Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

وہ راز جو سب جانتے ہیں

محمدنسیم رنزوریار

وہ راز جو سب جانتے ہیں

قارئین کرام، عالمی منظرنامے پر ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کے مہرے بظاہر جمہوریت، انسانی حقوق اور ترقیاتی امداد ہیں، لیکن اس کی بساط کے نیچے مسلمانوں، بالخصوص پاکستان اور غیرت مند پشتون قوم کیخلاف گہری سازشوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ وہ راز ہے جو اب کوئی راز نہیں رہا، بلکہ ہر باشعور انسان اس تلخ حقیقت سے واقف ہے کہ کس طرح عالمی استعماری قوتیں بشمول سی آئی اے (CIA)، موساد (Mossad) اور را (RAW) مل کر مسلم امہ اور پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ ان خفیہ اداروں کا گٹھ جوڑ محض عسکری مداخلت تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے “سافٹ پاور” (Soft Power) کے نام پر تعلیم، صحت، روزگار اور تجارت کے شعبوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ادارے این جی اوز (NGOs) اور فنڈڈ پروگرامز کے لبادے میں ہمارے معاشروں کے اندر تک سرائیت کر چکے ہیں، جہاں ان کا بنیادی ہدف مسلم دنیا کا خاندانی نظام، نظریاتی تشخص اور بالخصوص پشتونوں کی روایتی غیرت، جہادی جذبے اور مذہبی اہمیت کو ختم کرنا ہے۔ پشتون قوم، جو ہمیشہ سے بیرونی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی ہے، کو مٹانے کیلئے ففتھ جنریشن وارفیئرکا سہارا لیا جا رہا ہے، جس میں انہیں دہشت گردی کا لیبل لگا کر معاشی اور سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کا باقاعدہ منصوبہ شامل ہے۔تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے نام پر مغربی ایجنڈے کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں نصابِ تعلیم سے جہاد، اسلامی تاریخ اور غازیوں کے کارناموں کو بتدریج حذف کر کے ایسا ذہنی غلام طبقہ تیار کیا جا رہا ہے جو اپنی ہی ثقافت اور دین سے بیگانہ ہو جائے۔ صحت کے شعبے میں “امدادی مشنز” اور ویکسینیشن مہمات کے پسِ پردہ جاسوسی کے نیٹ ورک قائم کیے گئے، جس کی سب سے بڑی دستاویزی مثال ایبٹ آباد میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا سی آئی اے کیلئے چلایا جانے والا فرضی ہیپاٹائٹس پروگرام تھا، جس نے عالمی سطح پر امدادی کاموں کے تقدس کو پامال کیا۔ تجارت اور روزگار کے نام پر آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی اداروں کے ذریعے ایسی معاشی پالیسیاں مسلط کی جاتی ہیں جو غریب مسلم ممالک کو دائمی قرضوں کے جال میں جکڑ دیں، تاکہ وہ کبھی خود کفیل نہ ہو سکیں اور ان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ واشنگٹن یا تل ابیب کے اشاروں پر چلے۔ سی آئی اے کا “پروجیکٹ سائکلون” (Project\ Cyclone) ہو یا موساد اور را کا مشترکہ نیٹ ورک، ان کا اصل نشانہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور مسلم دنیا کا اتحاد ہے۔یہ ادارے کارپوریٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے مقامی معیشتوں پر قبضہ کرتے ہیں اور پھر اسی سرمائے کو مقامی میڈیا، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور لبرل تھنک ٹینکس کو خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں فحاشی، بے راہ روی اور لادینیت کو رواج دیا جا سکے۔ پشتون بیلٹ اور بلوچستان میں مختلف نام نہاد حقوق کی تحریکوں کو پسِ پردہ بیرونی فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے تاکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کر کے ملک کو اندرونی خلفشار اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس اور پکڑے جانے والے عالمی نیٹ ورکس (جیسے کلبھوشن یادیو کا نیٹ ورک) اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ کس طرح پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا بھیانک اور عیاں سچ ہے جسے اب عالمی سازش کہہ کر جھٹلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل کی فکری گمراہی، معاشی بدحالی اور معاشرتی انتشار کی صورت میں بالکل واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ ملوکیت اور استعمار کا یہ گٹھ جوڑ تعلیم، صحت اور تجارت کے پردے میں ہمارے دین، وطن اور ثقافت کی بنیادوں پر دیمک کی طرح اثر انداز ہو رہا ہے، جس کا مقابلہ صرف فکری بیداری اور مضبوط ایمانی جرات سے ہی ممکن ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *