Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیدہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی

یو اے ای سے پاکستانیوں کی ہدفی بے دخلی کی خبریں جھوٹا پروپیگنڈا ہیں

یو اے ای سے پاکستانیوں کی ہدفی بے دخلی کی خبریں جھوٹا پروپیگنڈا ہیں

وزارتِ داخلہ نے بعض میڈیا حلقوں، خصوصاً سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات جیسے برادر اسلامی ملک سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ ہدفی بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔ تفصیلات اور اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد واضح کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی تمام رپورٹس بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر کا پروپیگنڈا ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت کسی بھی ملک سے کسی مخصوص ملک یا مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہدفی بے دخلی نہیں کی جا رہی۔ اگر کسی قسم کی بے دخلی ہوتی بھی ہے تو وہ میزبان ملک کے قوانین، قانونی نظام، ویزا خلاف ورزی، زائد المیعاد قیام یا غیر قانونی دستاویزات کی بنیاد پر معمول کے عمل کا حصہ ہوتی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستانی شہری بدستور یو اے ای اور دیگر دوست ممالک کے ویزا اور ورک پرمٹ کے تقاضے پورے کرکے بغیر کسی امتیاز کے سفر اور ملازمت کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبریں اور من گھڑت پوسٹس بدنیتی اور مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی پاکستانی شہری کو کسی بھی ملک میں کسی مسئلے یا دشواری کا سامنا ہو تو اسے دفتر خارجہ کے قائم شدہ سفارتی ذرائع کے ذریعے متعلقہ ملک کے ساتھ کیس ٹو کیس بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *