Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
یونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیابلوچی زبان میں قرآنِ مجید کی پہلی ایپلی کیشن ’’جمال القرآن‘‘ لانچکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمیناریونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیابلوچی زبان میں قرآنِ مجید کی پہلی ایپلی کیشن ’’جمال القرآن‘‘ لانچکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمینار

کاغذ کے نوٹ اور پگھلتا ہوا بچپن، ایک لاکھ کی بے بسی اور نو لاکھ کی حقیقت

احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، زندگی کبھی کبھی اعداد و شمار کی ایک ایسی بے رحم کتاب بن جاتی ہے جس کے ہر ورق پر صرف محرومی اور بے بسی کی عبارت لکھی ہوتی ہے۔ یاد کیجئے سال دو ہزار کا وہ زمانہ جب ایک لاکھ روپے کی رقم محض کاغذی ہندسہ نہیں بلکہ ایک بھرپور، مطمئن اور باعزت متوسط طبقے کے گھرانے کی معاشی کائنات ہوا کرتی تھی۔ اس ایک لاکھ روپے میں ایک باپ اپنے بچوں کی اُمیدوں کو بھی پناہ دیتا تھا، گھر کا چولہا بھی روشن رکھتا تھا، اور مستقبل کے کسی ویران اندیشے سے بے نياز ہو کر سکون کی نیند سوتا تھا۔ تب یہ گمان بھی محال تھا کہ وقت کی چکی اس قدر بے دردی سے چلے گی کہ ایک دن یہی ایک لاکھ روپے صرف ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے۔ آج جب ہم اسی ٹوکری کو دو ہزار چھبیس کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو وہ ایک لاکھ روپے کا سودا سلف آٹھ لاکھ پچانوے ہزار روپے کا ہو چکا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ چیزیں مہنگی کیوں ہوئیں، بلکہ تلخ سوال یہ ہے کہ ہمارے خواب اتنے سستے کیوں کر دیے گئے؟
اس زوال کی کہانی کوئی اچانک رونما ہونے والا معجزہ نہیں بلکہ پالیسیوں کے اس تسلسل کا شاخسانہ ہے جسے ہم نے نظامِ معیشت کا نام دے رکھا ہے۔ جب بینکاری کے نظام کو منافع کی ہوس میں اندھا کر کے نوٹ چھاپنے اور قرضوں کے انبار لگانے کی چھوٹ دی جاتی ہے، تو بازار میں گردش کرنے والا کاغذی نوٹ اپنی اصل قدر کھو دیتا ہے۔ پیسہ زیادہ ہو اور اشیاء کی مقدار وہی رہے تو قدرِ زر کا پگھلنا ایک ریاضیاتی حقیقت بن جاتا ہے۔ اس کے اوپر جب پٹرول جیسے بنیادی ایندھن پر ایک سو اسی روپے لیوی کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے، تو ٹرانسپورٹ کا ہر پہیہ، فیکٹری کی ہر چمنی اور کھیت سے منڈی تک کا ہر سفر مہنگائی کی اس آگ میں جھلس جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ سب خرچے اسی ایک لاکھ والی ٹوکری میں شامل ہوتے ہیں، تو غریب کی پہنچ سے زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی کوسوں دور چلی جاتی ہیں۔
اس نظام کا سب سے تاریک پہلو وہ لمحہ ہوتا ہے جب صحت جیسی بنیادی فلاحی ضرورت کو منافع بخش کاروبار بنا دیا جاتا ہے۔ ایک مزدور جب دن بھر پسینہ بہا کر دو وقت کی روٹی کماتا ہے، لیکن شام کو اپنی کمائی کا نصف حصہ کسی پرائیویٹ اسپتال کی کاؤنٹر پر دوائی اور چیک اپ کی نذر کر دیتا ہے، تو اس کے پاس گھر کے لیے کیا بچتا ہے؟ علاج کی مہنگائی دراصل غریب کی قوتِ خرید پر وہ آخری کاری ضرب ہے جو اسے معاشرے کے حاشیے پر دھکیل دیتی ہے۔ جب بیمار کا علاج سستا نہ ہو اور تندرست کی روٹی محفوظ نہ ہو، تو ریاست کے دعوے کاغذ کے ان ٹکڑوں کی طرح ہلکے ہو جاتے ہیں جن کی قیمت روز بروز ہوا میں تحلیل ہو رہی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کا یہ سی پی آئی ڈیٹا صرف اُمیدوں کا گراف نہیں بلکہ اس ناانصافی کا سرکاری اعتراف نامہ ہے جو بتاتا ہے کہ اصل بازار کی مہنگائی تو اس اعداد و شمار سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہے۔
آج المیہ یہ ہے کہ دو ہزار والے دور کا وہ باپ جو ایک لاکھ میں اپنا گھر عزت سے چلاتا تھا، آج اس کا بیٹا اسی معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے نو لاکھ روپے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے، مگر اس کی تنخواہ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں کبھی اس کے بزرگ کی تھی۔ یہ تنخواہوں اور اخراجات کا وہ نہ ختم ہونے والا خلیج ہے جس نے پورے معاشرے کو نفسیاتی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نوٹ کی تصویر وہی ہے، اس پر بانیانِ قوم کے چہرے بھی ویسے ہی مسکرا رہے ہیں، لیکن اس کی قوتِ خرید نو گنا کم ہو چکی ہے۔ جب تک معیشت کے اس ڈھانچے میں اصلاحات کر کے دولت کی منصفانہ تقسیم، پیداواری لاگت میں کمی اور عوامی فلاح کو ترجیح نہیں دی جاتی، تب تک یہ کاغذی نوٹ محض کاغذ کا ٹکرہ بنے رہیں گے اور ہمارا متوسط طبقہ اسی طرح اپنی ہی تاریخ کے بوجھ تلے سسکتا رہے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *