Banner
Daily Sahafat Quetta
September 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
درجنوں افراد آج جمعیت نظریاتی میں شمولیت کا اعلان کریں گے، قاری مہراللہپاکستان اور افغانستان میں باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری ناگزیر ہے، عبدالقادر لونیاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم کا پولیو کیچ اَپ ڈے کے دوران مختلف علاقوں کا دورہکوئٹہ:ملک باری کاکڑ اور سینئر صحافی نصیر احمد کے درمیان تنازعے کا تصفیہ ہوگیامسلم باغ میں SNID پولیو مہم کے آخری روز ایوننگ ریویو اجلاس منعقدگنداخہ میں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول آزاد خان جمالی کی نئی عمارت کا افتتاحنواز شریف نے جمہوریت کے استحکام کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں، جمال شاہ کاکڑمتاثرین اور املاک کے نقصانات کا درست و قابلِ تصدیق ڈیٹا مرتب کیا جائے، مہراللہ بادینیسمنگلی ایئربیس کے سامنے 12 سالہ طالب علم کی ہلاکت پر احتجاج جاریای کامرس و آئی ٹی لیب مقررہ مدت میں مکمل کی جائے، ذیشان لاشاریدرجنوں افراد آج جمعیت نظریاتی میں شمولیت کا اعلان کریں گے، قاری مہراللہپاکستان اور افغانستان میں باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری ناگزیر ہے، عبدالقادر لونیاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم کا پولیو کیچ اَپ ڈے کے دوران مختلف علاقوں کا دورہکوئٹہ:ملک باری کاکڑ اور سینئر صحافی نصیر احمد کے درمیان تنازعے کا تصفیہ ہوگیامسلم باغ میں SNID پولیو مہم کے آخری روز ایوننگ ریویو اجلاس منعقدگنداخہ میں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول آزاد خان جمالی کی نئی عمارت کا افتتاحنواز شریف نے جمہوریت کے استحکام کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں، جمال شاہ کاکڑمتاثرین اور املاک کے نقصانات کا درست و قابلِ تصدیق ڈیٹا مرتب کیا جائے، مہراللہ بادینیسمنگلی ایئربیس کے سامنے 12 سالہ طالب علم کی ہلاکت پر احتجاج جاریای کامرس و آئی ٹی لیب مقررہ مدت میں مکمل کی جائے، ذیشان لاشاری

لہولہان بلوچستان

محمدنسیم رنزوریار

لہولہان بلوچستان

قارئین کرام ۔بلوچستان ایک ایسا خطۂ خاک جہاں پہاڑ آج بھی ایستادہ ہیں مگر انسان کی امیدیں مسلسل ریزہ ریزہ ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ سرزمین صرف جغرافیہ نہیں، ایک زخم خوردہ داستان ہے؛ ایسی داستان جس کے ہر ورق پر آنسوؤں کی نمی، محرومی کی گرد، بے بسی کی دھند اور خاموش چیخوں کی بازگشت ثبت ہے۔ یہاں کی فضائیں بظاہر آزاد ہیں مگر ان میں ایک انجانی گھٹن رچی بسی محسوس ہوتی ہے، جیسے ہر جھونکا اپنے دامن میں کسی اجڑے ہوئے گھر، کسی سسکتے ہوئے بچے، کسی بے قرار ماں اور کسی خاموش باپ کی آہ لیے پھرتا ہو۔ بلوچستان کی حالت صرف ایک سیاسی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس نے احساس رکھنے والے ہر دل کو زخمی کر دیا ہے۔ یہاں کے سنگلاخ پہاڑ گواہ ہیں کہ وقت نے کتنے خواب نگل لیے، کتنی مسکراہٹیں ویرانی میں تبدیل ہو گئیں اور کتنی زندگیاں خاموشیوں کے قبرستان میں دفن ہو گئیں۔اس دھرتی کی مٹی میں صرف معدنیات نہیں بلکہ بے شمار نامعلوم داستانیں دفن ہیں، وہ داستانیں جنہیں نہ تاریخ پوری طرح لکھ سکی اور نہ ہی دنیا پوری طرح سن سکی۔ ہر حادثہ، ہر سانحہ اور ہر خونچکاں منظر انسانیت کے ماتھے پر ایسا سوالیہ نشان بن جاتا ہے جس کا جواب محض بیانات، وعدوں یا وقتی افسوس سے ممکن نہیں۔ جب معصوم چہرے خوف کی دبیز چادر اوڑھ لیں، جب گھروں کے چراغ یکایک بجھ جائیں، جب سکول کی راہیں ویران اور بازار خاموش ہو جائیں تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں بلکہ اعتماد، امید اور مستقبل بھی ملبے تلے دب جاتا ہے۔ دل دہلا دینے والے یہ مناظر انسان کے باطن کو اس طرح جھنجھوڑتے ہیں کہ الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔بلوچستان کی اذیت صرف ان لوگوں کا دکھ نہیں جو وہاں بستے ہیں بلکہ ہر اس انسان کا درد ہے جو انسانی جان کی حرمت، امن کی اہمیت اور انصاف کی ضرورت پر یقین رکھتا ہے۔ اس خطے کے لوگ عزت، سکون، تعلیم، روزگار اور تحفظ جیسے بنیادی حقوق کے متلاشی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں بھی وہی خواب بستے ہیں جو دنیا کے ہر بچے، ہر نوجوان، ہر ماں اور ہر بزرگ کی آنکھوں میں ہوتے ہیں۔ مگر جب خوف روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے، جب بے یقینی ہر صبح کا مقدر اور ہر رات کا سایہ بن جائے تو زندگی محض سانس لینے کا نام رہ جاتی ہے۔ یہ کیفیت صرف اعدادوشمار سے نہیں سمجھی جا سکتی؛ اسے محسوس کرنے کے لیے ایک زندہ ضمیر، ایک بیدار دل اور ایک حساس روح درکار ہوتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کو صرف خبروں کی سرخی یا سیاسی مباحثے کا عنوان نہ بنایا جائے بلکہ اسے انسانیت کے پیمانے پر دیکھا جائے۔ نفرت کے بجائے مکالمہ، تشدد کے بجائے امن، بے اعتنائی کے بجائے ہمدردی اور تقسیم کے بجائے باہمی اعتماد ہی وہ راستہ ہے جو اس زخمی دھرتی کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کے دور افتادہ خطوں کی آہیں دارالحکومتوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی رہیں۔ بلوچستان کی خاموش فریاد صرف وہاں کے لوگوں کی آواز نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر یہ درد بھی ہماری اجتماعی حس کو بیدار نہ کر سکے تو شاید تاریخ آنے والی نسلوں سے یہی سوال کرے گی کہ جب ایک سرزمین مسلسل سسک رہی تھی تو انسانیت آخر کس خواب میں گم تھی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *