Banner

معاشی ترقی پر مبنی وفاقی بجٹ وقت کی ضرورت ہے،سید امان شاہ

Share

Share This Post

or copy the link

معاشی ترقی پر مبنی وفاقی بجٹ وقت کی ضرورت ہے،سید امان شاہ
ٹیکس نظام کو آسان اور کاروبار دوست بنا کر سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ کیا جائے۔
آئی ٹی، زراعت، تجارت اور برآمدی شعبوں کو خصوصی مراعات دے کر معیشت کو مستحکم بنایا جائے۔
کراچی/کوئٹہ (۔۔۔۔۔) عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسا بجٹ تشکیل دینا ناگزیر ہے جو صرف محصولات میں اضافے تک محدود نہ ہو بلکہ معاشی ترقی، صنعتی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کا انحصار پیداواری شعبوں کی مضبوطی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے پر ہے، اس لیے وفاقی بجٹ میں ان شعبوں کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ سید امان شاہ نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں صنعتوں، تاجروں، برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس نظام کو مزید آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ ٹیکس قوانین، غیر ضروری ضوابط اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اگر حکومت حقیقی معنوں میں معیشت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے کاروباری طبقے کو اعتماد دینا ہوگا اور ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو محض ریونیو اہداف حاصل کرنے کے لیے عوام اور کاروباری طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں میں وسعت پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ جب صنعتیں چلیں گی، تجارت بڑھے گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور نئے کاروبار قائم ہوں گے تو خود بخود قومی آمدن میں اضافہ ہوگا اور حکومتی محصولات بھی بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے بھی معیشت کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نہیں بلکہ پیداواری شعبوں کی سرپرستی کے ذریعے مستحکم کیا ہے۔ عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی، زراعت، تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، معدنیات اور برآمدی شعبوں کے لیے خصوصی مراعات اور مراعاتی پیکجز متعارف کرائے جائیں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً آئی ٹی سیکٹر پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس شعبے کو ٹیکس سہولیات اور جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جانا چاہیے۔ سید امان شاہ نے کہا کہ ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی بھی کاروباری برادری کا ایک اہم مطالبہ ہے۔ برآمد کنندگان اور صنعتکاروں کے اربوں روپے کے ریفنڈز مختلف مراحل میں رکے رہتے ہیں جس سے ان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ ریفنڈ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروباری سرگرمیوں میں استعمال ہو سکے اور برآمدات کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو بھی ریلیف دیا جانا چاہیے۔ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسوں میں کمی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی و گیس کی قیمتوں میں استحکام اور عام آدمی کی قوت خرید میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک متوازن، عوام دوست اور ترقیاتی بجٹ ہی ملک کو معاشی مشکلات سے نکال سکتا ہے۔

معاشی ترقی پر مبنی وفاقی بجٹ وقت کی ضرورت ہے،سید امان شاہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us