Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2213/02-11-2026بلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کا نعصب العین ہے،میر عبید گورگیجممبر سازی مہم سے حقیقی آزادی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی،صادق آغاگیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، نصیر لہڑیتاج، نازیانہ اورقضاءچینی پاکستانی شادیجمعیت علماء اسلام کے کارکنان منفی پروپیگنڈے کا دلیل اور اخلاقیات سے مقابلہ کریں، مولانا عبدالواسع عبدالرحمن رفیقامن و امان، سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، آئی جی ایف سیچوہدری مقدر حسین عمرہ کی سعادت حاصل کرکے پتوکی واپس پہنچ گئےایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثالTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2213/02-11-2026بلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کا نعصب العین ہے،میر عبید گورگیجممبر سازی مہم سے حقیقی آزادی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی،صادق آغاگیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، نصیر لہڑیتاج، نازیانہ اورقضاءچینی پاکستانی شادیجمعیت علماء اسلام کے کارکنان منفی پروپیگنڈے کا دلیل اور اخلاقیات سے مقابلہ کریں، مولانا عبدالواسع عبدالرحمن رفیقامن و امان، سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، آئی جی ایف سیچوہدری مقدر حسین عمرہ کی سعادت حاصل کرکے پتوکی واپس پہنچ گئےایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثال

تاج، نازیانہ اورقضاء

محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرم، ظلم و استبداد، جبر و طغیان اور سفاکی و خونخواری کے خلاف انسانِ کامل کی جدوجہد کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود عالمِ انسانیت کی نمود و بقا۔ ازل سے ابد تک سفاک، جابر اور ہوسِ اقتدار میں اندھے حکمرانوں نے بے گناہ، معصوم اور مظلوم انسانوں کے خون کی ہولی کھیل کر اپنی جھوٹی اناؤں، ہوسِ ملک گیری اور مادی فرعونیت کے لیے انسانیت کو تاتار کیا، مگر کائنات کا اٹل قانونِ فطرت ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جب جب ظلم حد سے بڑھا، تب تب حق و صداقت، غیرتِ انسانی اور عدلِ الٰہی کا سورج غرور و طغیان کی تیرہ بخت راتوں کو چیر کر جلوہ گر ہوا، اور دنیا کےجابر اور سفاک ترین فرعون، نمرود، ہٹلر، چنگیز خان، ہلاکو خان اور پول پوٹ جیسے درندے بالآخر رسوائی، ذلت، تباہی اور تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن کر عبرت کا نشان بنے۔قدیم مصر میں فرعون نے اپنی خدائی کا باطل دعویٰ کر کے بنی اسرائیل پر وہ ہولناک و روح فرسا مظالم ڈھائے جن کی نظیر دنیا کے پہلے صفحہ تاریخ میں نہیں ملتی، اس نے معصوم شیر خوار بچوں کا گلا گھونٹ کر نیل کو سرخ کیا اور مظلوموں کی تذلیل و تقتيل کو اپنا معمول بنایا، مگر عدلِ الٰہی کے ناقابلِ شکست قانون نے ایک بے بس اور بے گناہ بچے موسیٰ علیہ السلام ہی کو اس کی آغوشِ اقتدار میں پال کر اسی کی لالچ، طاقت اور غرور کو اس کی عبرتناک موت کا سبب بنایا اور سمندر کی منہ زور لہروں نے نمرودی و فرعونی شکوہ کو ابدی گہرائیوں میں دفن کر دیا۔ یونانِ قدیم، بابل، اسپارٹا اور رومن ایمپائر کے مظالم کی داستانیں بھی تاریخ کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہیں جہاں نیرو جیسے خونخوار اور پاگل حکمران نے اپنے تماشے اور تماش بینی کے لیے پورے روما کو آگ کے شعلوں کے حوالے کر دیا اور بنسری بجاتا رہا، جب کہ معصوم عیسائیوں کو درندوں کے سامنے پھینک کر تماش بینوں کی ہوسِ تماشائی کو تسکین پہنچائی جاتی رہی، مگر اسی روما کی بربادی اور اس کا تاریخ کے صفحے سے مٹ جانا اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ تازیانہ ظلم کی عمر کبھی طویل نہیں ہوتی۔
وسطی ایشیا کی صحراؤں سے اٹھنے والی چنگیز خان کی وحشیانہ آندھی اور ہلاکو خان کی خونی سفاکی نے بغداد اور عالمِ اسلام کے در و دیوار کو خون سے نچوڑ دیا، لاکھوں انسانوں کے کٹے ہوئے سروں کے منار تعمیر کیے گئے، دنیا کے عظیم الشان علمی اور روایتی کتب خانوں کے لاکھوں مضامین و کتب کو دجلہ و فرات کی لہروں میں بہا کر دریا کے پانی کو سیاہی اور خون کا آمیزش بنا دیا گیا، مگر وقت کے قاہرتازیانے نے ان ہی جابروں، سفاکوں اور قاتلوں کی نسلوں کو بالآخر اسی تہذیب اور حق کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیا جسے وہ نابود کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ جدید دور میں ہٹلر کی فاشسٹ سفاکی نے پوری دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کی ہولناک آگ میں جھونک دیا، ہولوکاسٹ کے گیس چیمبرز میں لاکھوں بے گناہ، معصوم انسانوں کی مسخ شدہ لاشیں اور تڑپتے ہوئے جسم انسانیت کی تذلیل کی بدترین مثال بنے، اور اسٹالن کے سیاسی گلگ اور پول پوٹ کے کمبوڈیا کے “کِلنگ فیلڈز” میں لاکھوں انسانوں کا قتلِ عام انسان کے اندر چھپے درندے کی بدترین تصویر کشی کرتا ہے، مگر ہٹلر کی زیرِ زمین بنکر میں خودکشی کی ذلت، اسٹالن کے خوف و ہراس کی فضا میں تڑپ کر مرنا اور پول پوٹ کا گمنامی کی بدبودار موت مرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ظالم کا انجام صرف اور صرف خسران، حسرت، رسوائی اور ابدی تذلیل ہوتا ہے۔
تاریخِ عالم کا مطالعہ اس حقیقت کو کھول کر روشن دن کی طرح سامنے لاتا ہے کہ جبر و تشدد کی بنیاد پر قائم ہونے والے عظیم اور آہنی ایوان، چاہے وہ کتنا ہی طویل عرصہ اور کتنی ہی وحشیانہ طاقت کے ساتھ حکمرانی کیوں نہ کریں، بالآخر مظلوموں کے عزم، حق کی آواز اور قدرت کے مکافاتِ عمل کے سامنے ریت کا محل ثابت ہوتے ہیں؛ کیونکہ کربلا میں سیدنا امام حسینؓ کا لہو، جو باطل، ظلم، ناانصافی اور جابرانہ اقتدار کے خلاف ایک لازوال، بے مثل اور سرمدی استعارہ بن کر ابھرا، اس نے کائنات کو یہ ابدی سبق سکھا دیا کہ مظلوم کا کٹا ہوا سر ظالم کے تاج و تخت کو ہمیشہ کے لیے نگونصار اور پیوندِ خاک کر دیتا ہے۔ انسان کی حریت، اس کی عزتِ نفس، اس کا آزادیِ فکر کا جذبہ اور عدل و انصاف کی طلب وہ فطرتی توانائیاں ہیں جنہیں دنیا کا کوئی تازیانہ، کوئی بمبار طیارہ، کوئی قید خانہ اور کوئی سفاک ترین گولی یا تلوار کبھی ختم نہیں کر سکتی، اورجب دنیا کے کسی بھی گوشے میں کوئی ظالم اپنا پلڑا بھاری سمجھ کر ظلم و بربریت کا بازار گرم کرتا ہے، تب تک تاریخ کے پنے سے یہی صدا گونجتی ہے کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ متعین ہے، ہر یزید کے لیے حسینیت ایک ابدی للکار ہے، اور جبر و ستم کے تمام تازیانے بالآخر مظلوموں کے لہو کی گرمی، عزم اور طاقت سے ٹوٹ کر بکھر جانے کے لیے ہی وجود میں آتے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *