Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چیئرمین مارکیٹ کمیٹی ساجد عباسی سے وفد کی اہم ملاقاتہزار گنجی میں بدامنی کے واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے، جمعیت علمائے اسلام کوئٹہگنداواہ: ایم ایس ڈاکٹر منصور احمد کھوسہ کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا تفصیلی دورہفوجی فرٹیلائزر کمپنی کا سال 2026 کا تیسرا کارپوریٹ بریفنگ سیشن منعقدمیر فدا حکیم رند کی منیر مومن کے گھر آمد، اہلیہ کے انتقال پر تعزیتانسانی خدمت سب سے بڑا مشن ہے، محمد رفیع کھرلیومِ استحصالِ کشمیر پر سوراب میں بھرپور یکجہتی ریلی نکالی گئیصومالیہ کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتبلوچستان کے کسی ضلع کو ترقی کے سفر میں پیچھے نہیں چھوڑینگے، میر سرفراز بگٹیشہداءکا احترام اور صوبے میں امن کا قیام ہماری اولین ذمہ داری ہے،آئی جی پولیس بلوچستانچیئرمین مارکیٹ کمیٹی ساجد عباسی سے وفد کی اہم ملاقاتہزار گنجی میں بدامنی کے واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے، جمعیت علمائے اسلام کوئٹہگنداواہ: ایم ایس ڈاکٹر منصور احمد کھوسہ کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا تفصیلی دورہفوجی فرٹیلائزر کمپنی کا سال 2026 کا تیسرا کارپوریٹ بریفنگ سیشن منعقدمیر فدا حکیم رند کی منیر مومن کے گھر آمد، اہلیہ کے انتقال پر تعزیتانسانی خدمت سب سے بڑا مشن ہے، محمد رفیع کھرلیومِ استحصالِ کشمیر پر سوراب میں بھرپور یکجہتی ریلی نکالی گئیصومالیہ کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتبلوچستان کے کسی ضلع کو ترقی کے سفر میں پیچھے نہیں چھوڑینگے، میر سرفراز بگٹیشہداءکا احترام اور صوبے میں امن کا قیام ہماری اولین ذمہ داری ہے،آئی جی پولیس بلوچستان

خضدار واقعے پر بلوچستان اسمبلی میں شدید احتجاج، نواب ثناء اللہ زہری کے گھر چھاپے کا مطالبہ، وزراء کا واک آؤٹ

کوئٹہ (خبر نگار): بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خضدار میں معصوم بچی عاصمہ جتک کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے اور ان کے والد کے قتل پر شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ صوبائی وزراء میر صادق عمرانی، میر ضیاء اللہ لانگو، میر علی مدد جتک، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ظالموں کی فوری گرفتاری اور متعلقہ پولیس افسران کی معطلی کا مطالبہ کیا۔

پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے بتایا کہ ملزم ظہور نے رشتہ نہ ملنے پر پہلے عاصمہ جتک کے منگیتر کو شہید کیا۔ بعد ازاں عاصمہ نے قرآن پاک اٹھا کر حکومت سے انصاف کی اپیل کی، لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد درندہ صفت قاتلوں نے اس کے والد کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی شہید کر دیا۔ علی مدد جتک اس ظالمانہ واقعے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے ان کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی مظلوموں کے ساتھ ہے، قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور آئی جی پولیس، ڈی آئی جی اور ایس پی کو ایوان میں طلب کر کے جواب طلبی کی جائے۔

حق دو تحریک کے رہنما اور رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے اسمبلی فلور پر حکومت کو سخت چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کی کڑیاں چیف آف جھالوان نواب ثناء اللہ زہری سے ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “اگر حکومت میں غیرت ہے تو وہ نواب ثناء اللہ زہری کے گھر پر چھاپہ مارے، قاتل وہاں سے گرفتار ہو جائے گا۔” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر ہم حکومت اور اپوزیشن مل کر ایک معصوم بچی کی فریاد نہیں سن سکتے تو ہمیں اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔

اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ واقعہ ان کے اپنے علاقے میں پیش آیا ہے اور مقتولہ کی بہن کا فون آنے کے بعد وہ غم کی وجہ سے رات بھر سو نہیں سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس مظلوم خاندان کو انصاف نہیں دے سکتی تو اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی، وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس ہیں۔ انہوں نے نچلے پولیس افسران کو صرف طلب کرنے کے بجائے فوری معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر سطح پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *