Banner

بلوچستان مفلوج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب

Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان مفلوج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب
ٹرانسپورٹرز، تاجران اور مائنز اونرز الائنس کی اپیل پر مکمل عملدرآمد، وکلاء، سیاسی جماعتوں اور ٹریڈ یونینز کی بھرپور حمایت
سڑکیں سنسان، کاروبار بند، تعلیمی اداروں میں حاضری انتہائی کم، مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان
کویٹہ + اندرون بلوچستان( ۔۔۔۔۔۔۔ ) بلوچستان مفلوج ، پہیہ جام ، شٹر ڈاؤن ، سرکاری دفاتر میں لاک ڈاؤن ، وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ ، بلوچستان ٹرانسپورٹرز ، تاجر اینڈ مائنز اونرز الائنس کی اپیل کامیاب ، وکلاء ، سیاسی جماعتوں ، ٹریڈ یونینز نے حمایت کی ہے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہو کا عالم ، مضافاتی علاقوں میں پرچون کی دکانیں بھی بند رہیں ، تعلیمی اداروں میں حاضری کا تناسب 20 فیصد سے بھی کم رہا جبکہ اکثر تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ سڑکیں سنسان اور ویرانی کا راج رہا۔ تفصیلات کے مطابق پہیہ جام ، شٹر ڈاؤن ، لاک ڈاؤن اور عدالتی بائیکاٹ کے باعث بلوچستان مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔شہر کی مرکزی شاہراہوں ، کاروباری مراکز ، مارکیٹوں ، تجارتی علاقوں اور قومی شاہراہوں پر غیر معمولی خاموشی دیکھی گئی اور بیشتر مقامات پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی اپیل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ، تاجران اینڈ مائنز اونرز الائنس اور اس میں شامل تنظیموں آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی ، آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز گرینڈ الائنس ، آل پاکستان بس یونین ، پنجاب خیبرپختونخوا بس یونین ، بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن ، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان ، انجمن تاجران بلوچستان ، بلوچستان مائنز اونرز ایسوسی ایشن ، مختلف وکلاء تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر دی گئی تھی۔جبکہ صوبے کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں ، مزدور تنظیموں ، ٹریڈ یونینز اور سماجی حلقوں نے بھی اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تمام بڑے کاروباری مراکز ، مارکیٹیں ، پلازے ، شاپنگ سینٹرز ، ہول سیل مارکیٹیں ، سبزی منڈیاں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ مضافاتی علاقوں میں واقع پرچون کی دکانیں بھی بڑی تعداد میں بند رہیں۔ شہریوں کو روزمرہ اشیاء کی خریداری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک نہ ہونے کے باعث غیر معمولی خاموشی دیکھی گئی۔ دوسری جانب وکلاء برادری نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث عدالتوں میں معمول کی کارروائیاں متاثر رہیں۔ بیشتر وکلاء عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جبکہ مختلف بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ سرکاری دفاتر میں بھی حاضری معمول سے انتہائی کم رہی جبکہ متعدد دفاتر میں عملی طور پر لاک ڈاؤن کی کیفیت دیکھی گئی۔ ملازمین کی بڑی تعداد دفاتر نہ پہنچ سکی جس کے باعث سرکاری امور متاثر ہوئے اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات کے حصول میں مشکلات پیش آئیں۔ تعلیمی شعبہ بھی ہڑتال سے بری طرح متاثر ہوا۔ اطلاعات کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کی حاضری 20 فیصد سے بھی کم رہی جبکہ کئی سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ والدین نے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور مجموعی صورتحال کے پیش نظر بچوں کو گھروں تک محدود رکھا۔حب ، خضدار ، قلات ، مستونگ ، نوشکی ، منگوچر ، ژوب ، لورالائی ، قلعہ سیف اللہ ، پشین ، زیارت ، چمن ، گوادر ، تربت ، پنجگور ، دالبندین ، سبی ، جعفر آباد ، نصیر آباد ، اوستہ محمد اور دیگر علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ قومی شاہراہوں پر مسافر بسیں ، کوچز ، ٹرک ، آئل ٹینکرز اور دیگر تجارتی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر نظر آئیں۔ بین الصوبائی اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر بند رہی۔مختلف سیاسی جماعتوں ، ٹریڈ یونینز ، مزدور تنظیموں ، سماجی رہنماؤں اور عوامی حلقوں نے ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور آواز بلند کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے۔ کہ حکومت کو فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز ، تاجروں اور مائنز مالکان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں تاکہ صوبے میں معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان ٹرانسپورٹرز ، تاجران اینڈ مائنز اونرز الائنس کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔ الائنس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جب تک حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات نہیں کرتی اس وقت تک احتجاجی تحریک اور ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

بلوچستان مفلوج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us