Banner

ایران جنگ اور ہمارا ایمان

featured
Share

Share This Post

or copy the link

ایران جنگ اور ہمارا ایمان
تحریر ،خالد سرور کھوسہ
با حیثیت مسلمان ہمارا ایمان اتنا سستا ہوگیا ہیں کہ ہم اپنے پڑوسی ملک کی حمایت تو نیہں کرسکتے پر صرف ظلم و جبر کے قصے سنتے اور سناتے ہیں ہم پاکستانیوں کا ایمان اتنا کمزور ہیکہ رمضان المبارک کے آتے ہیں مہنگائی سے عام عوام کا خون نچوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں دنیا کی حکومتیں عوام کو ریلیف دیتے ہیں وہیں پاکستانی دنیا کی جنگوں کی آڑ میں ایمان کو فروخت کرتے ہیں ہمارا ایمان مٹی کے پتلے کی مانند ہیں جو ایک وار سے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہیں اگر ہمسایہ ملک ہمسایہ ملک ایران کی بات کی جاے جو ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفار سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:
اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی*
ادویات کی اپیل نہیں کی
ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے*
ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔*
لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔*
بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا
جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔*
ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔*
یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔
کیونکہ:
نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے*
وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ہے۔
حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے*
کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔*
سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے*
کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے نہیں ہیں*
امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں*
تعلیم مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔*
رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے پھر سپریم لیڈر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لیے سال میں ایک آدھی مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے*
گھر میں روٹی پکانا منع ہے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔*
ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20000 روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ہے*
علاج میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ہے 30 فیصد مریض
چوری ڈکیتی نہیں ہے*
شاہی کلچر نام کی چیز ہے نہ پروٹوکول*- بھکاری نہیں ملے گا*
بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ہے*
سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے*
جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیجی جاتی ہے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔*
امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ہے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کر سکے ۔جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ہے۔*
وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔*
چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ہے سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے*
معلم سر کا تاج ہوتا ہے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔* نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے* ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے*
یہ ہے ولایت فقیہ کا ملک جسے ایرانی کہتے ہیں کہ یہ ملک بارہویں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا پیش خیمہ ہے۔
اور ہم نے یہ حکومت نھار دہندہ بشریت کے سپرد کرنی ہے یہ ہمارے پاس امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
ان کے اس جذبے اور قربانی اور پھر سچے ایمان کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان کی تائید کر رہے ہیں۔
اگر ایسی حکومت سپر پاور بن جائے تو دنیا کے غم ختم ہو جائیں گے۔
درحقیقت یہ وہی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت ہے جس کا پوری دنیا کو صدیوں سے انتظار ہے۔
ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے ترقی کا سورج کے کر نکلے گا۔
اور پوری دنیا پر مسلمان اور اسلام غالب ا جائے گا۔
با کچھ صبر ؛ برداشت اور متحد ہو جانے کی ضرورت ہے۔
گناہ کرنا چھوڑ دیں
اپنے آپ کو اس عالمی حکومت کے لیے تیار کر لیں جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔
معاشرے میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

ایران جنگ اور ہمارا ایمان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us