Banner

عالمی فلیش پوائنٹس اور محاصر جنگی تصادم

Share

Share This Post

or copy the link


قارئین صحافت ۔جیو پولیٹکس یا عالمی منظرنامہ اس وقت تاریخ کے انتہائی پیچیدہ اور حساس ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پرانے تنازعات نئی شدت کے ساتھ ابھر رہے ہیں، دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگیں، سرحدی جھڑپیں اور سفارتی کشیدگیاں ایک ایسے کثیر القطبی (multi-polar) نظام کی عکاسی کرتی ہیں جہاں عالمی امن داؤ پر لگا ہوا ہے اور بڑی طاقتیں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ تصادم میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی کھینچ تان کا مرکز رہا ہے جس کی جڑیں 1948ء میں ریاستِ اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے دخلی سے جڑی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں یہ تنازع غزہ جنگ کے بعد شدید ترین شکل اختیار کر گیا جس کے بعد خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کا مثلث براہِ راست تصادم کی نہج پر پہنچ چکا ہے، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت اور اسٹرٹیجک اثاثوں کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے جبکہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کی لڑائی بھی شدت اختیار کر چکی ہے اور دوسری طرف غزہ میں طویل بمباری اور لاکھوں فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بعد اگرچہ بین الاقوامی کوششوں سے جنگ بندی کے معاہدوں پر بات چیت جاری ہے مگر زمینی سطح پر انسانی بحران، تباہی اور مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر نے صورت حال کو تاحال انتہائی کشیدہ اور غیر یقینی بنا رکھا ہے۔ فروری 2022ء میں روس کی جانب سے یوکرائن پر کیے جانے والے حملے نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپی براعظم کے سب سے بڑے خونی تصادم کو جنم دیا جس کا پس منظر یوکرائن کا مغربی دفاعی اتحاد (ناٹو) کی طرف جھکاؤ اور روس کا اپنے سرحدی تحفظ کا دعویٰ ہے، یہ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں ممالک کو لاکھوں کی تعداد میں جانی اور اربوں ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، روس نے یوکرائن کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جبکہ یوکرائن مغربی ممالک اور امریکہ کے جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے دفاعی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے اور روس کے اندرونی علاقوں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنا رہا ہے جبکہ ناٹو اور یورپی ممالک اس خوف کے سائے میں جی رہے ہیں کہ یہ جنگ کسی بھی وقت روس اور مغربی اتحاد کے درمیان براہِ راست ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ پاک افغان تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جو 1893ء میں انگریزوں کی کھینچی گئی “ڈیورنڈ لائن” کی سرحدی حد بندی اور دونوں طرف بسنے والے پشتون قبائل کے روابط پر محیط ہے، افغانستان میں طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو جائے گی لیکن صورت حال اس کے برعکس نکلی کیونکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) افغان سر زمین کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہے جس کے جواب میں پاکستان نے افغان حدود میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں بھی کیں اور سرحد پار سے جاری حملوں، ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے تنازع اور پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی جیسے اقدامات نے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان سفارتی اور فوجی تعلقات کو شدید سرد مہری اور سرحدی جھڑپوں کی نہج پر پہنچا دیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کی بنیاد 1947ء میں برصغیر کی تقسیم اور مسئلہ کشمیر ہے جس پر دونوں ممالک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اور 1998ء میں دونوں کے ایٹمی قوت بننے کے بعد یہ خطہ دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، 2019ء میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی نیم خودختار حیثیت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان رسمی مذاکرات معطل ہیں تاہم اِس وقت لائن آف کنٹرول (LoC) پر سیز فائر برقرار ہے جبکہ دوسری طرف ہندوستان کے تعلقات چین کے ساتھ بھی شدید ترین کشیدگی کا شکار ہیں جس کا پس منظر ہمالیہ کی سرحد (Line of Actual Control) پر اراضایاتی تنازعات اور گلوان وادی کی خونی جھڑپیں ہیں جس کے بعد سے بھارت اپنی فوجی طاقت کو جدید بنانے اور امریکہ کے ساتھ اسٹرٹیجک اتحاد (جیسے کواڈ) کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے تاکہ خطے میں چین اور پاکستان کے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کر سکے۔

عالمی فلیش پوائنٹس اور محاصر جنگی تصادم

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us