Banner

وطنِ عزیز کے محسن ڈاکٹر قیصر رفیق

Share

Share This Post

or copy the link

منشا قاضی
حسبِ منشا

مختار مسعود نے کہا تھا کہ محسن دوسروں کے لیئے زندہ رہتا ہے اور شہید دوسروں کے لیئے جان دے دیتا ہے ، دونوں کا کردار مساوی ہے اور وہ لوگ جو ملک و ملت کی بھلائی، خیر اور نیکی کے کاموں میں سبقت لے جاتے ہیں وہ ہمارے عظیم سماجی سائنسدان اور قومی ہیرو کہلاتے ہیں ، ان کی خدمات کا تذکرہ نہ کرنا ان کے ساتھ ناانصافی نہیں اپنے ساتھ نا انصافی ہے اس وقت بیرونی دنیا کو پاکستان کا روشن و تابناک چہرہ دکھانے والے ڈاکٹر قیصر رفیق کو کون نہیں جانتا ؟

آپ نے ملک کی ترقی و تعمیر کے لیئے اپنے حصے کا چراغ ہمیشہ روشن کیا ہے اور اس چراغ میں اپنا خونِ جگر جلایا ہے ۔ تب جا کر یہ آپ نے مقام حاصل کیا ہے ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنے بیٹے کو بھی یہ نہیں کہا تھا کہ تو کسی بہت بڑے عہدے پر فائز ہو جا، انہوں نے یہی کہا تھا کہ

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

یہ مقام جو اس وقت ڈاکٹر قیصر رفیق کو حاصل ہوا ہے ۔ اس کے عقب میں ان کی مثبت سوچ ان کا تحمل ان کی برداشت . کارفرما ہے ۔ آپ نے منفی سوچ رکھنے والے افراد کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے ، تب جا کر آپ اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ گزشتہ سال آپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو قرضوں کے بوجھ تلے نہیں آنے دیا جائے گا اور آئی ایم ایف سے بھی چھٹکارا حاصل ہوگا اور وہ کس طرح ہوگا وہ سیاحت کی دنیا میں آپ کا نام خوش نظری اور احترام کا سزا وار قرار پاتا ہے ، ملٹن نے ایتھنز یونان کے بارے میں کہا تھا کہ ایتھنز یونان کی آنکھوں کا تارا ، فنون کی ماں اور علم کا گہوارہ ہے بالکل اسی طرح ڈاکٹر قیصر رفیق اپنی سرزمین پاکستان کو عظمتوں کی سرزمین قرار دیتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تجربات سفر سے ملے ہیں سفر رواداری اور برداشت سکھاتا ہے سیر و سیاحت کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے گزری صدیوں کے انسانوں سے بات چیت کر لی جائے سفر کرنے سے انسان کو بہت سے تجربات حاصل ہوتے ہیں، یورپ اور امریکہ کے لوگ سیر و سیاحت کو زندگی کا لازمی جزو تصور کرتے ہیں اور ڈاکٹر قیصر رفیق سیر و سیاحت کو پاکستان میں زندگی کا لازمی جزو قرار دینے کے لیئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ان کی یہ کاوش اللہ کی نوازش نظر آتی ہے اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ڈاکٹر قیصر رفیق اپنے وطن عزیز کی معاشی زلفِ پریشان کو سنوارنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ کیونکہ ہمارے ہاں بینا لوگوں کے لیئے حسین ترین مناظر ، بہترین وادیاں، شاندار اور مؤثر ذرائع سیر و سیاحت موجود ہیں ۔ جن کے دیکھنے کے لیئے غیر ملکی سیاحوں کی آنکھیں ترستیاں ہیں ، ان کے لیئے سہولتوں اور ضرورتوں کے اسباب پیدا کرنے والے ہمارے ڈاکٹر قیصر رفیق ، ملک کے عظیم ہیرو ہیں ، ہم ان کی قدر کرتے ہیں انہوں نے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا اور حقیقت یہ ہے انہوں نے محبت میں جو چلن اختیار کیا ہے وہ سیاست دانوں کا نہیں بلکہ ان کے وعدے اور ان کی ساری کی ساری ٹھوس تدابیر ایک رہنما کی تدابیر ہیں رہنما آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب کرتا ہے اور آپ نے محبت کا جو ویپن استعمال کیا ہے اس سے نفرت کے اندھیروں کو آپ بہت دور بھگا کر لے جائیں گے۔ کیونکہ ڈاکٹر قیصر رفیق کو کڑے وقت سے لڑنے کا ہنر آتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کیسے کٹتا ہے اندھیرے کا سفر ،
میری زیر طبع روشن چہرے کتاب میں ڈاکٹر قیصر رفیق کا اسمِ گرامی موجود ہے ، ڈاکٹر قیصر رفیق کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ۔ آپ نے ملاوٹ کے تپتے ہوئے صحرا میں اشرافیہ بستی ڈی ایچ اے کے بطن میں فطرت کے قریب ترین بہترین غذائی مصنوعات کا گاؤں بسایا ہے ۔ اس گاؤں میں ڈاکٹر زرقا نسیم غالب نے سوشل میڈیا پر ابلاغ کا خوبصورت اسلوب اپنا کر ادیبوں شاعروں اور صحافیوں کا رجحان بھی کر دیا ہے ۔ گذشتہ روز سردار رضا فوڈ سٹال کے افتتاحی موقع پر مجھے بھی گفتگو کا موقع ملا ۔ قلبی اور روحانی مسرت حاصل ہوئی ۔ اس گاؤں میں پوری دنیا آباد ہے ۔ ڈسکور پاکستان میں بھی میں پوری دنیا دیکھ رہا ہوں میں صرف سعودی عرب تک گیا ہوں ، مغرب کا ملک نہیں دیکھا ، لیکن ڈسکور نے مجھے پوری دنیا دکھا دی ہے. ڈسکور میرے لیئے جامِ جٙم ہے جس میں ، میں پوری کائنات کا مطالعہ کرتا ہوں اور حقیقت یہ ہے اپنی ذات سے لے کر کائنات تک مجھے پوری دنیا حسین نظر آتی ہے اور یہ کمال صرف اور صرف ڈاکٹر قیصر رفیق ہی کے حصے میں آتا ہے جنہوں نے برقی ذرائع ابلاغ میں بحث و تکرار کی بجائے خوبصورت وادیاں اور دل کو بھا جانے والے مناظر دکھائے ہیں مولائے کریم ڈاکٹر قیصر رفیق کو سلامت رکھے اور ان کے لیئے میری ہمیشہ دعا ہے مولائے کریم انہیں کامرانیوں سے ہم کنار کرئے، ہمارے ہمدم و دمساز جناب امجد اقبال امجد ڈاکٹر قیصر رفیق کی خدمات کا تذکرہ کر رہے ہیں ، ان کی تحریروں میں حوصلہ افزائی مسیحائی سے کم نہیں ہوتی ، جواں سال ماھرِ تعلیم فہد عباس ، ڈاکٹر صاحب کی نیک نامی کے چلتے پھرتے اشتہار ہیں، ہمارے مرحوم دوست شکیل فاروقی کے فرزندِ دلبند انس فاروقی کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔ انس نے بھی گریڈ بائیس کا عہدہ نہیں لیا اس نے بھی معاشرے میں مقام پیدا کیا ہے ، اس لئیے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ایک ہی پیغام ہے ۔
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح شام پیدا کر

وطنِ عزیز کے محسن ڈاکٹر قیصر رفیق

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us