Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خاران میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کے بعد کلیئرنس آپریشن جاریکوئٹہ: سیٹلائٹ ٹاؤن میں نوجوان قتل، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیںبلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیاقائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ، حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتل30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کرنے والا کہتا ہے سسٹم نہیں چل سکتا، رانا ثنا کی محسن نقوی پر تنقیدخیبر پختونخوا میں آپریشن 11 گرج کے تحت متعدد خوارج ہلاک، کئی ٹھکانے بھی تباہ27ویں آئینی ترمیم اور اس پر تنقیدمحمد فیصل ندیم سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقررتاریخ رقم کرنے والے نرمل پرجا براڈ پیک پر زندگی کی بازی ہار گئےڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سکھر کا روہڑی تا رحیم یار خان فٹ پلیٹ معائنہ، ریلوے آپریشن، ٹریک اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہخاران میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کے بعد کلیئرنس آپریشن جاریکوئٹہ: سیٹلائٹ ٹاؤن میں نوجوان قتل، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیںبلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیاقائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ، حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتل30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کرنے والا کہتا ہے سسٹم نہیں چل سکتا، رانا ثنا کی محسن نقوی پر تنقیدخیبر پختونخوا میں آپریشن 11 گرج کے تحت متعدد خوارج ہلاک، کئی ٹھکانے بھی تباہ27ویں آئینی ترمیم اور اس پر تنقیدمحمد فیصل ندیم سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقررتاریخ رقم کرنے والے نرمل پرجا براڈ پیک پر زندگی کی بازی ہار گئےڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سکھر کا روہڑی تا رحیم یار خان فٹ پلیٹ معائنہ، ریلوے آپریشن، ٹریک اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ

مسجد آباد دل ویران

محمدنسیم رنزوریار

مسجد آباد دل ویران

قارئین کرام۔عہدِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہماری بستیاں مسجدوں کی معموریت سے آراستہ ہیں مگر انسانی دل روحانی ویرانی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ظاہری پیکر پر وقار میناروں اور بلند گنبدوں کے سایے میں آباد ہیں جبکہ باطن خالص مادیت، غرور، بے حسی، اور غفلت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہم نے عبادت گاہوں کو تو سنگ و مرمر سے سجا لیا ہے لیکن محبتِ الٰہی، خوفِ آخرت، صبر، شکر، اور بندگی کی اصل روح کو اپنے قلوب سے بے دخل کر رکھا ہے۔ ایسا ملحقہ اور بظاہر خوبصورت تضاد تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا فکری و ہندسی المیہ ہے جہاں انسان نے زمین پر ترقی و آبادی کے بڑے بڑے مینار تو قائم کر لیے مگر اپنے اندر کے شہرِ دل کو بالکل ویران، خالی اور اجڑ بنا ڈالا۔
اس مسجد اور دل کے فکری خلا کے سبب سماجی توازن کو براہِ راست نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں سکون نام کی چیز ناپید ہو چکی ہے۔ مذہب محض ایک رسم، ایک ڈھال اور ایک روایتی فریضہ بن کر رہ گیا ہے جہاں جسم تو سجدے میں جھکتا ہے مگر روح کا حلقہ کردار، نیت، اور اخلاق باطنی طور پر دین دار نہیں بلکہ خالص منافقت کا عکاس ہوتا ہے۔ سماجیت کا یہ عالم دردگراہ ہے کہ ہم پانچ وقت آذان کی پرکار صدا سنتے ہیں مگر ہمارے اندر کی آوازیں مادیت کی دھن پر اور خوفِ خدا سے غافل رہتی ہیں۔مسجدوں کے فرش پر قالینوں کے سجادہ بچھتے ہیں مگر اسی صفِ اول میں کھڑے ہونے والے انسانوں کے دلوں میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف کینہ، حسد، بغض اور حق تلفی کے خنجر چھپے ہوتے ہیں۔ ہم ظاہری دین داری کے لبادے اوڑھ کر مسجدوں کی زینت تو بڑھا رہے ہیں مگر معاشرتی استحکام، انصاف، امانت، اور دیانت کا کہیں نام و نشان تک باقی نہیں ہے۔ باہمی بھائی چارہ اور خلوص معدوم ہو چکا ہے جبکہ مسجدیں نمازیوں کے ہجوم سے چھلکتی ہیں، یہ اس بات کا زارعلمی واضح ثبوت ہے کہ ہمارا کردار اور دھڑکتا ہوا دل مکمل طور پر مردہ اور بے جان ہو چکا ہے۔اس حیرت‌ انگیز اور عجیب معاشرتی حالت پر اور قلمی کر و فر سے سوچا تو جاتا ہے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دل کی ویرانیہ اصل تنزلِ الٰہی اور عذاب کا باعث و مقصد ہوتی ہے۔ مسجد کا آباد ہونا اس وقت تک کوئی بنیادی فائدہ نہیں دے سکتا جبکہ اسے گھیرنے والے انسانوں کے اندر اخلاقی و کرداری مفلسی اور انسانی قدرتوں کی پامالی کی دھڑکنیں تڑپتی ہوں۔ معاشرہ اس وقت یقیناً بحران کا شکار رہے گا جب تک ظاهری شکل عبادت و اطاعت کی کر رکھی جاتی ہے مگر باطنی خوبصورتی، توبہ، استغفار، اور پاکیزگی کو کوسوں دور رکھا جاتا ہے۔یہ صورتِ حال صرف ایک معمولی فکری غلطی نہیں ہے بلکہ ایک گہرا ہفتلق قلبی بیماری ہے جو مسلمانوں کو استقلال اور اخلاقیت سے گرا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری عمارتوں کے ساتھ اپنے دلوں کی عمارت کو بھی خوفِ خدا، حق‌ پرستی، اور انسان‌ دوستی کے نور سے سجائیں تاکہ ہمارا صرف مسجد معمور نہ ہو بلکہ ہمارا دل بھی ذکرِ الٰہی سے آباد اور زندہ ہو سکے جس سے اصل انقلاب برپا ہو سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *