Banner

عالمی یومِ ماحولیات پر بلوچستان کہاں کھڑا ہے؟

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر : – ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ

ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے تاکہ ماحولیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ آج موسمیاتی تبدیلی دنیا کے لیے وبائی امراض اور دہشت گردی سے بھی بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ پاکستان اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں محض ایک فیصد حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں بلوچستان کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات یہاں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ضلعی موسمیاتی کمزوری اشاریے (DVIP) کے مطابق پاکستان کے 20 انتہائی موسمیاتی خطرات سے دوچار اضلاع میں سے 17 بلوچستان میں واقع ہیں۔ صوبے کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید خشک سالی، غیر متوقع بارشوں اور تباہ کن سیلابوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بنیادی سہولیات کی کمی ان مسائل کو مزید سنگین بنا رہی ہے بلوچستان کی 70 فیصد سے زائد آبادی کا انحصار زراعت اور مویشی بانی پر ہے، جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی، ہزاروں مویشی ہلاک ہوئے، سڑکیں، پل اور حفاظتی پشتے تباہ ہوئے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ ان نقصانات نے پہلے سے موجود غربت میں مزید اضافہ کیا اور صوبے کی معاشی مشکلات کو گہرا کر دیا بلوچستان کئی دہائیوں سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جھیل رہا ہے، تاہم اب صورتحال ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی شدید قلت نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ کوئٹہ سمیت بڑے شہروں کی جانب بڑھتی ہوئی ہجرت شہری وسائل پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ دوسری جانب زیر زمین پانی کے تیزی سے ختم ہوتے ذخائر نے کوئٹہ کو پاکستان کے تیزی سے دھنسنے والے شہروں میں شامل کر دیا ہے موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی، سماجی اور سیکیورٹی چیلنج بھی بن چکی ہے غربت، بے روزگاری اور وسائل کی کمی سماجی بے چینی اور انتہاپسندانہ رجحانات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے موسمیاتی اقدامات کو ترقیاتی منصوبہ بندی سے الگ نہیں کیا جا سکتا بلوچستان میں پانی کا بحران سب سے بڑا چیلنج ہے۔ زیر زمین پانی کی بحالی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور جدید آبپاشی نظام کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل بعض علاقوں میں پانی کی سطح کو 1200 فٹ سے بھی نیچے لے جا چکے ہیں، جس سے مستقبل میں شدید آبی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے صوبے کی صرف 7.2 فیصد زمین قابلِ کاشت ہے، لیکن وسیع غیر آباد اراضی کو زرعی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور سی پیک فیز 2.0 کے تحت زیتون کی پیداوار اور اس کی ویلیو چین صوبے کی معیشت میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔ اسی طرح زرعی جنگلات، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں اور نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے
قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بلوچستان کو قدرتی برتری حاصل ہے کیونکہ صوبے میں سالانہ تقریباً 300 دھوپ والے دن ہوتے ہیں۔ شمسی، ہوا اور بایو گیس توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری نہ صرف ماحول دوست ترقی کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ گرین اسکلز ٹریننگ، لائیوسٹاک انشورنس اور ایکو ٹورازم جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے معاشی امکانات بڑھا سکتے ہیں خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت بلوچستان نے 2024 میں اپنی پہلی بلوچستان کلائمیٹ چینج پالیسی منظور کی ہے، جس کا مقصد صوبے کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے زیادہ مضبوط، پائیدار اور ماحول دوست بنانا ہے۔ اسی طرح کلائمیٹ چینج فنڈ اور گرین بلوچستان انیشی ایٹو جیسے اقدامات بھی موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی تحفظ کی جانب اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں
عالمی یومِ ماحولیات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا نہیں بلکہ آج کا مسئلہ ہے۔ بلوچستان اگرچہ اس بحران کا ذمہ دار نہیں، مگر اس کے اثرات کا سب سے بڑا شکار ہے۔ اس لیے بروقت منصوبہ بندی، پانی کے دانشمندانہ استعمال، شجرکاری، قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی موافقت کے اقدامات ہی صوبے کو ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی جانب لے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور اس کے نتائج سے بچنے کا واحد راستہ بروقت اور مؤثر عمل ہے۔

عالمی یومِ ماحولیات پر بلوچستان کہاں کھڑا ہے؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us