Banner
Daily Sahafat Quetta
September 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیتربت:تربت پریس کلب کی دو سالہ نئی کابینہ بلامقابلہ منتخب، حافظ صلاح الدین سلفی صدر اور ماجد صمد جنرل سیکرٹری منتخبچارسدہ میں اسٹیک ہولڈر کوآرڈینیشن اجلاس کا انعقادحرمین شریفین پوری امت مسلمہ کا مشترکہ روحانی مرکز ہیں، عبدالرحمن رفیقعوامی سہولت کو اولین ترجیح دے کر گرین بس سروس بہتر بنائی جائے، ذیشان لاشاریوالدین پولیو ٹیموں سے تعاون کرکے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، مہراللہ بادینیکیچی بیگ میں گھر کے اندر شدید دھماکا، 2 افراد جاں بحقTENDER NOTICE: DAB/AB NO.351/18-9-2026کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیتربت:تربت پریس کلب کی دو سالہ نئی کابینہ بلامقابلہ منتخب، حافظ صلاح الدین سلفی صدر اور ماجد صمد جنرل سیکرٹری منتخبچارسدہ میں اسٹیک ہولڈر کوآرڈینیشن اجلاس کا انعقادحرمین شریفین پوری امت مسلمہ کا مشترکہ روحانی مرکز ہیں، عبدالرحمن رفیقعوامی سہولت کو اولین ترجیح دے کر گرین بس سروس بہتر بنائی جائے، ذیشان لاشاریوالدین پولیو ٹیموں سے تعاون کرکے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، مہراللہ بادینیکیچی بیگ میں گھر کے اندر شدید دھماکا، 2 افراد جاں بحقTENDER NOTICE: DAB/AB NO.351/18-9-2026کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدی

مانگی ڈیم حملہ میں 27اہلکار شہید، آخری دم تک مزاحمت کی، تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

حکومت بلوچستان نے مانگی ڈیم پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق حملے میں کم از کم 27 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔حکومتی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے حملے سے قبل ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا تھا، جس کے پیش نظر چند روز قبل پوسٹ پر اضافی نفری اور بہتر اسلحہ فراہم کیا گیا۔ 6 جولائی کی صبح ڈی ایس پی کی قیادت میں تقریبا 35 پولیس اہلکار پوسٹ پر تعینات تھے، جبکہ قریب ترین ایف سی پوسٹ تقریبا 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ صبح تقریبا 11 بجے دور دراز علاقے سے وقفے وقفے سے فائرنگ شروع ہوئی، جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایف سی کو دی گئی۔ بعد ازاں 35 اہلکاروں پر مشتمل اضافی پولیس نفری روانہ کی گئی جبکہ ایف سی نے فضائی نگرانی کے لیے مسلح ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیا، جس نے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک علاقے کی نگرانی کی۔حکومت کے مطابق دہشت گردوں نے براہِ راست حملے کے بجائے مسلسل وقفے وقفے سے فائرنگ کر کے پولیس کا گولہ بارود ختم کرانے کی حکمت عملی اپنائی۔ شام تک بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا، تاہم اہلکار اپنی مورچوں پر ڈٹے رہے۔رپورٹ کے مطابق جب پولیس کی کمک پوسٹ کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی شدید فائرنگ کی، جس کے باعث پیش قدمی سست ہو گئی۔ اس دوران ایف سی نے وی ٹی او ایل ڈرونز اور مارٹر فائر کے ذریعے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد پولیس اور ایف سی کی نفری نے آگے بڑھ کر شدید مقابلہ کیا۔ جھڑپ کے دوران 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوئے، جنہیں بعد میں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔حکومتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گولہ بارود تقریبا ختم ہونے کے بعد ڈی ایس پی سمیت باقی ماندہ اہلکار دو گروپوں میں نکلے۔ ایک گروپ بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ دوسرا گروپ، جس میں 18 اہلکار شامل تھے، رات کے اندھیرے میں دہشت گردوں کے نرغے میں آ کر یرغمال بن گیا۔رپورٹ کے مطابق علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ، بلند پہاڑ، گہری دراڑیں اور پتھریلے راستے کارروائی میں بڑی رکاوٹ بنے۔ واقعے کے بعد ایف سی اور پاک فوج نے 300 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر مشتمل علاقے میں جامع کومبنگ آپریشن شروع کر دیا ہے، جو دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔حکومت بلوچستان نے واضح کیا کہ مانگی ڈیم پولیس پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے آخری دم تک بہادری سے مزاحمت کی، جبکہ واقعے سے متعلق گمراہ کن بیانیوں کے برعکس دستیاب شواہد ان کی جرات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *