Banner

ایران۔امریکہ 14 نکاتی معاہدہ : کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ؟

Share

Share This Post

or copy the link


ایران۔امریکہ 14 نکاتی معاہدہ : کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ؟
تحریر: امجد اقبال امجد
دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جو صرف دو ممالک کی تقدیر نہیں بدلتے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان زیرِ بحث آنے والا 14 نکاتی مجوزہ معاہدہ بھی شاید ایسا ہی ایک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے اثرات واشنگٹن اور تہران کی سرحدوں سے نکل کر پاکستان، خلیجی ریاستوں، اسرائیل اور عالمی تیل کی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
تقریباً نصف صدی سے ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے حریف چلے آ رہے ہیں۔ پابندیاں، دھمکیاں، پراکسی جنگیں اور جوہری تنازع اس کشیدگی کے نمایاں پہلو رہے ہیں۔ لیکن اب اگر دونوں ممالک جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جوہری مذاکرات پر آمادہ ہو رہے ہیں تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان کے لیے اس ممکنہ معاہدے کے کئی مثبت پہلو ہو سکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز محفوظ ہو جاتی ہے اور ایرانی تیل عالمی منڈی میں واپس آتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔ پاکستان جیسا درآمدی معیشت رکھنے والا ملک اس سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ درآمدی بل میں کمی، مہنگائی میں نسبتاً کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
تاہم اس معاہدے کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل اسے اپنے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ اسرائیلی قیادت کی یہ دیرینہ تشویش رہی ہے کہ ایران کو ملنے والی معاشی آسانیاں خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اسی لیے یہ معاہدہ اگرچہ امن کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کے مخالفین بھی کم نہیں ہوں گے۔
ایران کے اندر بھی صورتِ حال یکساں نہیں۔ ایک طبقہ اسے معاشی بحالی کا راستہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا اسے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے تعبیر کرتا ہے۔ امریکہ میں بھی داخلی سیاسی اختلافات اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو حتمی کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا طاقت کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ مخالف مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو یہ عالمی سیاست کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ لیکن اگر ماضی کی طرح عدم اعتماد غالب آ گیا تو یہ موقع بھی ضائع ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو اس تمام صورتحال میں جذبات کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر اپنی پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔ ایک مستحکم مشرقِ وسطیٰ، محفوظ توانائی کی ترسیل اور علاقائی امن پاکستان کے معاشی اور سفارتی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں امن کی ہر کوشش کی حمایت کرنی چاہیے، مگر حقیقت پسندی کے ساتھ۔
یہ 14 نکاتی معاہدہ شاید مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی ضمانت نہ ہو، لیکن یہ اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ جنگ کے طویل سائے میں بھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بندوقیں بالآخر خاموش ہو جاتی ہیں، مگر میز پر ہونے والے فیصلے نسلوں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ho
آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ یہ مجوزہ معاہدہ محض سفارتی کاغذی کارروائی ثابت ہوتا ہے یا واقعی مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور نسبتاً پرامن دور میں داخل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب تہران اور واشنگٹن پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کے فیصلوں کی بازگشت پورے عالم میں سنائی دے گی۔

ایران۔امریکہ 14 نکاتی معاہدہ : کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us