Banner
Daily Sahafat Quetta
September 9, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حکومت نے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدیوفاقی حکومت کا پینشن کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہسیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 11 دہشت گرد ہلاکاسرائیل کے گرد گھیرا تنگ: یورپ دور، مسلم دنیا نئی صف بندی میںنصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیاامریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیںپاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کا علاقائی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورحکومت نے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدیوفاقی حکومت کا پینشن کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہسیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 11 دہشت گرد ہلاکاسرائیل کے گرد گھیرا تنگ: یورپ دور، مسلم دنیا نئی صف بندی میںنصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیاامریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیںپاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کا علاقائی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہور

اسرائیل کے گرد گھیرا تنگ: یورپ دور، مسلم دنیا نئی صف بندی میں

اسرائیل کے گرد گھیرا تنگ: یورپ دور، مسلم دنیا نئی صف بندی میں
تحریر امجد اقبال امجد
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیل کو جہاں عسکری محاذ پر مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے، وہیں سفارتی سطح پر بھی اس کی پالیسیوں کے خلاف عالمی آواز پہلے سے زیادہ بلند ہو رہی ہے۔
آج کی اہم پیش رفت یہ ہے کہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس سمیت 12 ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ پورے اسرائیل کے بائیکاٹ کے مترادف نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینی علاقوں سے متعلق پالیسیوں پر مغربی دنیا کے اندر اختلاف اب نمایاں ہو چکا ہے۔
یہ تبدیلی اسرائیل کے لیے معمولی معاملہ نہیں۔ کسی ریاست کی طاقت صرف اس کے طیاروں، میزائلوں اور فوج تک محدود نہیں ہوتی؛ سفارتی حمایت، معاشی روابط اور عالمی رائے عامہ بھی قومی طاقت کا حصہ ہوتے ہیں۔
اسی بدلتے ہوئے ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
اس معاہدے کا بنیادی تصور اجتماعی دفاع ہے۔ یعنی تینوں ممالک اپنی سلامتی کو باہمی تعاون کے ذریعے مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ خطے کے ممالک اپنی قومی سلامتی کو صرف بیرونی طاقتوں کے سہارے نہیں چھوڑنا چاہتے۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیت، ترکیہ کی ترقی کرتی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی معاشی و جغرافیائی اہمیت—اگر یہ تینوں قوتیں مؤثر تعاون میں تبدیل ہوتی ہیں تو خطے میں طاقت کا توازن زیادہ متوازن ہو سکتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اس دفاعی تعاون کو کسی ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد کے بجائے اجتماعی دفاع، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ مضبوط دفاع کا مقصد صرف جنگ لڑنا نہیں بلکہ جنگ کے امکانات کو کم کرنا بھی ہوتا ہے۔
دوسری طرف ایران بھی اسرائیل کے مقابلے میں اپنی جوابی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ صورتحال کو ایران کی فیصلہ کن برتری قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا، لیکن یہ ضرور ہے کہ ایران نے خطے میں طاقت کے حساب کتاب کو آسان نہیں رہنے دیا۔
اصل تبدیلی شاید یہ ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی اور مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ خودمختاری چاہتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا باہمی تعاون اسی نئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر یہ تعاون دفاع کے ساتھ ساتھ معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور سفارت کاری تک پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اگر یورپ میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف اختلاف بڑھتا ہے، مسلم ممالک اپنے دفاعی تعاون کو مضبوط کرتے ہیں اور ایران بھی دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھتا ہے تو واشنگٹن کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پالیسی کو پہلے کی طرح آسانی سے آگے بڑھانا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
اصل کامیابی کسی ایک ملک کو شکست دینا نہیں، بلکہ ایسا علاقائی توازن قائم کرنا ہے جس میں کسی طاقت کو یہ گمان نہ رہے کہ وہ پورے خطے کی تقدیر اکیلے طے کر سکتی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر اپنے دفاعی تعاون کو مستقل سیاسی، معاشی اور سفارتی شراکت داری میں تبدیل کر لیتے ہیں تو یہ صرف تین ممالک کا اتحاد نہیں رہے گا، بلکہ مسلم دنیا کے لیے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔
آج کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں دانش مندی یہی ہے کہ جنگ کے شعلے بھڑکانے کے بجائے اپنی طاقت اتنی مضبوط کی جائے کہ جنگ مسلط کرنے والا بھی سو بار سوچے۔
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نقشہ بدل رہا ہے۔ یورپ کے فاصلے، مسلم دنیا کی نئی صف بندی اور علاقائی طاقتوں کا بڑھتا ہوا تعاون اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے کل کا مشرقِ وسطیٰ کل جیسا نہیں ہوگا۔
اور اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنے موجودہ تعاون کو حقیقی دفاعی، معاشی اور سفارتی طاقت میں ڈھالنے میں کامیاب ہو گئے تو تاریخ شاید یہ لکھے گی کہ خطے کی نئی طاقت کا آغاز جنگ سے نہیں، اتحاد سے ہوا تھا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *