرے اور اپنی زندگی کو بلند مقاصد کے حصول کے لیے وقف کرے۔ ان کے نزدیک خودی ایک متحرک قوت ہے جو انسان کو جمود سے نکال کر عمل، تخلیق اور جدوجہد کی طرف لے جاتی ہے۔اقبال کا یہ شعر خودی کے فلسفے کی بنیادی روح کو واضح کرتا ہے. “خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے” یہ شعر محض بلند حوصلگی کا درس نہیں بلکہ انسانی ارادے، کردار اور روحانی ارتقا کی ایک مکمل فکری جہت پیش کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں نوجوان نسل کو شناخت کے بحران، سماجی دباو¿، غیر ضروری تقابل اور ناکامی کے خوف کا سامنا ہے۔ اقبال کا فلسف? خودی نوجوانوں کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں، اپنی انفرادیت کو پہچانیں اور دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لائیں۔ آج کے تعلیمی نظام میں بھی خودی کا تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ خود اعتماد، ذمہ دار اور باکردار انسان تیار کرنا ہے۔اقبال نے شاہین کو اپنی شاعری میں ایک اہم علامت کے طور پرءاستعمال کیا ہے۔ شاہین بلند پروازی، خود اعتمادی، آزادی، غیرت، جرا?ت اور مسلسل حرکت کی علامت ہے۔ وہ محدود فضا میں رہنے کے بجائے وسعتوں کا انتخاب کرتا ہے۔اقبال نوجوانوں کو شاہین کی صفات اپنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نوجوانوں میں بلند نظری، خود انحصاری، مقصد سے وابستگی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہونی چاہیے۔وہ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ “تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ،ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں” موجودہ دور میں شاہین کا استعارہ مزید معنویت اختیار کر گیا ہے۔ آج دنیا علم، ٹیکنالوجی، تحقیق، معاشی ترقی اورتخلیقی صلاحیتوں کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ہماری نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ محدود سوچ، مایوسی اور احساسِ محرومی سے نکل کر عالمی سطح پر اپنی علمی اور تخلیقی شناخت قائم کرے۔اقبال کا شاہین ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کامیابی محض بلند مقام حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خودداری، اصول پسندی اور مقصدیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔اقبال کے ہاں عشق محض جذباتی وابستگی یا رومانوی کیفیت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی اور تخلیقی قوت ہے جو انسان کے اندر یقین، جرا?ت، استقامت اور مقصد کے لیے قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ عشق انسان کو محض عقل کے محدود دائرے سے نکال کر زندگی کی گہری حقیقتوں سے روشناس کراتا ہے۔اقبال عقل کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے بلکہ عقل اور عشق کے امتزاج کو انسانی ارتقا کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ عقل راستے کی نشاندہی کرتی ہے جبکہ عشق انسان کو اس راستے پر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ان کا شعر ہے: “بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی ” اس شعر میں عشق کی وہ قوت نمایاں ہوتی ہے جو خطرات اور مشکلات کے باوجود اپنے مقصد سے دست بردار نہیں ہوتی۔آج کا معاشرہ عمل کے بجائے دعووں، تحقیق کے بجائے سطحی معلومات اور کردار کے بجائے ظاہری نمائش کی طرف مائل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں اقبال کا تصورِ عشق انسان کو مقصد کے ساتھ وابستگی، عملی جدوجہد اور مسلسل کوشش کا درس دیتا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کی حقیقی خوب صورتی حرکت، جستجو اور تخلیقی عمل میں پوشیدہ ہے۔اقبال نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کا خصوصی موضوع بنایا۔ ان کے نزدیک نوجوان کسی قوم کا مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کے حال کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی فکری تربیت، کردار سازی اور علمی استعداد کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اقبال نوجوانوں کو ماضی کی عظمت سے آگاہ کرتے ہوئے مستقبل کی تعمیر کا شعور عطا کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان محض اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر نہ کریں بلکہ اپنی صلاحیتوں سے نئے کارنامے انجام دیں۔ان کا یہ شعر نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔ “نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی” اس شعر میں اقبال نے نوجوان نسل اور اجتماعی معاشرتی زندگی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مناسب تربیت، علمی رہنمائی اور سازگار ماحول میسر آ جائے تو بظاہر کمزور اور منتشر معاشرہ بھی غیر معمولی ترقی کر سکتا ہے۔آج نوجوان نسل کو کئی فکری اور سماجی چیلنجز درپیش ہیں۔ سوشل میڈیا کی غیر ضروری مصروفیات، معلومات کی بہتات، مطالعے سے دوری، بے مقصد مسابقت اور فوری کامیابی کی خواہش نے سنجیدہ فکر اور گہری بصیرت کو متاثر کیا ہے۔ اقبال کا پیغام نوجوانوں کو مطالعے، تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں اقبال کی شاعری کو محض نصابی اسباق تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے فلسفے کو نوجوانوں کی عملی زندگی، تعلیمی سرگرمیوں اور کردار سازی سے مربوط کیا جائے۔ تعلیم، علم اور تحقیق کے حوالے سے فکرِاقبال کی معنویت سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔اقبال علم کو انسانی عظمت اور اجتماعی ترقی کا بنیادی وسیلہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک علم کا مقصد صرف معلومات کا ذخیرہ جمع کرنا نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش، شعور کی بیداری اور انسانی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔اقبال نے مسلمانوں کی علمی پسماندگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور انہیں جدید علوم، تحقیق اور اجتہادی فکر کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی تصنیف تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ اس سلسلے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جس میں انہوں نے اسلامی فکر کی تشکیلِ نو اور جدید ذہن کے سوالات کے حوالے سے علمی مباحث پیش کیے۔اقبال کا تصورِ علم جمود کے بجائے حرکت، تقلید کے بجائے تحقیق اور سطحی مطالعے کے بجائے گہری فکری جستجو پر مبنی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان جدید دنیا کے علمی اور سائنسی ارتقا سے استفادہ کریں اور اپنی تہذیبی و فکری شناخت کو بھی برقرار رکھیں۔ آج مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی علوم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور جدید سائنسی دریافتوں نے انسانی زندگی کے امکانات کو وسیع کر دیا ہے۔ ان حالات میں اقبال کی فکر ہمیں یہ سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ کیا ہمارا علم انسانیت کی فلاح، عدل، امن اور اخلاقی ترقی کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کی معنویت محض ادبی نہیں رہتی بلکہ ایک جامع تہذیبی اور اخلاقی رہنمائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اقبال کے نزدیک کسی قوم کی فکری زندگی کا تسلسل اس کی تخلیقی قوت اور اجتہادی صلاحیت سے وابستہ ہے۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ بدلتے ہوئے حالات میں نئے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے کے لیے آزادانہ غور و فکر ضروری ہے۔اقبال نے اپنی کتاب تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ میں اجتہاد کے تصور کو خاص اہمیت دی۔ ان کے نزدیک اسلامی فکر کو جدید علمی، سماجی اور تہذیبی سوالات کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہیے۔ عصرِ حاضر میں معاشرتی ڈھانچے، معاشی نظام، تعلیمی ضروریات اور سائنسی ترقی نے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ ان سوالات کا جواب محض ماضی کی مثالیں دہرانے سے نہیں مل سکتا بلکہ علمی دیانت، دینی بصیرت اور عصری شعور کے ساتھ ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اقبال کا یہ تصور ہمیں فکری جمود سے بچاتا اور علمی مکالمے کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ وہ تقلیدِ محض کے بجائے شعوری وابستگی اور دلیل کی بنیاد پر فکری استحکام کے حامی ہیں۔اقبال کی شاعری میں ملتِ اسلامیہ کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو رنگ، نسل، زبان، جغرافیے اور علاقائی اختلافات سے بلند ہو کر ایک مشترکہ فکری اور روحانی رشتے میں منسلک دیکھنا چاہتے ہیں۔اقبال کے نزدیک ملت کی قوت اس کے مشترکہ عقائد، اعلیٰ اخلاقی اقدار، اجتماعی شعور اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ وہ مسلمانوں کو انتشار، فرقہ واریت، تعصبات اور باہمی نفرت سے نکل کر اتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتے ہیں۔ان کا مشہور شعر ہے “ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر” یہ شعر جغرافیائی حدود سے بلند ہو کر امت کے اجتماعی تشخص اور وحدت کا پیغام دیتا ہے۔آج عالمِ اسلام کو سیاسی انتشار، معاشی عدم استحکام، علمی پسماندگی، معاشرتی تقسیم اور باہمی اختلافات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اقبال کا تصورِ ملت ان حالات میں اتحاد، تعاون اور مشترکہ ترقی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔تاہم اقبال کا اتحاد محض نعرے یا جذباتی وابستگی نہیں بلکہ علم، عدل، معاشی خود کفالت، اخلاقی استحکام اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی اتحاد ہے۔پاکستان کے فکری پس منظر میں اقبال کا نام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیبی، مذہبی اور سیاسی شناخت کے حوالے سے ایک واضح فکری موقف پیش کیا۔ 1930ئ کے خطب? الٰہ آباد میں انہوں نے شمال مغربی ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا، جس نے بعد میں تحریکِ پاکستان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔اقبال کا تصورِ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے تھے جہاں مسلمان اپنی تہذیبی شناخت، دینی اقدار اور اجتماعی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ان کے نزدیک ریاست کی بنیاد عدل، مساوات، اخوت، آزادی اور انسانی احترام پر ہونی چاہیے۔ وہ ایسی اجتماعی زندگی کے خواہش مند تھے جہاں معاشی استحصال، طبقاتی تفریق اور سماجی ناانصافی کی گنجائش نہ ہو۔آج پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں تعلیمی عدم مساوات، معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوریاں اور اخلاقی زوال نمایاں ہیں۔ ان مسائل کے تناظر میں اقبال کی فکر ہمیں قومی تعمیرِ نو کا راستہ دکھاتی ہے۔موجودہ دور میں فکری آزادی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا، ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات کی ترسیل کو آسان بنا دیا ہے، لیکن ساتھ ہی افواہوں، غیر مصدقہ معلومات اور فکری انتشار کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اقبال کا فلسفہ ہمیں تنقیدی شعور، تحقیق اور آزادانہ غور و فکر کی اہمیت سمجھاتا ہے۔اکیسویں صدی کا انسان ایک ایسے ڈیجیٹل معاشرے میں زندگی گزار رہا ہے جہاں معلومات تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل تعلیم اور عالمی رابطوں نے انسانی زندگی کے انداز تبدیل کر دیے ہیں۔تاہم اس ترقی کے ساتھ کئی فکری اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ سطحی معلومات کو علم سمجھ لینا، دوسروں کی رائے کو بلا تحقیق قبول کرنا، وقت کا غیر ضروری استعمال اور ظاہری شہرت کی خواہش ایسے رجحانات ہیں جو انسانی شخصیت کی گہرائی کو متاثر کر سکتے ہیں. اقبال کا پیغام ان حالات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ انسان کو محض معلومات کا صارف نہیں بلکہ علم کا متلاشی، حقیقت کا جستجو کرنے والا اور اپنے وقت کا تخلیقی کردار بننے کی دعوت دیتے ہیں۔اگر اقبال کے تصورِ خودی کو ڈیجیٹل عہد سے مربوط کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان ٹیکنالوجی کا استعمال اپنی صلاحیتوں کے فروغ، تحقیق، تعلیم اور اجتماعی فلاح کے لیے کرے، نہ کہ اپنی فکری آزادی کو اس کے سپرد کر دے۔مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں اقبال کا اخلاقی اور روحانی تصورِ انسان ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ انسانی ذمہ داری، اخلاقی شعور اور دانش مندی کو بھی ترقی دینی چاہیے۔اقبال کی فکر کا دائرہ کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں۔ ان کی شاعری میں انسانیت، اخوت، عدل اور عالمی امن کے تصورات نمایاں ہیں۔ وہ انسان کو رنگ، نسل، زبان اورجغرافیائی تعصبات سے بلند ہو کر دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ان کے نزدیک انسان کی حقیقی عظمت اس کے اخلاقی کردار اور انسان دوستی میں ہے۔ وہ ایسی دنیا کے خواہاں تھے جہاں طاقت ور کمزور کا استحصال نہ کرے، قومیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور عالمی تعلقات انصاف اور باہمی تعاون کی بنیاد پر استوار ہوں۔موجودہ دنیا جنگوں، سیاسی کشیدگی، معاشی استحصال، نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں اقبال کا پیغام امن، رواداری، عدل اور انسانی وقار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔اقبال کی فکر ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ انسانی ترقی کا اصل مقصد ایک بہتر دنیا کی تشکیل ہے، جہاں علم، محبت اور انصاف کو طاقت اور مفاد پرستی پر فوقیت حاصل ہو۔اقبال نے اردو اور فارسی شاعری کو نئے فکری اور فنی امکانات سے روشناس کرایا۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت کی جمالیات بھی موجود ہیں اور جدید فکری مباحث کی وسعت بھی۔ انہوں نے غزل، نظم، مثنوی اور دیگر شعری اصناف میں اپنے منفرد اسلوب کا اظہار کیا۔ان کی شاعری میں علامت، استعارہ، تشبیہ، تلمیح اور تمثیل کا استعمال محض آرائشی مقصد کے لیے نہیں بلکہ ایک گہری فکری معنویت کی تشکیل کے لیے کیا گیا ہے۔شاہین، عقاب، ستارے، آسمان، صحرا، کوہسار، دریا اور موج جیسے الفاظ اقبال کے ہاں مخصوص معنوی جہتیں اختیار کر لیتے ہیں۔ ان علامتوں کے ذریعے وہ انسانی عظمت، بلند نظری، آزادی، جدوجہد اور کائناتی وسعتوں کا تصور پیش کرتے ہیں۔ اقبال کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے اشعار مختلف ادوار میں نئے معانی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام محض تاریخی یا ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری تجربہ ہے۔اردو ادب کے طالب علموں، محققین اور ناقدین کے لیے اقبال کا مطالعہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ان کے کلام میں مشرقی فلسفے، اسلامی فکر، مغربی فلسفے اور جدید تہذیبی مباحث کے اثرات ایک تخلیقی امتزاج کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اقبال شناسی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے کلام کو صرف مخصوص تقریبات، نصابی سرگرمیوں اور روایتی خطابات تک محدود نہ رکھا جائے۔ ان کے افکار کو نئے علمی تناظر میں سمجھنے اور ان کی عصری معنویت واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، جامعات اور ادبی تنظیموں کو چاہیے کہ اقبال کے حوالے سے تحقیقی سیمینارز، علمی مذاکرے، مطالعاتی نشستیں اور بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کریں۔ ان کے فلسفے کو جدید فلسفہ، نفسیات، سماجیات، سیاسیات، تعلیم اور سائنسی ترقی کے تناظر میں زیرِ بحث لایا جائے۔ خصوصاً نوجوان نسل کو اقبال کے اصل متون کے مطالعے کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، ارمغانِ حجاز، اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی اور جاوید نامہ جیسی تصانیف میں ایسے فکری اور روحانی مباحث موجود ہیں جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔اقبال کے کلام کی درست تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ اشعار کو ان کے اصل سیاق و سباق میں پڑھا جائے اور ان کے افکار کو محض چند مشہور مصرعوں تک محدود نہ کیا جائے۔9 نومبر ہمیں اس عظیم مفکر کی یاد دلاتا ہے جس نے اپنے قلم کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو بیداری کا پیغام دیا۔ یہ دن محض ایک قومی شاعر کی سالگرہ نہیں بلکہ اپنے اجتماعی کردار، قومی ترجیحات اور فکری رویوں کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ہم ہر سال اقبال کے اشعار پڑھتے ہیں، تقریبات منعقد کرتے ہیں اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں کس حد تک جگہ دی ہے؟کیا ہماری تعلیمی ترجیحات میں تحقیق اور تخلیقی فکر کو اہمیت حاصل ہے؟کیا ہماری نوجوان نسل خود اعتمادی، خودداری اور بلند نظری کی حامل ہے؟کیا ہمارے معاشرے میں عدل، مساوات، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ حاصل ہے؟ کیا ہم نے اقبال کے تصورِ خودی کو اپنی انفرادی اور قومی زندگی کا حصہ بنایا ہے؟یہ سوالات ہمیں محض جذباتی وابستگی سے نکال کر عملی احتساب کی طرف لے جاتے ہیں۔ اقبال کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کے افکار کو اپنی شخصیت، تعلیمی نظام، سماجی رویوں اور قومی پالیسیوں میں جگہ دیں۔عصرِ حاضر میں کلامِ اقبال کی معنویت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ ان کی شاعری انسانی زندگی کے بنیادی مسائل اور سوالات سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ ان کا فلسف? خودی انسان کو اپنی پہچان اور خود اعتمادی کا شعور دیتا ہے۔ شاہین کا استعارہ بلند پروازی اور آزادی کا درس دیتا ہے۔ عشق کا تصور زندگی میں حرارت، یقین اور عمل کی قوت پیدا کرتا ہے۔ ان کا فلسف? علم تحقیق، اجتہاد اور فکری آزادی کی اہمیت واضح کرتا ہے جبکہ ملت کا تصور اجتماعی اتحاد، اخوت اور قومی خودداری کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔اقبال کا کلام ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی قوم کی ترقی کا انحصار صرف اس کے وسائل، آبادی یا جغرافیائی وسعت پر نہیں بلکہ اس کے فکری شعور، اخلاقی کردار، علمی استعداد اور اجتماعی عزم پر ہوتا ہے۔ آج دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ علم کے نئے ذرائع سامنے آ رہے
ہیں، سائنس انسانی زندگی کے نئے امکانات دریافت کر رہی ہے اور معاشرتی و تہذیبی تصورات مسلسل ارتقا پذیر ہیں۔ ایسے میں اقبال کی فکر ہمیں ایک متوازن راستہ دکھاتی ہے، جہاں جدیدیت اور روایت، عقل اور عشق، علم اور عمل، انفرادیت اور اجتماعیت ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلایا، اسے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی دریافت کا راستہ دکھایا اور زندگی کو ایک بامقصد جدوجہد کے طور پر دیکھنے کا شعور عطا کیا۔9 نومبر کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اقبال کو صرف تقریروں اور تحریروں میں زندہ نہیں رکھیں گے بلکہ ان کے افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ ہم علم کو اپنا ہتھیار، کردار کو اپنی پہچان، خودی کو اپنی قوت اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں گے۔اقبال آج بھی ہمارے درمیان اپنے اشعار کے ذریعے موجود ہیں۔ ان کی آواز ہمیں پکارتی ہے کہ مایوسی کو امید میں، جمود کو حرکت میں، کمزوری کو قوت میں اور انتشار کو اتحاد میں تبدیل کیا جائے۔اقبال کا پیغام کسی ایک عہد، نسل یا جغرافیے تک محدود نہیں۔ یہ ایک زندہ فکر، ایک مسلسل تحریک اور انسانی عظمت کی ابدی صدا ہے۔ جب تک انسان اپنے وجود کی معنویت تلاش کرتا رہے گا، جب تک قومیں اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کرتی رہیں گی اور جب تک نوجوان بلند مقاصد کے حصول کا خواب دیکھتے رہیں گے، کلامِ اقبال کی معنویت برقرار رہے گی۔یومِ اقبال منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اقبال کو پڑھیں، سمجھیں، ان کے افکار پر غور کریں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو ان کے پیغامِ خودی، علم، عمل اور کردار کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ یہی 9 نومبر کا حقیقی پیغام اور اقبال سے ہماری فکری وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *