Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2213/02-11-2026بلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کا نعصب العین ہے،میر عبید گورگیجممبر سازی مہم سے حقیقی آزادی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی،صادق آغاگیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، نصیر لہڑیتاج، نازیانہ اورقضاءچینی پاکستانی شادیجمعیت علماء اسلام کے کارکنان منفی پروپیگنڈے کا دلیل اور اخلاقیات سے مقابلہ کریں، مولانا عبدالواسع عبدالرحمن رفیقامن و امان، سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، آئی جی ایف سیچوہدری مقدر حسین عمرہ کی سعادت حاصل کرکے پتوکی واپس پہنچ گئےایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثالTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2213/02-11-2026بلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کا نعصب العین ہے،میر عبید گورگیجممبر سازی مہم سے حقیقی آزادی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی،صادق آغاگیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، نصیر لہڑیتاج، نازیانہ اورقضاءچینی پاکستانی شادیجمعیت علماء اسلام کے کارکنان منفی پروپیگنڈے کا دلیل اور اخلاقیات سے مقابلہ کریں، مولانا عبدالواسع عبدالرحمن رفیقامن و امان، سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، آئی جی ایف سیچوہدری مقدر حسین عمرہ کی سعادت حاصل کرکے پتوکی واپس پہنچ گئےایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثال

9 غیر قانونی واٹر پلانٹس کو سیل کر دیا گیا ہے ، بلوچستان فوڈ اتھارٹی

بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے غیر رجسٹرڈ اور ناقص بوتل بند پانی کی تیاری و فروخت کے خلاف کریک ڈاون کو مزید تیز کرتے ہوئے کویٹہ کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔ سرکی روڈ، پٹیل روڈ، شاوکشاہ روڈ، سیٹلائٹ ٹاون، نواں کلی، چشمہ اچوزئی، ویسٹرن بائی پاس، ہزارہ ٹاون اور علمدار روڈ سمیت متعدد مقامات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے واٹر پلانٹس کی جامع انسپکشن کی۔کارروائیوں کے دوران 18 سے زائد یونٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں 9 واٹر پلانٹس کو سیل کیا گیا جبکہ متعدد یونٹس سے پانی کے نمونے لے کر لیبارٹری تجزیے کیلئے بھجوا دیے گئے۔ انسپکشن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی پلانٹس بغیر پروڈکٹ رجسٹریشن اور بی ایف اے لائسنس کے کام کر رہے تھے جبکہ بوتلوں پر تیاری و معیاد کی تاریخ واضح نہیں تھی اور مختلف برانڈز کے لیبلز کا غیر قانونی استعمال بھی کیا جا رہا تھا۔مزید برآں کئی یونٹس میں پانی کے ذخیرہ ٹینکس میں الجی، آلودہ ذرات کی موجودگی، ناقص فلٹریشن سسٹم، پیسٹ کنٹرول کا فقدان، ورکرز کیلئے حفاظتی کٹس (PPEs) نہ ہونا اور ویسٹ مینجمنٹ کے ناقص انتظامات بھی سامنے آئے۔بعض مقامات پر پانی کی تیاری اور پیکنگ کے عمل میں بنیادی حفظانِ صحت کے اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا تھا جس عوامی صحت کیلئے خطرناک قرار دیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق غیر قانونی واٹر پلانٹس میں غیر معیاری پانی کی تیاری عوامی صحت کیلئے سنگین خطرہ ہے اسی لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ صرف مستند اور رجسٹرڈ بوتل بند پانی استعمال کریں جبکہ گلی محلوں میں قائم غیر قانونی یونٹس اور کارخانوں سے متعلق فوری طور پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *