Banner
Daily Sahafat Quetta
September 9, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورمیر عبداللہ جان بزنجو کے انتقال پر زبیر زامرانی کا اظہارِ تعزیتکوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمیآپریشن سوم ناتھ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے،سیدال ناصرصوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اولین ترجیح ہے ،بخت کاکڑصوبے میں مالداری کے فروغ کےلئے عملی اقدامات جاری ہیں ،فیصل جمالیعوامی مسائل حل کئے بغیر پارلیمان تک پہنچنا ممکن نہیں ،محمد خان لہڑیصوبے میں امن کی بحالی کیلئے ملک دشمن عناصر کےخلاف اپنا کردار اد ا کرینگے ،سلیم کھوسہ“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورمیر عبداللہ جان بزنجو کے انتقال پر زبیر زامرانی کا اظہارِ تعزیتکوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمیآپریشن سوم ناتھ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے،سیدال ناصرصوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اولین ترجیح ہے ،بخت کاکڑصوبے میں مالداری کے فروغ کےلئے عملی اقدامات جاری ہیں ،فیصل جمالیعوامی مسائل حل کئے بغیر پارلیمان تک پہنچنا ممکن نہیں ،محمد خان لہڑیصوبے میں امن کی بحالی کیلئے ملک دشمن عناصر کےخلاف اپنا کردار اد ا کرینگے ،سلیم کھوسہ

کوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمی

کوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمی
سال2017-18سے 2021-22کے دوران 9.576ملین روپے کے بھاری بھرکم اخراجات کا حساب دینے سے محکمہ اور ہسپتال حکام گریزاں
کمیٹی نے محکمہ صحت کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ بروقت فراہم نہ کرنے اورکمیٹی کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کو ادارے کی سنگین غفلت قرار دیا
کوئٹہ(خ ن ) پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا اجلاس، سینڈمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر سخت برہمی۔ سنڈیمن پراونشل سول ہسپتال کوئٹہ میں سال 18 -2017 سے 2021-22 تک 10,443 ملین میں سے 9,576 ملین خرچ کیے گئے۔ لیکن ڈیپارٹمنٹ اور سول ہسپتال حکام حساب کتاب دینے سے گریزاں ہیں۔ چیئرمین پی اے سی و اراکین پی اے سی۔بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی کے علاوہ طاہر شاہ کاکڑ سیکرٹری بلوچستان اسمبلی، شجاع علی ڈی جی آڈٹ، شہیک بلوچ اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت، سراج لہڑی اسپیشل سیکرٹری PAC ، سعید اقبال ایڈیشنل سیکرٹری قانون، ڈاکٹر ہادی ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ، ڈاکٹر امین ڈی جی ہیلتھ بلوچستان و دیگر آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سینڈمن پراونشل ہسپتال (SPH) کوئٹہ کے اسپیشل آڈٹ سال 2022-23 کے پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے محکمہ صحت کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ بروقت فراہم نہ کرنے اور پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت صرف اپنا مو¿قف کمیٹی کے سامنے بیان کر رہا ہے رولز ریگولیشنز پر کوئی عملدرآمد نہیں کر رہا جو کہ اسمبلی اور پی اے سی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا، جبکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے باوجود آڈٹ پیراز پرکوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ PAC کو آئینی و قانونی طور پر جو اختیارات حاصل ہیں، ان کا مقصد سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے، تاہم محکمے کی جانب سے کمیٹی کو سنجیدگی سے نہ لینے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ادویات کی غیر قانونی خریداری، 30.016 ملین روپے کا آڈٹ اعتراضاجلاس میں ادویات کی غیر قانونی خریداری سے متعلق 30.016 ملین روپے کے آڈٹ پیرا کا جائزہ لیا گیا۔خصوصی آڈٹ کے دوران یہ بات بھی عیاں ہوئی کہ سینڈمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کی انتظامیہ کی جانب سے 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی خریداری میں اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ کے مطابق سپلائی آرڈر ایک فرم M/s FDL, Peshawar کے نام جاری کیا گیا، جبکہ ادائیگی M/s Health Tech Quetta کو کی گئی۔آڈٹ نے سپلائی آرڈرز اور بلوں میں اس نمایاں فرق کے علاوہ اسٹاک رجسٹر میں اندراجات کے فقدان، ڈلیوری چالان اور انسپیکشن رپورٹس کی عدم دستیابی پر بھی اعتراض اٹھایا۔آڈٹ کے مطابق مذکورہ معاملہ 10 مئی 2023 کو محکمہ کو رپورٹ کیا گیا، تاہم محکمہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں 23 اکتوبر 2023 کو منعقدہ DAC اجلاس میں محکمہ نے مو¿قف اختیار کیا کہ M/s FDL مینوفیکچرنگ ایجنسی جبکہ M/s Health Tech اس کی مجاز ڈسٹری بیوٹر ہے، جس نے M/s FDL کی جانب سے ادویات فراہم کرکے ادائیگی وصول کی۔ڈی اے سی نے محکمہ کو تمام متعلقہ ریکارڈ آڈٹ کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، تاہم ریکارڈ کی تصدیق کے دوران M/s FDL کی رضامندی سمیت اسٹاک رجسٹر، ڈلیوری چالان، انسپیکشن رپورٹس اور ادویات کی کھیپ، بیچ نمبرز اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔چیئرمین PAC نے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے وقت اور اختیارات کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ مکمل کرکے 15 روز کے اندر کمیٹی کو پیش کیا جائے۔مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے کی ادویات غائب ہونے کا معاملہاجلاس میں مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات غائب ہونے کے آڈٹ پیرا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق GFR 151 Vol-I کے تحت اسٹورز کے ذمہ دار افسر پر لازم ہے کہ وہ سرکاری اسٹورز کی محفوظ تحویل، مناسب دیکھ بھال، مکمل ریکارڈ، انوینٹری اور اسٹاک کے درست حساب کو یقینی بنائے تاکہ چوری، نقصان، فراڈ یا دیگر وجوہات سے سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔خصوصی آڈٹ کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات مرکزی اسٹور سے غائب پائی گئیں۔ فارماسسٹ انچارج کی جانب سے معاملہ انتظامیہ کے علم میں لانے کے باوجود اسے حل نہیں کیا گیا۔ مزید برآں ڈلیوری چالان اور انسپیکشن کمیٹی کی رپورٹس بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھیں۔محکمہ نے DAC اجلاس میں مو¿قف اختیار کیا تھا کہ مرکزی اسٹور سے کوئی ادویات غائب نہیں ہوئیں اور آڈٹ تصدیق کے لیے بعض ریکارڈ فراہم کیے گئے، تاہم ریکارڈ کی جانچ کے دوران اسٹاک رجسٹر کے ابتدائی اور اختتامی بیلنس میں تضادات سامنے آئے۔ انتظامیہ ان تضادات کی تسلی بخش وضاحت بھی فراہم نہ کرسکی، جبکہ اسٹاک رجسٹر میں بعض اندراجات بعد از تاریخ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔چیئرمین PAC نے اس معاملے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ملازمین کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل ذمہ داری کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی نے میٹنگ کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ آڈٹ پیرا پر یہ کمیٹی کا چوتھا اجلاس ہے، جبکہ محکمہ کو پہلے بھی متعدد مواقع فراہم کیے جاچکے ہیں۔ ستمبر 2025 میں بھی محکمہ کو مہلت دی گئی تھی، تاہم تاحال مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی۔چیئرمین PAC نے کہا کہ اگر سرکاری ادویات کی گمشدگی اور ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے تسلی بخش وضاحت اور مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو وہ اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (NAB) کو بھجوانے یا FIR درج کرانے کی سفارش پر غور کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اربوں روپے محکمہ صحت پر خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کی کارکردگی انتہائی تشویشناک ہے اور صرف سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک پر سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، جبکہ زمینی صورتحال مختلف ہے۔چیئرمین PAC نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض معطل ملازمین کے حوالے سے بھی یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ اب بھی دفاتر میں حاضری دے رہے ہیں، جو محکمہ کی انتظامی کمزوری اور احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا اور اگر محکمے اجلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ شرکت نہیں کرتے تو کمیٹی کے کام کو مو¿ثر انداز میں آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئندہ اس طرح اجلاس نہیں چلائیں گے اور اس صورتحال سے متعلق چیف سیکرٹری بلوچستان کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ اور یہ رپورٹ/مسئلہ اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔اجلاس کے اختتام پر اراکین کمیٹی کی درخواست پر متعلقہ محکمہ کو دونوں آڈٹ پیراز سے متعلق تمام مطلوبہ ریکارڈ، وضاحتیں اور دستاویزات مکمل کرکے 15 روز کے اندر پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *