Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد بلوچستان کہاں کھڑا ہوگا؟

تحریر ڈاکٹر دوست محمد برّیچ

دلیل دی جا سکتی ہے کہ 1979 میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے مابین ثالثی کا جو کردار ادا کیا، 2020 میں امریکہ اور طالبان کے مابین دوحہ معاہدے میں اس کی سفارتی کاوشیں، اور حالیہ اسلام آباد ایم او یو نے پاکستان کی عالمی اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی نمایاں موجودگی کو اگر اسٹریٹجک خودمختاری میں بدل دیا جائے تو بین الاقوامی منظرنامے پر اس کا قد مزید بلند ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خدشات نے ریاستوں کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا۔ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو علاقائی طاقتیں گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ بلوچستان کہاں کھڑا ہے؟ ایران کے ساتھ 910 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والے اس صوبے کے لیے اس صورتِ حال میں بے شمار مواقع اور چیلنجز موجود ہیں۔
ایران اگر کھل کر دنیا کے ساتھ جڑتا ہے تو وہ اسی طرح غیر معمولی معاشی مواقع فراہم کر سکتا ہے جیسے چین نے 1979 میں دنیا کے لیے اپنے دروازے کھول کر کیے تھے۔ اس وقت پڑوسی ممالک نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے کچھ نرمی اور گنجائش پیدا کر رکھی ہے۔ بلوچستان کے معروف صحافی شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ’’ایران پر پابندیوں کے باعث بلوچستان کے بہت سے لوگ ایران جانے سے ہچکچاتے تھے، اگر یہ پابندیاں ختم ہو جائیں تو لوگ ایران جائیں گے جس سے تاجروں کے مابین روابط اور عوامی سطح پر تعلقات فروغ پائیں گے۔ ماضی میں ایرانی ممنوعہ اشیا ضبط کی جاتی تھیں، یہ رجحان آئندہ ختم ہوتا نظر آتا ہے۔‘‘
بلوچستان کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ، کارگو موومنٹ اور کراس شفٹنگ کے لیے باضابطہ طریقہ کار تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے نظام کو تقویت ملنے اور پاکستانی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر کارگو کی کراس شفٹنگ کی اجازت سے تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔ اس اقدام سے گوادر کی سرحدی اور بندرگاہی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی جس کے ثمرات مکران کے ساحلی علاقوں تک پہنچیں گے۔ گوادر اور چاہ بہار کو ’’سسٹر پورٹس‘‘ کے طور پر دیکھنے کا تصور تقویت اختیار کر رہا ہے۔ چین کی دلچسپی ان دونوں بندرگاہوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مستقبل کی علاقائی جنگوں اور مقابلہ آرائی میں گوادر اور چاہ بہار توانائی اور تیل کے ذخائر براہِ راست چین تک منتقل کرنے کے لیے اسٹریٹجک راستوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پابندیوں کے خاتمے اور ریاستوں کے درمیان بہتر تعاون رسمی معیشت، صنعتی زونز، منظم منڈیوں اور ٹرانسپورٹ روٹس کے فروغ کی راہ ہموار کریں گے۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو ایران کی سرحد سے منسلک کر کے زمینی راہداریوں کی شکل دی جا سکے گی جو پاکستان، ایران، چین اور وسط ایشیا کو جوڑیں گی۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چین اور ایران کے مابین 25 سالہ اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ 2021 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کاوشوں کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کے تحت چین نے مجموعی طور پر 400 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے 280 ارب ڈالر ایران کے تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل سیکٹر میں لگانے ہیں۔ ایران کے تیل اور توانائی کے شعبے میں چین کی 280 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے توانائی کی ترسیل کے لیے پاکستان کی سرزمین ناگزیر ہو گی۔ اسلام آباد، امکان ہے کہ ایران سے رعایتی نرخوں پر تیل و گیس حاصل کر سکے، بالخصوص جب بیجنگ کو ایرانی تیل کم از کم 12 فیصد رعایت پر ملے گا تو اس کے ثمرات پاکستان اور بلوچستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایران تک توسیع دیتے ہوئے اسے چین ایران معاہدے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا پورے خطے کے لیے غیر معمولی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ ایران کی درآمدی گوشت کی 60 فیصد ضرورت پوری کرے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک بھر میں بھیڑوں کی 52 فیصد، اونٹوں کی 41 فیصد اور بکریوں کی 22 فیصد تعداد بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ زرعی اور مویشی پروری کے شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کو پاکستان کی ’’فروٹ باسکٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی 70 فیصد کھجور اور 34 فیصد سیب بلوچستان پیدا کرتا ہے۔ صرف مکران ڈویژن سالانہ 4 لاکھ 25 ہزار ٹن کھجور پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ پچھلی تحریر میں بھی ذکر ہوا، صوبے میں 1 کروڑ 17 لاکھ 70 ہزار ایکڑ زمین موجود ہے جو رقبے کے لحاظ سے سوئٹزرلینڈ کے برابر ہے، لیکن تاحال بنجر پڑی ہے اور زیرِ کاشت نہیں آ سکی۔ ایران کے ساتھ اشتراکِ عمل کے ذریعے اس 1 کروڑ 17 لاکھ 70 ہزار ایکڑ رقبے کو قابلِ کاشت بنانا بلوچستان اور پورے خطے کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
پابندیوں سے آزاد ایران، بلوچستان کے مویشی اور زرعی شعبوں کے لیے ایک پُرکشش منڈی کے طور پر سامنے آتا ہے، جو صوبے میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ ان شعبوں کی جدید خطوط پر ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی مؤثر حکمتِ عملی صوبے کی معاشی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی ہے۔
ادھر گوادر کے مقامی کاروباری شخصیت ساجد بن رحیم کا کہنا ہے کہ حالیہ سرحدی بندشوں نے مقامی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کیا ہے اور مستقبل میں پابندیوں کے خاتمے سے بھی مقامی آبادی کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ ان کے مطابق مقامی معیشت بڑی حد تک غیر رسمی تجارت پر انحصار کرتی ہے جو خطے کے لیے محض معاشی سرگرمی نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔ غیر رسمی کُتانی بارڈر کی بندش سے مقامی آبادی کی خریداری کی قوت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رحیم کے بقول ’’ایک دکاندار جس کی روزانہ کی فروخت 20 سے 25 ہزار روپے ہوا کرتی تھی، اب بمشکل 3 سے 4 ہزار روپے تک محدود ہو چکی ہے۔‘‘ پورے ضلع گوادر میں صرف دو سرکاری پیٹرول پمپ، کیلٹیکس اور پی ایس او موجود ہیں جو ان کے مطابق مقامی ضرورت کا معمولی سا حصہ بھی پورا نہیں کر سکتے۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کے لیے غیر رسمی طور پر تیل بیرونِ ملک بھیجنے کا جواز بھی تقریباً ختم ہو جائے گا۔
پابندیوں سے آزاد ایران قانونی طور پر دنیا بھر کو تیل فروخت کرے گا اور یوں بلوچستان کو ملنے والی سستی، غیر رسمی تیل کی سپلائی کا سلسلہ منقطع ہوتا چلا جائے گا۔ ایرانی کرنسی بھی بتدریج استحکام کی طرف بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔ مکران ڈویژن میں ایران سے آنے والی روزمرہ استعمال کی اشیا مثلاً چاکلیٹ، کوکنگ آئل اور بسکٹ وغیرہ مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ بلوچستان کی فی کس آمدنی تقریباً 1000 امریکی ڈالر ہے جو ملک میں سب سے کم ہے۔ ایرانی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن کے مطابق مکران ڈویژن میں غیر رسمی فیول یعنی ایرانی تیل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ڈویژن صنعتی زونز، کارخانوں اور زراعت کے مواقع سے تقریباً محروم، ریگستانی سرحدی علاقوں پر مشتمل ہے۔ غیر رسمی تیل کی تجارت نے 50 ہزار سے دو لاکھ روپے تک کے محدود سرمائے کے ساتھ غریب شہریوں کو 500 سے 1500 لیٹر تک تیل خرید کر اسے آگے فروخت کرنے کا ذریعہ فراہم کیا، جو ان کے لیے بقا کا واحد راستہ تھا۔ تیل کی اس تجارت کی باقاعدہ سرکاری شکل اختیار کرنے سے حکومتوں کے درمیان ڈالر پر مبنی ’’شپ اکانومی‘‘ ابھرے گی جس میں مقامی غریب آبادی شامل نہیں ہو سکے گی۔ اس سے سرحدی اضلاع میں بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے۔
صوبے کو اپنی معاشی استعداد بڑھانے، کاروباری برادری کے باہمی روابط مستحکم کرنے اور ایران کے ساتھ مرکزی بینکاری نظام کے قیام کی شدید ضرورت ہے۔ مکران ڈویژن کے شہریوں کو ویزا کے حصول کے لیے کوئٹہ یا کراچی جانا پڑتا ہے۔ اگر مکران ڈویژن میں ایرانی قونصلیٹ قائم ہو جائے تو ویزا کے حصول کا عمل مقامی آبادی کے لیے نہایت آسان ہو جائے گا۔ مختصر یہ کہ ایران پر سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاکستان اور ایران کے مابین تعاون میں اضافہ، بلوچستان کی جغرافیائی و معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں روزگار میں اضافہ اور خوشحالی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *