Banner
Daily Sahafat Quetta
October 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیانصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغی

سوئٹزرلینڈ میں آج تک کون کون سے بڑے معاہدے ہوئے؟

سوئٹزرلینڈ کو دنیا میں غیر جانبداری، امن اور سفارت کاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جس کے تحت دونوں ممالک نے آئندہ 60 روز کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھے ہیں اور تکنیکی سطح پر مزید بات چیت کے لیے باقاعدہ طریقہ کار بھی طے کر لیا گیا ہے۔

تاہم سوئٹزرلینڈ کی اہمیت صرف حالیہ مذاکرات تک محدود نہیں۔ یہ ملک گزشتہ ڈیڑھ صدی سے عالمی تنازعات کے حل، امن مذاکرات اور بین الاقوامی معاہدوں کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔ خاص طور پر جنیوا شہر عالمی سفارت کاری کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں کئی تاریخی معاہدے طے پائے اور متعدد بین الاقوامی اداروں کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں قائم اہم عالمی ادارے
اقوام متحدہ کا جنیوا دفتر

جنیوا اقوام متحدہ کا نیویارک کے بعد دوسرا بڑا مرکز ہے، جہاں انسانی حقوق، امن، مہاجرین اور عالمی تعاون سے متعلق سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO)

عالمی صحت کی پالیسی سازی، وبائی امراض کی نگرانی اور صحت عامہ کے فروغ کے لیے کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ جنیوا میں قائم ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم (WTO)

یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت کے قوانین، تجارتی تنازعات اور اقتصادی تعاون کو منظم کرتا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO)

مزدوروں کے حقوق، مناسب اجرت اور محفوظ کام کے ماحول کے لیے عالمی معیار طے کرنے والا ادارہ بھی جنیوا میں موجود ہے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC)

جنگی حالات میں انسانی امداد، زخمیوں کی دیکھ بھال اور جنگی قیدیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی دنیا کی سب سے اہم تنظیم کا مرکز جنیوا میں واقع ہے۔

اقوام متحدہ ہائی کمیشن برائے مہاجرین (UNHCR)

یہ ادارہ دنیا بھر کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہے۔

فیفا (FIFA)

فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا کا صدر دفتر زیورخ میں واقع ہے۔

بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS)

یہ ادارہ دنیا کے مرکزی بینکوں کے درمیان مالیاتی تعاون اور عالمی مالیاتی استحکام کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اہم عالمی معاہدے
جنیوا کنونشنز: انسانی قانون کی بنیاد

جنیوا کنونشنز بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کی ابتدا 1864 میں ہوئی، جبکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد 1949 میں انہیں موجودہ جامع شکل دی گئی۔

یہ چار بنیادی معاہدوں پر مشتمل ہیں:

پہلا جنیوا کنونشن: زمینی جنگ میں زخمی اور بیمار فوجیوں کے تحفظ سے متعلق ہے، جس کے تحت تمام فریق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

دوسرا جنیوا کنونشن: سمندری جنگ کے دوران زخمیوں، بیماروں اور ڈوبنے والے فوجیوں کے تحفظ کے اصول بیان کرتا ہے۔

تیسرا جنیوا کنونشن: جنگی قیدیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بناتا ہے، جبکہ تشدد اور ذلت آمیز رویوں کی ممانعت کرتا ہے۔

چوتھا جنیوا کنونشن: جنگ کے دوران عام شہریوں، خواتین، بچوں اور طبی مراکز کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور ان پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

بعد ازاں 1977 اور 2005 کے اضافی پروٹوکولز کے ذریعے ان قوانین کو جدید جنگی حالات، داخلی تنازعات اور غیر ریاستی مسلح گروہوں تک بھی وسعت دی گئی۔

آج دنیا کے تقریباً تمام ممالک جنیوا کنونشنز کے فریق ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاہدے بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی اخلاقیات کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کا عالمی کردار

سوئٹزرلینڈ نے اپنی غیر جانبدار خارجہ پالیسی، مضبوط سفارتی روایت اور عالمی اداروں کی میزبانی کے باعث دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی بڑے بین الاقوامی تنازعے کے حل یا امن مذاکرات کی ضرورت پیش آتی ہے تو سوئٹزرلینڈ، خصوصاً جنیوا، عالمی رہنماؤں کی پہلی ترجیح بن جاتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *