Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم متحرکمغربی بائی پاس کے علاقے میں بجلی بحال کی جائے، مولانا محمد طاہر توحیدیگنداخہ میں امن و امان سے متعلق اجلاس، بازاروں میں پولیس گشت بڑھانے کی یقین دہانیکوئٹہ میں ٹریفک چالان کے نام پر مبینہ رشوت ستانی کا نوٹس لیا جائے، مولانا عبد الرحمن رفیقمولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے، مولانا عبدالواسعروہڑی انٹرچینج یا حادثات کا خطرناک مقام؟ تباہ حال شاہراہ پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت خطرے میںپٹنی میں خواتین پر مبینہ تشدد، تین روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے کا الزامآپریشن دتہ خیل ریاستی شناخت اور آزادی کے ادھورے خوابنصیرآباد پولیس کی بڑی کارروائیاں، اندھے قتل، ڈکیتی اور دیگر مقدمات میں متعدد ملزمان گرفتاربی۔ایم۔ایف صحافیوں کی مؤثر آواز بن چکا ہے، شاھین بارانزئیمسلم باغ میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم متحرکمغربی بائی پاس کے علاقے میں بجلی بحال کی جائے، مولانا محمد طاہر توحیدیگنداخہ میں امن و امان سے متعلق اجلاس، بازاروں میں پولیس گشت بڑھانے کی یقین دہانیکوئٹہ میں ٹریفک چالان کے نام پر مبینہ رشوت ستانی کا نوٹس لیا جائے، مولانا عبد الرحمن رفیقمولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے، مولانا عبدالواسعروہڑی انٹرچینج یا حادثات کا خطرناک مقام؟ تباہ حال شاہراہ پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت خطرے میںپٹنی میں خواتین پر مبینہ تشدد، تین روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے کا الزامآپریشن دتہ خیل ریاستی شناخت اور آزادی کے ادھورے خوابنصیرآباد پولیس کی بڑی کارروائیاں، اندھے قتل، ڈکیتی اور دیگر مقدمات میں متعدد ملزمان گرفتاربی۔ایم۔ایف صحافیوں کی مؤثر آواز بن چکا ہے، شاھین بارانزئی

پابندیوں کی زنجیریں دباؤ کے پہاڑ اور ایمان کی طاقت!

تحریر. ایس ایم مرموی

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ور قوتیں اکثر یہ سمجھتی ہیں کہ معاشی پابندیوں عسکری دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے کسی بھی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے لیکن ایران نے طویل عرصے سے جاری پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہ کر یہ واضح کیا ہے کہ کسی قوم کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے معاشی وسائل جدید ہتھیاروں اور عالمی اتحادیوں سے نہیں لگایا جا سکتا اس کی قومی خودمختاری نظریاتی وابستگی اور مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے آج امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی محض تین فریقوں کا تنازع نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست میں طاقت خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کی کشمکش بھی ہے فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تنازع نے مزید سنگین صورت اختیار کی جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود اختلافات برقرار ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پابندیوں اور جوہری پروگرام پر کشیدگی نے خطے کو غیر یقینی حالات سے دوچار کر رکھا ہے امریکہ دنیا کی بڑی عسکری اور معاشی طاقت ہے اسرائیل کو بھی مضبوط عسکری صلاحیت حاصل ہے لیکن ایران کو دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط تسلیم کرانے کی کوششیں اب تک کسی پائیدار حل تک نہیں پہنچ سکیں ایران کی مزاحمت نے یہ حقیقت نمایاں کی ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا حالیہ مہینوں میں نئی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے باوجود تہران نے اپنے بنیادی مؤقف سے دست بردار ہونے کے بجائے مذاکرات میں بھی اپنی شرائط پیش کی ہیں
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کیا کسی قوم کو صرف اس لیے اپنے مؤقف سے دست بردار ہو جانا چاہیے کہ اس کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ممالک کھڑے ہیں ایران کے حامی اس کی استقامت کو خودمختاری، نظریاتی وابستگی اور ایمان کی قوت سے تعبیر کرتے ہیں ان کے نزدیک طویل پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے فیصلوں پر قائم رہنا اس بات کی علامت ہے کہ قوموں کی مزاحمت محض مادی وسائل کی محتاج نہیں ہوتی ایمان، عزم، قربانی اور اپنے مقصد پر یقین بھی انسان کو مشکل حالات میں حوصلہ دیتے ہیں یقیناً ایک مومن کے لیے اللہ پر بھروسا بنیادی اہمیت رکھتا ہے قرآن کا پیغام بھی یہی ہے کہ خوف اور مایوسی کے بجائے صبر استقامت اور حق پر ثابت قدمی اختیار کی جائے لیکن ایمان کی حقیقی قوت کا اظہار صرف مزاحمت میں نہیں بلکہ عدل، دیانت، انسانی جانوں کے احترام اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ میں بھی ہوتا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ طویل پابندیوں کی قیمت عام شہریوں کو مہنگائی، معاشی مشکلات اور روزگار کے مسائل کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے اس لیے کسی ریاست کی استقامت کا جائزہ لیتے وقت اس کے سیاسی مؤقف کے ساتھ عوام کی مشکلات اور انسانی نتائج کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم ایران کا معاملہ ایک اہم سبق ضرور دیتا ہے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی کسی قوم کے عزم کو محض دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے آسانی سے ختم نہیں کر سکتی طاقت ور ممالک کے لیے اصل چیلنج صرف کسی ریاست کی عسکری صلاحیت نہیں بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ مسلسل دباؤ کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر قائم رہ سکتی ہے کربلا کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق کے لیے ثابت قدمی خوف کے مقابلے میں حوصلہ اور اصولوں کے لیے قربانی انسانی تاریخ کے دیرپا پیغامات میں شامل ہیں تاہم ہر جدید تنازع کے اپنے سیاسی، عسکری اور تاریخی حقائق ہوتے ہیں اس لیے کسی بھی ریاست یا قیادت کو صرف تاریخی تشبیہوں سے نہیں بلکہ اس کے عملی کردار اور فیصلوں سے بھی پرکھنا چاہیےآخر میں بات اتنی سی ہے کہ ہتھیار جسموں کو نشانہ بنا سکتے ہیں پابندیاں معیشت کو کمزور کر سکتی ہیں اور دھمکیاں خوف پیدا کر سکتی ہیں لیکن کسی قوم کے عزم کو توڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا اللہ پر یقین انسان کو حوصلہ دیتا ہے مگر اس یقین کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ انسان مشکل حالات میں بھی حق انصاف اور انسانی حرمت کا دامن نہ چھوڑے اصل کامیابی صرف طاقت ور کے سامنے نہ جھکنے میں نہیں بلکہ اپنی طاقت کو بھی عدل اور امن کے تابع رکھنے میں ہے۔
کربلا سے آج تک سوال صرف ایک ہے حق کے سامنے جھکنا ہے یا طاقت کے سامنے جب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک کہانی بار بار ہمارے سامنے آتی ہے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کے لیے ڈٹ جانے کی کہانی تقریباً چودہ سو سال قبل کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے دنیا کو بتا دیا تھا کہ اقتدار کی طاقت حق و باطل کا معیار نہیں ہوتی حق پر قائم رہنے کے لیے کبھی کبھی پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود تنہا کھڑا ہونا پڑتا ہے اس دور میں بھی اقتدار کی طاقتیں موجود تھیں حکمرانوں کے پاس لشکر تھے وسائل تھے اور سیاسی اثر و رسوخ تھا۔ بہت سے لوگوں نے حالات کے دباؤ مصلحتوں یا اپنے مفادات کے تحت یزیدی اقتدار کو قبول کر لیا لیکن امام حسین علیہ السلام نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا آپؑ کا انکار محض ایک حکمران کی مخالفت نہیں تھا بلکہ ظلم، جبر اور آمریت کے سامنے سر جھکانے سے انکار تھا کربلا کا پیغام یہ ہے کہ حکمران بدل جاتے ہیں زمانے بدل جاتے ہیں مگر حق اور باطل کے درمیان انتخاب کا سوال کبھی نہیں بدلتا آج کی عالمی سیاست کو دیکھیں تو ایک بار پھر یہی سوال مختلف صورتوں میں ہمارے سامنے کھڑا ہے طاقت ور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کمزور ریاستوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہیں معاشی پابندیاں ہتھیار بنتی ہیں کہیں سفارتی تنہائی کے ذریعے دباؤ بڑھایا جاتا ہے اور کہیں طاقت کے استعمال کی دھمکی دی جاتی ہے ایسے ماحول میں ایران کا معاملہ بھی اسی بحث کا حصہ ہے
یہاں کربلا کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد کسی مخصوص قوم نسل یا جغرافیے تک محدود نہیں یہ اصولوں پر ثابت قدمی ظلم کے سامنے انکار اور حق کے لیے قربانی دینے کا درس ہے اس پیغام کو کسی بھی دور کے سیاسی حالات پر منطبق کرتے وقت یہ بھی ضروری ہے کہ شخصیات اور ریاستوں کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ ان کے اعمال فیصلوں اور عوام پر پڑنے والے اثرات سے پرکھا جائے ایمان کا تقاضا یقیناً یہ ہے کہ انسان خوف اور مصلحت کے باعث حق کا ساتھ نہ چھوڑے لیکن ایمان کا امتحان صرف طاقت ور کے سامنے ڈٹ جانے میں نہیں بلکہ اپنے طرزِ عمل کو عدل، دیانت اور انسانی حرمت کے اصولوں کے تابع رکھنے میں بھی ہے خودمختاری کا دفاع اہم ہے مگر حقیقی اخلاقی قوت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب انصاف انسانی جانوں کے احترام اور کمزوروں کے حقوق کو بھی یکساں اہمیت دی جائے آج مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ مشترکہ مسائل کے باوجود باہمی اختلافات علاقائی رقابتیں اور بیرونی طاقتوں کے مفادات اسے تقسیم کیے ہوئے ہیں اگر مسلمان واقعی قرآن کے پیغامِ اتحاد پر عمل کریں تو انہیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کے بجائے انصاف خودمختاری باہمی احترام اور مظلوموں کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے آخرکار کربلا ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہر اختلاف کو جنگ بنا دیا جائے کربلا یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کے مقابلے میں اصولوں کو مصلحت کے مقابلے میں حق کو اور خوف کے مقابلے میں ضمیر کو ترجیح دی جائے یزید کا دور گزر گیا مگر جبر کے خلاف انکار کا پیغام آج بھی زندہ ہے سوال یہ نہیں کہ کون طاقت ور ہے کون تنہا ہے اور کس کے پاس کتنے وسائل ہیں اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنے فیصلوں میں عدل، حق اور انسانی وقار کو مقدم رکھتا ہے کیوں کہ تاریخ میں طاقت ور حکمرانوں کے نام مٹ جاتے ہیں مگر اصولوں کے لیے کھڑے ہونے والوں کی آواز صدیوں تک گونجتی رہتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *