Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لاہور ہائیکورٹ؛ پی ایم ڈی سی کے مقررہ تجربہ کے برعکس بھرتیوں کا معیار غیر قانونی قرارتھرپارکر ایمبولینس حادثہ؛ جاں بحق افراد کے ورثا کو 20 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلانبیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13, 13 سال قید کی سزاجے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیاحیوانی جبلت اور انسانی شعور: بقاء کی جنگ کا فلسفہمیرٹ پر اصلاحات سے قوم پرست جماعتیں خائف کیوں ہیں؟ میر ظہور بلیدی کا سوالصحافیوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا، میاں اشتیاق علیچیف آفیسر محیب اللہ بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی سے لورالائی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسینبسم اللہ خان لونی، چھ سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنماناصرآباد میں تین روز سے بجلی بند، پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی، حاجی حسن ناصرلاہور ہائیکورٹ؛ پی ایم ڈی سی کے مقررہ تجربہ کے برعکس بھرتیوں کا معیار غیر قانونی قرارتھرپارکر ایمبولینس حادثہ؛ جاں بحق افراد کے ورثا کو 20 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلانبیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13, 13 سال قید کی سزاجے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیاحیوانی جبلت اور انسانی شعور: بقاء کی جنگ کا فلسفہمیرٹ پر اصلاحات سے قوم پرست جماعتیں خائف کیوں ہیں؟ میر ظہور بلیدی کا سوالصحافیوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا، میاں اشتیاق علیچیف آفیسر محیب اللہ بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی سے لورالائی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسینبسم اللہ خان لونی، چھ سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنماناصرآباد میں تین روز سے بجلی بند، پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی، حاجی حسن ناصر

حیوانی جبلت اور انسانی شعور: بقاء کی جنگ کا فلسفہ

احمدخان اچکزئی

حیوانی جبلت اور انسانی شعور: بقاء کی جنگ کا فلسفہ

محترم قارئین، کائنات کے اس وسیع و عریض اسٹیج پر حیات کا تسلسل بنیادی طور پر دو مختلف محرکات پر استوار ہے جن میں ایک طرف جبلت کی اٹل جبریت ہے اور دوسری طرف عقل و شعور کی روشن کہکشاں ہے۔ انسان اور حیوان کے درمیان پایا جانے والا یہ فرق محض جسمانی ساخت یا بود و باش کا نہیں بلکہ ان کی جبلت کی نوعیت اور اس کے استعمال کا ہے جس نے دونوں کے مابین زمین و آسمان جتنا تفاوت پیدا کر رکھا ہے۔ اگر ہم حیوان کی جبلت کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکمل، بند اور غیر تبدیل شدہ ضابطہ حیات کا نام ہے جسے کسی بیرونی تعلیم یا تجربے کی حاجت نہیں ہوتی۔ شہد کی مکھی کو چھتہ بنانے کا کوئی فن نہیں سکھاتا، جنگل کے بادشاہ شیر کو شکار کرنے کی تربیت کی ضرورت نہیں پڑتی اور فضاؤں میں پرواز کرنے والے پرندے بغیر کسی اسکول کے اپنے گھونسلے کی مہندسی کے ماہر ہوتے ہیں۔ حیوان درحقیقت اپنی ہی جبلت کا قیدی ہوتا ہے اور وہ اس کے دائرہ کار سے کبھی باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔ کتا اگر شدید بھوک کے عالم میں بھی ہو تو وہ اخلاقیات یا حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر روٹی چھین کر کھانے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس متبادل شعوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس خالقِ کائنات نے انسان کی جبلت کو نامکمل اور کھلا رکھا ہے تاکہ وہ عقل، تدبر اور تربیت کے زیور سے آراستہ ہو کر اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ انسانی جبلت کے دائرے میں تین ایسی امتیازی خصوصیات رکھی گئی ہیں جو کسی بھی حیوان کے حصے میں نہیں آئیں اور یہی خصوصیات اسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہیں۔ پہلی خصوصیت عقل کے ذریعے جبلت پر قابو پانا ہے جہاں انسان شدید بھوک اور پیاس کے باوجود محض حکمِ الٰہی یا اخلاقی ضابطے کی خاطر سارا دن روزہ رکھ کر گزار دیتا ہے اور جوشِ انتقام کے وقت غصے کا گھونٹ پیتے ہوئے معاف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے جبکہ حیوان میں اس ضبطِ نفس کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ دوسری بڑی امتیازی خصوصیت اخلاق، اقدار اور ضمیر کی وہ شمع ہے جو حیوان کی دنیا میں صرف “میں اور میرا پیٹ” تک محدود حسی دائرے کو توڑ کر انسان کو حلال و حرام، حق و باطل، اور شرم و حیا کے بلند معیار سکھاتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایک انسان بھوک سے نڈهال ہو کر مرنے کو ترجیح دے سکتا ہے لیکن وہ چوری یا رزقِ حرام کی طرف ہاتھ بڑھانا اپنی غیرت کے منافی سمجھتا ہے کیونکہ اس کا ضمیر اسے اس پستی سے روکتا ہے۔ تیسری اور سب سے نمایاں خصوصیت ارتقاء اور ترقی کا وہ لامتناہی سفر ہے جو عقل کے توسل سے طے ہوتا ہے۔ حیوان کی جبلت آج بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی ہزاروں سال پہلے تھی اور شہد کی مکھی آج بھی ویسا ہی چھتہ بناتی ہے جیسا اس کے اسلاف بناتے آئے تھے لیکن انسان کی فکری جبلت نے پتھر کے زمانے سے نکل کر آگ جلانا، کھیتی باڑی کرنا، پیچیدہ تہذیبی قوانین وضع کرنا اور انسانیت کی فلاح کے لیے قربانیاں دینا سیکھ لیا۔ ان تمام حقائق کا نچوڑ اس ایک جملے میں سمٹ جاتا ہے کہ حیوان محض جبلت کے مطابق اندھی تقلید میں زندہ رہتا ہے جبکہ انسان اپنی جبلت سے لڑ کر، اس کی لگامیں عقل کو دے کر اور اپنے نفس پر قابو پا کر زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الٰہی کتابوں اور بالخصوص قرآنِ پاک میں انسان کو جبلت کے ساتھ ساتھ عقل، تدبر اور ہدایت کا نور عطا کیا گیا تاکہ وہ اس کائنات میں اپنا بلند مقام متعین کر سکے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب یہی اشرف المخلوقات انسان اپنی خداداد عقل کو طاق پر رکھ دیتا ہے اور حیوانی جبلت کی تاریکیوں میں اتر جاتا ہے تو وہ اپنی تمام تر جسمانی خوبصورتی کے باوجود جانوروں سے بھی بدتر درجے پر جا گرتا ہے۔ معاشرے میں جب جہالت، خوف اور اندھی لالچ کے اندھیرے انسان کی عقل پر غلبہ پا لیتے ہیں تو اس کی وہی جبلت جاگ اٹھتی ہے جو تمام انسانی اقدار کو پامال کر دیتی ہے۔ اس لیے بقاء کی اس کشمکش میں انسان کی حقیقی کامیابی اس کے شعور اور اخلاقی برتری میں پوشیدہ ہے جو اسے پستی کے گڑھے سے نکال کر بلندیوں کی معراج تک پہنچاتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *