Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقفاستا محمد پریس کلب کا پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں کی خبروں کے بائیکاٹ کا اعلانتیسری جنس، آخر قصور کس کا ہےذیکاس سکول سسٹم اور ہولیسٹک فوسٹر کیئر فاؤنڈیشن کا تعلیم و سماجی خدمت کے فروغ کے لیے اشتراک پر اتفاقتھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمیکشور کمار کا تاریخی بنگلہ کس کے نام؟ ویرات کوہلی سے متعلق بڑا دعویٰ جھوٹا نکلابلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاکچھ لاکھ کی لکیر اور فروخت شدہ تاریخ، ڈیورنڈ معاہدے کا تاریک سچ!!!نااہلی کا راج اور مسائل کے انبارافکار کی غلامی اور حریتِ فکر کا بحرانتحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقفاستا محمد پریس کلب کا پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں کی خبروں کے بائیکاٹ کا اعلانتیسری جنس، آخر قصور کس کا ہےذیکاس سکول سسٹم اور ہولیسٹک فوسٹر کیئر فاؤنڈیشن کا تعلیم و سماجی خدمت کے فروغ کے لیے اشتراک پر اتفاقتھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمیکشور کمار کا تاریخی بنگلہ کس کے نام؟ ویرات کوہلی سے متعلق بڑا دعویٰ جھوٹا نکلابلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاکچھ لاکھ کی لکیر اور فروخت شدہ تاریخ، ڈیورنڈ معاہدے کا تاریک سچ!!!نااہلی کا راج اور مسائل کے انبارافکار کی غلامی اور حریتِ فکر کا بحران

افکار کی غلامی اور حریتِ فکر کا بحران

یہ انسان کی تاریخ کا عجیب ترین دور ہے اور فکر و نظر کی دنیا میں ایک زبردست انقلاب کا دورِ زوال۔ جس عہد کو ہم علم کی روشنی اور بصیرت کا زمانہ قرار دیتے ہیں، اگر اس کے اندرونی حقائق پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ محض ایک ظاہری دھوکا اور بصارت کا سراب ہے۔ انسان نے مادی تسخیر کے میدان میں تو حیرت انگیز ترقیاں کر لیں، تسخیرِ افلاک کے سوانگ رچا لیے، مگر اپنے باطن اور فکر و عمل کے باب میں وہ زوال کی ان گہری گھاٹیوں میں جا گرا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ تاریک دکھائی دیتا ہے۔ فکر و خیال کی حریت، جو انسانی شرف کی معراج تھی، آج مصلحت اور مفاہمت کے بازار میں ارزاں قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہے۔
ہماری موجودہ حالت ایک ایسی نو گرفتارِ بلا کی سی ہے جو اپنے پاؤں کی زنجیروں کو زوارِ زیبائش سمجھ کر ان پر فخر کرتی ہے۔ تقلید اور کورانہ پیروی کا یہ عالم ہے کہ انسان نے خود سوچنا، پرکھنا اور غور و فکر کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ دوسروں کے افکار کو بغیر کسی تمیز، سنجیدگی اور برہان کے قبول کر لینا اور اپنے فکر و دانش کے چراغ کو بجھا دینا ہی آج کا سب سے بڑا اخلاقی المیہ ہے۔ یہ وہی حالت ہے جسے حکماء نے “اندھے کو اندھا کھینچے” کی مثال سے تعبیر کیا ہے۔ جب کسی معاشرے کی باگ ڈور ایسے طبقات کے ہاتھوں میں آ جائے جو بصیرت سے بالکل عاری، اور ذاتی مفاد پرستی کے اسیر ہوں، تو پھر حریتِ فکر کی شمع کا بجھ جانا اور جہالت کا غالب آ جانا ایک لازمی امر بن جاتا ہے۔
ہم تاریخ کی اس راہگزر پر کھڑے ہیں جہاں حق اور باطل کے مفاہمت نامے لکھے جا رہے ہیں۔ انسان نے زبان کو حقیقت کے بیان، صداقت کے اظہار اور مظلوم کی حمایت کے لیے نہیں، بلکہ مصلحت کے چھپانے اور باطل کو حق کا لباس پہنانے کے لیے استعمال کرنا سکھا دیا ہے۔ “دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں” کا خوف اس قدر دلوں پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ انسان اپنی ذات کی تنہائیوں میں بھی سچ بولتے ہوئے ہچکچاتا ہے۔ ہم نے سچائی کی قیمت پر عارضی آسائش اور سکون کو خرید لیا ہے، اور فکر کی آزادی کو مادی منافع کی قربان گاہ پر ذبح کر دیا ہے۔ مگر دنیا کی تاریخ اور زوال پذیر قوموں کے حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے افکار کو مصلحت کا لباس پہنایا، اس کی حیثیت “کاٹھ کی ہانڈی” سے زیادہ کچھ نہ رہی جو پہلی ہی آزمائش میں پاش پاش ہو جاتی ہے۔
علم و ادب، تحریر و تقریر اور فکر و دانش کی محفلیں، جو کسی زمانے میں حق کی تلاش، سچائی کی جستجو اور باطل کے سامنے بند باندھنے کا مرکز ہوا کرتی تھیں، آج وہ محض الفاظ کی بازیگری اور بے روح بحث و مباحثے کی تسکین کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لوگ باتوں کے جال بُنتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ “ہتھیلی پر سرسوں جمانا” ممکن ہو چکا ہے، مگر کسی قوم کی اخلاقی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کیے بغیر اس کی حقیقی بقا اور عروج کا تصور بالکل ناممکن ہے۔ ہم روزانہ الفاظ کے نئے قصر تعمیر کرتے ہیں، لیکن ان میں حکمت، صداقت اور عمل کی کوئی ایک اینٹ بھی موجود نہیں ہوتی۔ یہ وہ معنوی زوال ہے جہاں انسان کا ظاہر جتنا تابناک اور زرق برق دکھائی دیتا ہے، اس کا باطن اتنا ہی تاریک، ویران اور کھوکھلا ہو چکا ہے۔
اس کاگھلاؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی منطق کو برتری حاصل ہے۔ سچ بولنے والے کو نادان اور مصلحت پسند کو دانشمند سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے حق گوئی کی پاداش میں ملنے والی صعوبتوں سے منہ موڑ لیا اور باطل کی خوشامد کو کامیابی کی کنجی بنا لیا ہے۔ جب قومیں فکری طور پر مفلوج ہو جاتی ہیں تو ان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے، اور مردہ ضمیر قوموں کا وجود زمین پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کا علاج تماشائی بن کر دیکھنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندیشوں اور خوف کے صنم کدوں کو گرانے میں ہے۔
اگر اب بھی ہم نے اپنے فکر و عمل کے اس جمود کو نہ توڑا اور افکار کی اس غلامی سے نجات حاصل نہ کی، تو تاریخ کا کوڑا ہمیں اس طرح سزایاب کرے گا کہ ہمارا نام و نشان بھی صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔ فکر کی آزادی کوئی ایسی نعمت نہیں جو کسی تشت میں سجا کر تحفے کے طور پر پیش کی جائے، بلکہ یہ وہ گوہرِ نایاب ہے جسے مسلسل جدوجہد، بیداری، فکری بیدار مغزی اور قربانی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ وقت کا سخت ترین تقاضا ہے کہ ہم مصلحتوں کے ان قفص کو توڑ کر سچائی کے میدان میں قدم رکھیں، کیونکہ بزدلی کی سو سالہ زندگی سے جرات کا ایک لمحہ بہ درجہا بہتر ہے، اور یہی فکر و نظر کا وہ پیام ہے جو کسی بھی دور کے انسان کو زوال کی تاریکیوں سے نکال کر عروج کی روشنی عطا کر سکتا ہے۔
کالم نگار: نصیب احمد قلندر

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *