Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار مقبول احمد شیخ کی حاجی محمد صالح شیخ سے تعزیتبلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے ،صوبائی وزراءو اراکین صوبائی اسمبلیحکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے ،راحیلہ درانیبھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، ظہور بلیدیسندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک پر یکساں طور پر لازم ہے، صادق عمرانیبلوچستان کی ترقی، امن و استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات ہیں،سرفراز بگٹیسکھر پولیس کا سماجی برائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 2 بدنام زمانہ منشیات فروش گرفتارغیر قانونی اور غیر محفوظ انفینٹ فارمولا کی فروخت برداشت نہیں ہوگی، بی ایف اےخزانہ خالی دعوے بھر پورنصیرآباد میں ہوٹل اور دو مسافر بسوں میں مبینہ ڈکیتی، لاکھوں روپے لوٹ لیے گئےپیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار مقبول احمد شیخ کی حاجی محمد صالح شیخ سے تعزیتبلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے ،صوبائی وزراءو اراکین صوبائی اسمبلیحکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے ،راحیلہ درانیبھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، ظہور بلیدیسندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک پر یکساں طور پر لازم ہے، صادق عمرانیبلوچستان کی ترقی، امن و استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات ہیں،سرفراز بگٹیسکھر پولیس کا سماجی برائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 2 بدنام زمانہ منشیات فروش گرفتارغیر قانونی اور غیر محفوظ انفینٹ فارمولا کی فروخت برداشت نہیں ہوگی، بی ایف اےخزانہ خالی دعوے بھر پورنصیرآباد میں ہوٹل اور دو مسافر بسوں میں مبینہ ڈکیتی، لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے

بلوچستان کے رینج لینڈز میں پالیسی اور کاروباری مواقع پر پانچ روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر

رپورٹر: سمیرا راجپوت

اسلام آباد میں بلوچستان کے رینج لینڈز میں پالیسی سازی، پائیدار انتظام اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے پانچ روزہ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام 28 اگست 2026 کو اختتام پذیر ہوگیا۔

تربیتی پروگرام کا عنوان “Rangeland Policy and Creating Business Opportunities in Rangelands of Balochistan” تھا، جس کا انعقاد FAO Pakistan نے یورپی یونین کے تعاون سے Revival of Balochistan Water Resources Programme (RBWRP) کے تحت کیا۔

تربیت میں حکومتی افسران، جنگلات و رینج لینڈ کے ماہرین، NARC اور PARC کے نمائندوں، محققین اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔

تربیت کا بنیادی مقصد بلوچستان کے وسیع رینج لینڈز اور جنگلاتی وسائل کے پائیدار انتظام، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت، بہتر پالیسی سازی اور مقامی آبادی کے لیے روزگار و کاروباری مواقع پیدا کرنا تھا۔

پہلے روز ڈاکٹر محمد عیسیٰ جان اور ڈاکٹر خالد رفیق نے تربیتی پروگرام کے مقاصد اور اہم نکات پر روشنی ڈالی، جبکہ FAO کی آپریشنز آفیسر مس ایماح، DG NARC اور DG PARC کی جانب سے افتتاحی کلمات ادا کیے گئے۔

تربیتی سیشنز میں پاکستان کی صوبائی رینج لینڈ پالیسیوں اور درپیش چیلنجز پر سید محمود ناصر نے گفتگو کی۔ ڈاکٹر خالد رفیق نے Silvo-Pastoralism کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے درختوں، فصلوں اور چراگاہوں کو مربوط انداز میں استعمال کرنے کی اہمیت بیان کی۔

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سیشن میں Climate-Smart Agriculture Technologies اور CEWRI و JICA کے تجربات پیش کیے گئے، جبکہ ڈاکٹر غنی اکبر نے متعلقہ موضوع پر تفصیلی بریفنگ دی۔

کنزرویٹر جعفر علی بلوچ نے بلوچستان کی مجوزہ رینج لینڈ پالیسی پیش کی اور اس کے اہم پہلوؤں پر شرکاء سے تبادلہ خیال کیا۔ پہلے روز کا اختتام رینج لینڈ مصنوعات میں موجود کاروباری امکانات پر پینل ڈسکشن سے ہوا۔

دوسرے روز تربیت کا محور بلوچستان کے رینج لینڈز اور جنگلاتی وسائل کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنا تھا۔ ڈاکٹر محمد عیسیٰ جان اور مسٹر عمران انعام نے ویلیو چینز کے قیام اور رینج لینڈ و جنگلاتی مصنوعات کے ذریعے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی۔

FAO کے مسٹر نعیم اقبال نے کمیونٹی کی سطح پر خطرات کے تجزیے اور Anticipatory Risk Planning کے حوالے سے سیشنز کی قیادت کی۔ اس کے بعد رینج لینڈ وسائل پر مبنی Small and Medium Enterprises، یعنی SMEs کے قیام کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔

شرکاء کو Non-Timber Forest Products یعنی NTFPs، کمرشل فاریسٹری اور مختلف تجارتی مصنوعات، جن میں جڑی بوٹیاں، ریزن، شہد، تھچ، لکڑی اور ایندھن کی لکڑی شامل ہیں، کے کاروباری امکانات سے آگاہ کیا گیا۔

دوسرے روز کے اختتام پر روایتی چرواہا برادری کے علم و تجربات اور رینج لینڈ مصنوعات کی ویلیو چین قائم کرنے کی اہمیت پر پینل ڈسکشن ہوئی۔

تیسرے روز شرکاء کو عملی تجربے کے لیے فیلڈ وزٹس کرائے گئے، جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ رینج لینڈ مینجمنٹ، لکڑی کے مؤثر استعمال اور جنگلاتی وسائل کے انتظام کے عملی طریقوں کا مشاہدہ کیا۔

فیلڈ وزٹ کی رہنمائی ڈپٹی کنزرویٹر آف فارسٹ یاسر مسعود نے کی۔

چوتھے روز شرکاء نے Punjab Forest Academy, Murree کا دورہ کیا، جہاں انہیں جنگلات کے انتظام سے متعلق قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک سے آگاہ کیا گیا۔

مری فارسٹ ڈویژن کے فیلڈ اسٹڈی کے دوران Community-Based Forest Management، Forest Governance اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دورے کو ڈپٹی کنزرویٹر آف فارسٹ سدھر احمد نے مربوط کیا۔

تربیت کے آخری روز بین الاقوامی تجربات اور رینج لینڈ پر مبنی کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت کے موضوعات پر توجہ دی گئی۔

ڈاکٹر محمد عیسیٰ جان نے تھائی لینڈ کے One Tambon One Product (OTOP) ماڈل پر تفصیلی پریزنٹیشن دی اور بتایا کہ مقامی وسائل، روایتی علم، کمیونٹی کی شمولیت اور Value Addition کے ذریعے دیہی علاقوں میں پائیدار کاروباری مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

مس ساجدہ تاج نے رینج لینڈ پر مبنی SMEs کے قیام اور ترقی میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیا اور ویلیو چینز اور معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی مؤثر شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔

تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان، FAO پاکستان، NARC، PARC اور دیگر شراکت دار اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات، حکومت بلوچستان، عمران گچکی نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے FAO اور تمام شراکت دار اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے رینج لینڈز اور جنگلات کے پائیدار انتظام کے لیے ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانا اور تربیت سے حاصل ہونے والے علم کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

اسسٹنٹ FAOR-Programme، مس آمنہ باجوہ نے بھی اختتامی سیشن سے خطاب کیا اور سرکاری افسران، ماہرین اور شراکت دار اداروں کی فعال شرکت کو سراہا۔

انہوں نے FAO، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات، NARC، تحقیقی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اختتامی تقریب میں شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

شرکاء نے FAO پاکستان، محکمہ جنگلات، NARC، resource persons، فیلڈ ٹیموں اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا اور تربیت کو بلوچستان کے رینج لینڈز کے بہتر انتظام اور معاشی ترقی کے لیے مفید قرار دیا۔

تربیتی پروگرام کے دوران پنجاب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ادارہ جاتی اور فیلڈ تجربات کو بلوچستان میں قابلِ عمل بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، بالخصوص جنگلاتی گورننس، کمیونٹی کی شمولیت، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ رینج لینڈ مینجمنٹ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور جنگلات میں آگ سے نمٹنے کے حوالے سے۔

پروگرام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان کے رینج لینڈز کے بہتر انتظام، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ان سے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومتی اداروں، تحقیقی تنظیموں، FAO اور دیگر شراکت داروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *