Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ہیلتھ ایڈوائزر خیبرپختونخوا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر نے ہیلتھ سیکرٹری کے ہمراہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کا خصوصی دورہحضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیںنوجوانوں کو روزگار کی فراہمینیلسن منڈیلاایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیامسٹر پتلو کے پروگرام کے اجازت نامے کی اصل شرائط سامنے آگئیں، انتظامیہ کی غفلت پر سوالاتٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دیبیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارجایک سال میں قوم پر واجب الادا قرض میں 6210 ارب روپے کا اضافہریکوڈک منصوبہ 2030 تک مؤخر ہونے کا خدشہ، مجموعی لاگت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہےہیلتھ ایڈوائزر خیبرپختونخوا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر نے ہیلتھ سیکرٹری کے ہمراہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کا خصوصی دورہحضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیںنوجوانوں کو روزگار کی فراہمینیلسن منڈیلاایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیامسٹر پتلو کے پروگرام کے اجازت نامے کی اصل شرائط سامنے آگئیں، انتظامیہ کی غفلت پر سوالاتٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دیبیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارجایک سال میں قوم پر واجب الادا قرض میں 6210 ارب روپے کا اضافہریکوڈک منصوبہ 2030 تک مؤخر ہونے کا خدشہ، مجموعی لاگت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے

آئی ایم ایف کی سخت شرائط؛ 1000 ارب کے ترقیاتی بجٹ میں سے صرف 528 ارب خرچ ہو سکے

پاکستان میں ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل کا تناسب مسلسل کم ہو رہا ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی

آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی پابندیوں نے ملکی ترقیاتی بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے جس کے باعث مختص کردہ خطیر رقم کا بڑا حصہ غیر استعمال شدہ رہ گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت اینوئل پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے مختص ایک ہزار ارب روپے میں سے اب تک محض 528 ارب روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں، جبکہ ادھورے منصوبوں کی لاگت 10 ٹریلین تک پہنچ چکی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل کا تناسب مسلسل کم ہو رہا ہے۔ سرمایہ کاری کا حجم جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے گر کر محض 0.6 فیصد تک محدود ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 5 ہزار ارب کے منصوبے پی سی ون کے مراحل میں ہیں جبکہ مجموعی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔

وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ مالی سال 2018 کے بعد سے ترقیاتی بجٹ کے لیے وسائل میں کمی کا رجحان جاری ہے، تاہم صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے وزارتوں نے 3 ہزار ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا مگر وفاقی ترقیاتی پروگرام بدستور 2018 کی سطح پر یعنی ایک ہزار ارب روپے پر ہی کھڑا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *