Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردیکراچی میں گرمی برقرار؛ موسم بدستور خشک رہنے کی پیشگوئیحنا جاوید قتل؛ متقولہ کے اہلخانہ کا مریم نواز کو کھلا خط، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہبلند شرح سود، پاکستان کا 49 کروڑ ڈالر قرض لینے سے انکارانتخابات کے بعد ایران پر قیامت خیز حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کا انکشافحافظ نعیم الرحمٰن کا گیس لوڈشیڈنگ اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف 150 شہروں میں دھرنوں اور لانگ مارچ کی تیاری کا اعلانیونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردیکراچی میں گرمی برقرار؛ موسم بدستور خشک رہنے کی پیشگوئیحنا جاوید قتل؛ متقولہ کے اہلخانہ کا مریم نواز کو کھلا خط، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہبلند شرح سود، پاکستان کا 49 کروڑ ڈالر قرض لینے سے انکارانتخابات کے بعد ایران پر قیامت خیز حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کا انکشافحافظ نعیم الرحمٰن کا گیس لوڈشیڈنگ اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف 150 شہروں میں دھرنوں اور لانگ مارچ کی تیاری کا اعلانیونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زور

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے پھر مسلمان بے امن کیوں؟

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے پھر مسلمان بے امن کیوں؟
تحریر،ایس ایم مرموی

ایک طرف دنیا کے کسی کونے میں مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائی کے ہاتھوں مارا جا رہا ہے، دوسری طرف کہیں مسجد کے باہر نفرت کی دیوار کھڑی ہے کہیں اقتدار کی جنگ نے پورے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے اور کہیں ایک غریب اپنے ہی ملک میں انصاف کی تلاش میں در در بھٹک رہا ہےمیں کبھی کبھی سوچتا ہوں اگر چند لمحوں کے لیے رسول اکرم ﷺ آج کی دنیا کو دیکھیں تو شاید سب سے پہلے یہ سوال کریں تم نے میرے دین کے ساتھ کیا کیا؟
یہ سوال بہت سخت ہے لیکن شاید آج کے مسلمان کے لیے اس سے زیادہ ضروری سوال کوئی دوسرا نہیں اسلام کا مطلب ہی سلامتی اطاعت اور امن کے مفہوم سے جڑا ہوا ہے اسلام نے انسان کی جان، مال، عزت اور حقوق کو حرمت دی قرآن نے عدل و احسان کا حکم دیا رسول اکرم ﷺ نے انسانیت رحم، بھائی چارے اور حقوق العباد کو زندگی کا حصہ بنایا مگر آج مسلمان دنیا کے کئی حصوں میں بدامنی، جنگ غربت، سیاسی انتشار، فرقہ واریت اور خوف کا شکار ہیں تو پھر خرابی کہاں ہے اسلام میں یا مسلمانوں میں؟
یہ سوال ہمیں دوسروں سے نہیں اپنے آپ سے کرنا ہوگاہم نے شاید اسلام کو پڑھنے سے زیادہ پڑھانے کی کوشش کی عمل کرنے سے زیادہ دوسروں کو عمل کا درس دیا اور اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کے گریبان پکڑنے کو اپنا حق سمجھ لیاہمیں نماز یاد ہے مگر نماز کا مقصد کم یاد ہے ہمیں روزہ یاد ہےمگر روزے کا اخلاقی سبق کم یاد ہے۔
ہمیں حج یاد ہے مگر حج کے بعد انسان کی عزت اور حقوق کا خیال کم یاد ہے
ہمیں قرآن کی آیات یاد ہیں مگر ان آیات کے تقاضے ہماری عملی زندگی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم اللہ کے سامنے جھکنے کو عبادت سمجھتے ہیں لیکن کبھی کبھی یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کے بندوں پر ظلم نہ کرنا بھی عبادت کا حصہ ہے ایک شخص مسجد میں پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے لیکن کاروبار میں ملازم کی تنخواہ روک لیتا ہےایک شخص تسبیح ہاتھ میں لیے پھرتا ہے لیکن کسی غریب کا حق دبا لیتا ہےایک شخص مذہب کی بات کرتا ہے مگر اختلاف کرنے والے کی عزت پامال کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا ایک حکمران مذہبی نعروں سے اپنی تقریر شروع کرتا ہے لیکن اقتدار ملتے ہی عوام کو جواب دینا اپنی توہین سمجھنے لگتا ہے پھر ہم پوچھتے ہیں کہ معاشرے میں امن کیوں نہیں بھلا امن کہاں سے آئے گا امن صرف اس وقت نہیں ہوتا جب توپیں خاموش ہوں امن اس وقت ہوتا ہے جب غریب کو یقین ہو کہ اس کا حق نہیں مارا جائے گا امن اس وقت ہوتا ہے جب مزدور کو اس کی محنت کی پوری اجرت ملے امن اس وقت ہوتا ہے جب عدالت میں طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو امن اس وقت ہوتا ہے جب حکمران عوام کو رعایا نہیں بلکہ اپنے برابر کا انسان سمجھے امن اس وقت ہوتا ہے جب اختلاف دشمنی نہ بنے اور امن اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے عقیدے مسلک، زبان، قوم یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر اس کی جان و عزت کو مشکوک نہ سمجھے
ہماری سب سے بڑی بدقسمتی شاید یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو شناخت تو بنا لیا مگر کردار نہیں بنایا ہم مسلمان کہلوانا چاہتے ہیں مگر اسلام کی ذمہ داریاں اٹھانا نہیں چاہتے ہم عدل کی بات کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے مخالف کے لیے عدل برداشت نہیں کرتے ہم آزادی چاہتے ہیں مگر دوسرے کی رائے سننا پسند نہیں کرتے ہم عزت چاہتے ہیں مگر دوسرے کی عزت کا خیال نہیں رکھتے ہم دنیا سے امن چاہتے ہیں مگر اپنے گھروں، اداروں اور معاشروں میں نفرت کے بیج بوتے رہتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کیا مسئلہ دنیا کا ہے یا ہمارے اندر کا؟
ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ دشمن ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے ممکن ہے دنیا میں مفادات کی سیاست ہو، طاقت کی کشمکش ہو مداخلتیں ہوں اور مختلف ریاستیں اپنے مفادات کے لیے دوسرے ممالک کو کمزور کرتی ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بیرونی طاقت اس وقت تک کسی معاشرے کو مکمل طور پر توڑ سکتی ہے جب تک اس کے اندر سے دراڑیں پیدا نہ ہو چکی ہوں گھر کی دیوار باہر کا آدمی تبھی گراتا ہے جب اندر سے بنیاد کمزور ہو اور ہماری بنیاد عدل، علم، کردار، اتحاد اور امانت ہے
اگر یہ بنیاد مضبوط ہو جائے تو بہت سی بیرونی مشکلات بھی انسان کو نہیں توڑ سکتیں ہمیں شاید ایک بار پھر مدینہ کے اس معاشرے کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں طاقت کا مطلب صرف غلبہ نہیں بلکہ ذمہ داری تھا، اقتدار کا مطلب صرف حکم دینا نہیں بلکہ جواب دہی تھا اور مذہب کا مطلب صرف عبادت نہیں بلکہ انسان کو انسان سمجھنا بھی تھا انکے حقوق کی تحفظ تھا آسانیاں پیدا کرنا تھا ہم نے اسلام کو فرقوں، گروہوں، جماعتوں اور نعروں میں بانٹ دیا مگر اس کی اصل روح یعنی رحمت، عدل اور انسانی حرمت کو پسِ پشت ڈال دیاپھر شکایت کرتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں کمزور کیوں ہیں قومیں صرف اس لیے کمزور نہیں ہوتیں کہ ان کے دشمن طاقتور ہوتے ہیں قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے اندر کا انسان کمزور ہو جاتا ہے اور آج شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ہمیں دوسروں کومسلمان بنانے سے پہلے اپنے کردار کو مسلمان بنانا ہوگا ہمیں دنیا کو اسلام سمجھانے سے پہلے اپنے عمل سے اسلام دکھانا ہوگا کیونکہ اگر ایک غیر مسلم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری دیانت، ہمارے انصاف، ہمارے رحم اور ہمارے کردار سے متاثر ہو جائے تو شاید یہ ہزار تقریروں سے بڑا تبلیغی عمل ہے اسلام کو ہماری تقریروں کی نہیں ہمارے کردار کی ضرورت ہے
ہمیں نئے نعرے نہیں چاہییں ہمیں پرانے اصول واپس چاہییں عدل واپس چاہیے۔
امانت واپس چاہیے۔برداشت واپس چاہیے انسانی حرمت واپس چاہیےعلم واپس چاہیے اور سب سے بڑھ کر کردار واپس چاہیے ورنہ ہم مسجدوں کے مینار بلند کرتے رہیں گے مذہبی اجتماعات بڑے کرتے رہیں گے، سوشل میڈیا پر دین کے حق میں ہزاروں پوسٹیں لکھتے رہیں گے مگر اگر ہمارے ہاتھ سے کسی انسان کا حق محفوظ نہیں تو سوال اپنی جگہ قائم رہے گا:
اسلام امن کا دین ہے پھر مسلمان بے امن کیوں؟
اس سوال کا جواب کسی یہودی عیسائی، مغربی یا مشرقی دنیا سے نہیں مانگنا چاہیےیہ جواب ہمیں اپنے آئینے میں تلاش کرنا ہوگاکیونکہ شاید اصل المیہ یہ نہیں کہ دنیا نے اسلام کو سمجھا نہیں اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو پڑھا بہت بتایا بہت، دکھایا بہت مگر جیا بہت کم اسلام نام ہی امن و سلامتی کا ہے پھر ہم مسلمان بدامنی بے سکونی کا شکار کیوں ہے اس پر تدبر کی ضرورت ہے فکر کرنے کی ضرورت ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *