Banner
Daily Sahafat Quetta
August 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہڈاکٹر ماہ نور ناصر مزید علاج کے لیے کلیولینڈ ہسپتال ابوظہبی منتقلبلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعلیٰ” شہید تیمور شاہ کاکڑ ” ایسا چراغ جو بجھ کر بھی روشن ہےپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اور قدم، حکومت سے فنڈز طلببچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرستامریکا دوبارہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری پر آمادہ ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہجماعت اسلامی کا 7 اگست احتجاج؛ حافظ نعیم نے خصوصی ویڈیو پیغام جاری کردیاوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہڈاکٹر ماہ نور ناصر مزید علاج کے لیے کلیولینڈ ہسپتال ابوظہبی منتقلبلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعلیٰ” شہید تیمور شاہ کاکڑ ” ایسا چراغ جو بجھ کر بھی روشن ہےپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اور قدم، حکومت سے فنڈز طلببچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرستامریکا دوبارہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری پر آمادہ ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہجماعت اسلامی کا 7 اگست احتجاج؛ حافظ نعیم نے خصوصی ویڈیو پیغام جاری کردیا

” شہید تیمور شاہ کاکڑ ” ایسا چراغ جو بجھ کر بھی روشن ہے

” شہید تیمور شاہ کاکڑ ”
ایسا چراغ جو بجھ
کر بھی روشن ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحۂ 8 اگست 2016ء کے
عظیم شہداء کو خراجِ
عقیدت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قیوم بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ کے صفحات پر کچھ نام ایسے ثبت ہو جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ دھندلے نہیں ہوتے بلکہ مزید روشن ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی زندگی کی طوالت سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنے اخلاق، اپنی خدمت اور اپنی قربانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ بلوچستان کے ان ہی روشن ناموں میں ایک نام شہید تیمور شاہ کاکڑ ایڈووکیٹ کا بھی ہے۔جنہوں نے اپنی مختصر مگر باوقار زندگی میں محبت، خلوص، شرافت اور خدمتِ خلق کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی انہیں جاننے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ 8 اگست 2016 کا دن بلوچستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس دن دہشت گردی نے صرف قیمتی جانیں ہی نہیں لیں بلکہ انصاف، قانون، علم اور امید کے کئی روشن چراغ بجھا دیے۔ سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے نے درجنوں خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے اور وکلاء برادری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ انہی عظیم شہداء میں شہید تیمور شاہ کاکڑ بھی شامل تھے۔ شہید تیمور شاہ کاکڑ ایک وکیل ضرور تھے، مگر ان کی پہچان صرف وکالت تک محدود نہیں تھی۔ وہ نرم خو، خوش اخلاق، باوقار اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہر شخص سے احترام سے پیش آتے، دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے اور حتیٰ المقدور مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے دوستوں، ساتھیوں اور جاننے والوں کے دلوں میں ان کے لیے بے حد محبت اور احترام پایا جاتا تھا۔ ان کا تعلق معروف کاروباری خاندان سے تھا۔ وہ معروف ٹرانسپورٹ ادارے شاہ موورز کے بانی مرحوم ظاہر شاہ کاکڑ کے بھائی تھے۔ ایک باوقار خاندانی پس منظر رکھنے کے باوجود ان میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ عاجزی، شائستگی اور خندہ پیشانی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ وہ لوگوں سے رشتہ عہدوں یا حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر استوار کرتے تھے۔بچپن ہی سے ان کی طبیعت میں سنجیدگی، شائستگی اور ذمہ داری نمایاں تھی۔ وہ اپنے بزرگوں کا احترام، دوستوں سے وفاداری اور چھوٹوں سے شفقت کو اپنی زندگی کا اصول سمجھتے تھے۔ انہیں دیکھنے والا ہر شخص ان کے مہذب رویے اور متوازن گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے دلیل، برداشت اور حسنِ اخلاق سے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ وکالت کا شعبہ انہوں نے صرف روزگار کے لیے نہیں بلکہ انصاف کے قیام کے جذبے کے ساتھ اختیار کیا۔ وہ اس سوچ کے حامل تھے کہ قانون کمزور اور مظلوم کے حقوق کا محافظ ہونا چاہیے۔ ان کا یقین تھا کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو اور انصاف بلا امتیاز فراہم کیا جائے۔ یہی سوچ انہیں اپنے ساتھی وکلاء میں ممتاز بناتی تھی۔ وہ عدالت کو صرف ایک پیشہ ورانہ میدان نہیں بلکہ انصاف کے مقدس ادارے کے طور پر دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک وکیل کا اصل فرض حق اور انصاف کی سربلندی تھا، نہ کہ ذاتی مفاد۔ اسی وجہ سے وہ اپنے مؤکلین کے ساتھ نہایت دیانت داری اور اخلاص سے پیش آتے تھے اور ہمیشہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے۔ شہید تیمور شاہ کاکڑ کی شخصیت میں خدمتِ خلق کا جذبہ نمایاں تھا۔ وہ سماجی تقریبات، عوامی مسائل اور رفاہی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے تھے۔ ان کے لیے دوسروں کی خوشی اپنی خوشی اور دوسروں کا دکھ اپنا دکھ تھا۔ ان کے اخلاق اور کردار نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا۔ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کو بھی اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ جب بھی کسی نوجوان کو تعلیم، کیریئر یا قانونی شعبے سے متعلق رہنمائی کی ضرورت پیش آتی، وہ خندہ پیشانی سے اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے نوجوان تعلیم، شعور اور قانون کی طاقت سے اپنا مستقبل سنواریں۔ 8 اگست 2016 سے قبل بلوچستان پہلے ہی دہشت گردی کی کئی دردناک وارداتوں کا سامنا کر چکا تھا، مگر اس دن پیش آنے والا سانحہ اپنی نوعیت کا منفرد اور انتہائی المناک تھا۔دہشت گردوں نے جان بوجھ کر ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو قانون، انصاف اور آئین کے محافظ تھے۔ اس حملے نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کو سوگوار کر دیا۔ پھر وہ المناک لمحہ آیا جب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی شہادت کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ میں جمع ہونے والے وکلاء، صحافیوں اور شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ چند سیکنڈوں میں ہر طرف قیامت کا منظر تھا۔سیاہ کوٹ خون سے سرخ ہو گئے، آہ و بکا کی صدائیں بلند ہوئیں، اور کئی گھر ہمیشہ کے لیے ویران ہو گئے۔
یہ حملہ دراصل پاکستان کے عدالتی نظام پر حملہ تھا۔ اس دن بلوچستان نے صرف قابل وکلاء ہی نہیں بلکہ مستقبل کے جج، قانونی ماہرین، سماجی رہنماؤں اور قوم کے ذہین سپوتوں کو کھو دیا۔ اس سانحے کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں اور اس کی یاد ہر سال قوم کے زخم تازہ کر دیتی ہے۔ اس اندوہناک سانحے میں شہید تیمور شاہ کاکڑ بھی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ ان کی شہادت صرف ان کے خاندان کا نقصان نہیں تھی بلکہ پوری وکلاء برادری، ان کے دوستوں، عزیزوں اور بلوچستان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ ایسے کردار بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ ان کی جدائی نے ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو ایسا غم دیا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ لیکن شہداء کبھی مرتے نہیں، وہ اپنی نیکیوں، خدمات اور کردار کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا ذکر احترام، محبت اور عقیدت سے کیا جاتا ہے۔شہادت کا مفہوم صرف جان کا نذرانہ پیش کرنا نہیں بلکہ سچائی، اصول اور انسانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا بھی ہے۔ شہید تیمور شاہ کاکڑ کی پوری زندگی اسی فکر کی آئینہ دار تھی۔ ان کا نام آج بھی احترام سے لیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اخلاق، خلوص اور کردار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ قرآنِ کریم میں شہداء کو زندہ قرار دیا گیا ہے۔ یہی عقیدہ اہلِ ایمان کے دلوں کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ وہ اپنے رب کے حضور بلند مقام رکھتے ہیں جبکہ دنیا میں ان کی نیکیاں اور یادیں نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔وقت گزر گیا، برسوں بیت گئے، مگر شہداء 8 اگست کی یاد آج بھی دلوں کو غمزدہ کر دیتی ہے۔ جب بھی اس سانحے کا ذکر ہوتا ہے تو شہید تیمور شاہ کاکڑ سمیت تمام شہداء کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کے لیے یہ دکھ کبھی پرانا نہیں ہوگا، مگر انہیں اس بات پر فخر بھی ہے کہ ان کا پیارا وطن، قانون اور انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوا۔ ہر سال 8 اگست کو جب شہداء کی برسی منائی جاتی ہے تو بلوچستان کا ہر باشعور فرد ان عظیم قربانیوں کو یاد کرتا ہے۔ اس دن کی تقریبات صرف تعزیتی اجتماعات نہیں ہوتیں بلکہ یہ اس عزم کی تجدید بھی ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا جائے گا اور قانون و انصاف کا سفر جاری رہے گا۔ شہید تیمور شاہ کاکڑ کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک سبق ہے کہ اصل کامیابی دولت یا شہرت نہیں بلکہ اچھا کردار، دیانت، انسان دوستی اور خدمت ہے۔معاشرے زندہ رہتے ہیں جب ان میں ایسے لوگ موجود ہوں جو انصاف، محبت اور اخلاص کی شمع روشن رکھیں۔ اگر ہم شہداء کی قربانیوں کو صرف تقریروں اور بیانات تک محدود کر دیں تو یہ ان کے مشن کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کے افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔ بلوچستان کو آج بھی ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو شہید تیمور شاہ کاکڑ جیسے کردار، دیانت، برداشت، قانون پسندی اور خدمت کے جذبے کو اپنا نصب العین بنائیں۔ قوموں کی ترقی کا راز صرف معاشی وسائل میں نہیں بلکہ ایسے کردار ساز انسانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر معاشرے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ سانحۂ 8 اگست نے پوری قوم کو یہ سبق دیا کہ دہشت گردی صرف افراد کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ قوموں کے مستقبل، تعلیمی اداروں، عدالتی نظام اور اجتماعی شعور پر حملہ کرتی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے جبکہ حق، کردار اور قربانی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
آج جب ہم شہید تیمور شاہ کاکڑ کو یاد کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک ایسے باوقار انسان کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے اپنی زندگی میں محبت بانٹی، عزت کمائی اور اپنے کردار سے دل جیتے۔ ان کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا، کیونکہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔
آئیں عہد کریں کہ ہم شہید تیمور شاہ کاکڑ اور سانحۂ 8 اگست کے تمام شہداء کی قربانیوں کو اپنی زندگیوں میں قانون کی پاسداری، انصاف، قومی اتحاد، مذہبی رواداری اور انسانیت کی خدمت کے ذریعے زندہ رکھیں گے۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔
آئیں یہ بھی عہد کریں کہ ہم اپنے معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے رواداری، ناانصافی کے بجائے انصاف اور انتقام کے بجائے قانون کی حکمرانی کو فروغ دیں گے۔ یہی وہ پیغام ہے جو شہداء اپنے خون سے ہمیں دے گئے ہیں، اور یہی ان کی قربانیوں کا اصل مقصد بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ شہید تیمور شاہ کاکڑ ایڈووکیٹ سمیت سانحۂ 8 اگست 2016 کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور پاکستان، بالخصوص بلوچستان، کو امن، انصاف اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ شہید تیمور شاہ کاکڑ جسمانی طور پر ہم سے جدا ضرور ہوئے، مگر ان کا کردار، ان کی شرافت، ان کی انسان دوستی اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہی شہادت کی اصل عظمت ہے، اور یہی ایک سچے انسان کی لازوال پہچان ہے۔ سلام ہو شہید تیمور شاہ کاکڑ اور سانحۂ 8 اگست 2016 کے تمام عظیم شہداء کو، جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین پر وفا، قانون، انصاف اور قربانی کی ایسی داستان رقم کی جو رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کو حوصلہ، عزم اور کردار کا درس دیتی رہے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *