Banner
Daily Sahafat Quetta
August 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیبلوچستان میں نفرت کی سازشیں ناکام بنائیں گے،رخسانہ گل کاکڑپاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقصومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیبلوچستان میں نفرت کی سازشیں ناکام بنائیں گے،رخسانہ گل کاکڑپاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقصومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

خلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی

تحریر: یاسر دانیال صابری

پاکستان آج جن بڑے قومی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں شدید بارشوں، تباہ کن سیلاب، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF)، خشک سالی، جنگلات میں کمی اور فضائی آلودگی نے ملک کے قدرتی اور معاشی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان تمام خطرات کا سب سے زیادہ اثر گلگت بلتستان پر پڑ رہا ہے، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے اور ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی جانب سے گلگت میں “خلائی ٹیکنالوجی برائے موسمیاتی تبدیلی” کے موضوع پر دوسرا علاقائی سمپوزیم منعقد کرنا ایک خوش آئند، بروقت اور دور رس اقدام ہے۔موسمیاتی تبدیلی اب صرف سائنسی بحث کا موضوع نہیں رہی بلکہ یہ انسانی زندگی، معیشت، زراعت، پانی، توانائی اور قومی سلامتی سے جڑا ایک حقیقت پسندانہ مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نہایت کم حصہ رکھتے ہیں، مگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور ریموٹ سینسنگ جیسے ذرائع کو قومی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔گلگت بلتستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہاں موجود برفانی ذخائر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔ دریائے سندھ سمیت کئی بڑے دریاؤں کی بنیاد انہی گلیشیئرز پر قائم ہے۔ تاہم بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان گلیشیئرز کو غیر معمولی رفتار سے پگھلا رہا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کی تعداد اور حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب یہ جھیلیں اچانک پھٹتی ہیں تو تباہ کن سیلاب آتے ہیں جو پل، سڑکیں، آبادی، کھیت، باغات اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں آنے والے سیلابوں نے واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا نہیں بلکہ آج کا بحران ہے۔ کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں منقطع ہوئیں، آبپاشی کے نظام تباہ ہوئے، مکانات متاثر ہوئے اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ان حالات میں صرف امدادی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ایسے سائنسی نظام کی ضرورت ہے جو خطرات کی بروقت نشاندہی کرے اور حکومت کو فوری فیصلوں میں مدد دے۔
اسی تناظر میں سپارکو کا “Space4Climate” منصوبہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستانی سیٹلائٹس، خصوصاً PRSS-1 اور مجوزہ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹس، زمین کے مختلف حصوں سے مسلسل معلومات حاصل کریں گے۔ ان معلومات کی مدد سے گلیشیئرز کی نقل و حرکت، برف پگھلنے کی رفتار، جنگلات کی صورتحال، فضائی آلودگی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج، آبی ذخائر اور قدرتی وسائل کی نگرانی ممکن ہوگی۔ اس سے صرف موسمیاتی تحقیق ہی نہیں بلکہ آفات سے قبل تیاری، شہری منصوبہ بندی، زرعی ترقی اور آبی وسائل کے بہتر انتظام میں بھی مدد ملے گی۔
خلائی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ زمینی سروے کے مقابلے میں زیادہ وسیع، تیز اور مسلسل معلومات فراہم کرتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کی بدولت ایسے علاقوں کی نگرانی بھی ممکن ہوتی ہے جہاں انسانی رسائی مشکل ہو۔ گلگت بلتستان جیسے دشوار گزار پہاڑی خطے میں یہ سہولت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اکثر قدرتی آفات دور دراز علاقوں میں جنم لیتی ہیں اور ان کی بروقت معلومات نہ ہونے کے باعث نقصانات بڑھ جاتے ہیں۔
سمپوزیم کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں سائنسدان، ماہرین ماحولیات، پالیسی ساز، سرکاری ادارے، جامعات اور صنعت سے وابستہ افراد ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔ موسمیاتی بحران کسی ایک ادارے یا شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب تحقیق، پالیسی اور عملی اقدامات آپس میں جڑ جائیں تو بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔
آج دنیا ترقی یافتہ ممالک کی طرح خلائی سائنس کو صرف چاند اور ستاروں تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ اسے روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ زراعت، پانی، جنگلات، شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات، مواصلات اور صحت کے شعبوں میں سیٹلائٹ ڈیٹا انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ سائنسی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں جی بی میں یہاں ایک جدید موسمیاتی ڈیٹا سینٹر، گلیشیئر مانیٹرنگ نیٹ ورک اور مقامی سطح پر ابتدائی وارننگ سسٹم کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اگر سپارکو، حکومت گلگت بلتستان، جامعات، تحقیقاتی ادارے اور مقامی کمیونٹیز مشترکہ طور پر کام کریں تو قدرتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔اسکے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کو خلائی سائنس، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)، ریموٹ سینسنگ، مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تحقیق میں خصوصی تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔ نوجوان نسل ہی مستقبل میں ان جدید نظاموں کو چلانے اور مزید ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اگر تعلیمی اداروں میں ان شعبوں کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف مقامی مہارت بڑھے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ جنگلات کے تحفظ، شجرکاری، پانی کے مؤثر استعمال، ماحول دوست توانائی، غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور عوامی شعور بیدار کرنے جیسے اقدامات بھی یکساں اہم ہیں۔ خلائی ٹیکنالوجی ان کوششوں کو مؤثر، قابل اعتماد اور سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔سپارکو کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)، پیرس معاہدے اور سیندائی فریم ورک کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور جدید سائنسی ذرائع کو قومی ترقی کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔جی بی کے حالیہ سیلابوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر بروقت نگرانی، درست پیش گوئی اور مؤثر منصوبہ بندی موجود ہو تو کئی قیمتی جانیں، اربوں روپے کے اثاثے اور اہم بنیادی ڈھانچہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خلائی سائنس انسانی خدمت کا حقیقی ذریعہ بنتی ہےضرورت اس امر کی ہے کہ اس سمپوزیم کی سفارشات کو صرف کانفرنس ہال تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ مقامی حکومت، وفاقی ادارے، جامعات اور نجی شعبہ مشترکہ طور پر ایک جامع موسمیاتی حکمت عملی مرتب کریں، جس میں سیٹلائٹ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، جدید نقشہ سازی اور مقامی معلومات کو یکجا کیا جائے۔اگر آج سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی سازی کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تو نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورا پاکستان موسمیاتی خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔ سپارکو کا دوسرا علاقائی سمپوزیم اسی روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ اقدام تحقیق، اختراع اور عملی اقدامات کے نئے دروازے کھولے گا اور پاکستان کو ایک محفوظ، پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں مستقبل انہی قوموں کا ہوگا جو علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کی بنیاد بنائیں گی۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت نوجوان، مضبوط سائنسی ادارے اور قدرتی وسائل موجود ہیں۔ اگر ان تمام صلاحیتوں کو ایک مؤثر قومی حکمت عملی کے تحت بروئے کار لایا جائے تو نہ صرف موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، خوشحال اور پائیدار پاکستان بھی تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *