Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
صنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیصنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشی

توانائی بحران نے بنگلہ دیش کی صنعتوں کو جکڑ لیا، پیداوار میں 24 فیصد کمی

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران نے صنعتی شعبے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جہاں ایندھن کی قلت، گیس کی فراہمی میں تعطل اور بار بار بجلی کی بندش کے باعث اہم صنعتی مراکز میں پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران گارمنٹس، اسٹیل، سیمنٹ، ادویات، منجمد خوراک اور صارف اشیا بنانے والی فیکٹریوں کی اوسط پیداوار میں تقریباً 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی عرصے میں پیداواری لاگت میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ چٹاگانگ، ساور، غازی پور، نارائن گنج، کومیلا، کھلنا اور منشی گنج جیسے بڑے صنعتی مراکز اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

چٹاگانگ میں ایندھن کی کمی کے باعث اسٹیل ری رولنگ ملز، شپ بریکنگ یارڈز اور سیمنٹ فیکٹریوں کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ بڑی کمپنیوں میں ابوالخیر اسٹیل، جی پی ایچ اسپات اور کانفیڈنس سیمنٹ کی یومیہ پیداوار میں واضح کمی رپورٹ ہوئی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق بجلی کی مسلسل بندش سے بھاری مشینری کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے گارمنٹس سیکٹر پر بھی اس بحران کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جہاں کئی فیکٹریوں کی یومیہ پیداوار ایک لاکھ ملبوسات سے کم ہو کر 80 سے 90 ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔ ڈیزل کی قلت کے باعث بندرگاہوں تک سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بعض برآمد کنندگان کو مہنگی فضائی ترسیل کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل سے چلنے والے جنریٹرز کے استعمال نے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اخراجات میں بھی 20 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیل اور سیمنٹ کی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق توانائی بحران کے باعث برآمدات بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ مارچ میں ملبوسات کی برآمدات تقریباً 2.81 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں قریب 19 فیصد کم ہیں، جبکہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں مجموعی برآمدات میں 5.51 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے توانائی انندیہ اسلام امیت نے کہا ہے کہ حکومت نے گارمنٹس سیکٹر کو ترجیحی بنیادوں پر ایندھن کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے ہیں اور صنعتوں کو شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی بحران برقرار رہا تو برآمدات اور روزگار دونوں شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *