Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مولانا محمودالحسن قاسمیشدید سردی میں گیس لوڈشیڈنگ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے،مولانا قاری مہراللہمفاہمت اور مذاکرات سے ہی سیاسی و آئینی بحرانوں کا پائیدار حل ممکن ہے، جمعیت علماء اسلام نظریاتیمسلم لیگ ق تحصیل نشتر لاہور کے نومنتخب عہدیداروں کے نوٹیفکیشن جاریخیرودیرو روڈ پر ڈکیتی کی واردات، یوسی وائس چیئرمین سمیت دو افراد لٹ گئےدادو میں ٹریفک حادثہ، نوڈیرو کا میونسپل ملازم الطاف حسین سیال جاں بحقبلوچستان میں گندم کا بحران سنگین، کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 330 روپے تک پہنچ گیاچمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریحرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مولانا محمودالحسن قاسمیشدید سردی میں گیس لوڈشیڈنگ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے،مولانا قاری مہراللہمفاہمت اور مذاکرات سے ہی سیاسی و آئینی بحرانوں کا پائیدار حل ممکن ہے، جمعیت علماء اسلام نظریاتیمسلم لیگ ق تحصیل نشتر لاہور کے نومنتخب عہدیداروں کے نوٹیفکیشن جاریخیرودیرو روڈ پر ڈکیتی کی واردات، یوسی وائس چیئرمین سمیت دو افراد لٹ گئےدادو میں ٹریفک حادثہ، نوڈیرو کا میونسپل ملازم الطاف حسین سیال جاں بحقبلوچستان میں گندم کا بحران سنگین، کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 330 روپے تک پہنچ گیاچمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوری

بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسع

جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اگر گورنر راج نافذ کیا گیا تو یہ ایک غیر قانونی اقدام ہوگا، ہم عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ملک میں فوری طور پر عام انتخابات کرائے جائیں، کیونکہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق نمائندہ حکومت کے قیام سے سیاسی بحران اور دیگر مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ جمعیت علماءاسلام حق کو حق اور غلط کو غلط کہنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور اپنے قائد کی کردار کشی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صوبائی مجلس عاملہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں، جمعیت علماءاسلام کی شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور دیگر اہم معاملات پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں جمعیت علماءاسلام کو دباو¿ میں لانے اور ڈرانے کے لیے سرگرم ہوئیں، تاہم ہم نے ان باتوں کو اہمیت نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض ذمہ دار افراد کی جانب سے قائد جمعیت کی کردار کشی کی گئی، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ہم اپنے قائد اور جامعہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے خلاف منفی مہم کو برداشت نہیں کریں گے۔ ایسے بیانات سے ہمارے قائد کا سیاسی قد کم نہیں ہوگا۔ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی کریں اور اصولی بات کریں، اختلاف رائے کو کردار کشی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام 2018ءسے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف رہی ہے، تاہم موجودہ حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں، ان کے تناظر میں ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات درست سمت میں نہیں جا رہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے ایک حصے میں ایمرجنسی اور دوسرے حصے میں گورنر راج کے اقدامات کو ہم مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام ملک کے وسائل کے حوالے سے واضح موقف رکھتی ہے۔ ریکوڈک سمیت پاکستان کے تمام معدنی اور قدرتی وسائل عوام کی امانت ہیں، انہیں سستے داموں دوسروں کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ عوام کے وسائل کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم کسی کو عوام کے حقوق غصب نہیں کرنے دیں گے۔صوبائی حکومت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اپنے لوگوں نے ایک سال تک ان کی حکومت کے خلاف مہم چلائی، ہم نہ تو میر سرفراز بگٹی کی مخالفت کر رہے ہیں اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ وہ ہمارے قائد کی مخالفت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام اپنے کارکنوں کو منظم کرے گی اور اس حوالے سے قائد جمعیت کے حکم کا انتظار ہے۔ مخالفین جلد ہمارے پاس آئیں گے۔انتخابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے الزام عائد کیا کہ چاروں صوبوں میں فارم 47 کا معاملہ موجود ہے اور اس حوالے سے سب کچھ عوام کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی بھی اس فارمولے کے خلاف ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں فوری طور پر عام انتخابات کرائے جائیں۔ ان کے بقول شفاف انتخابات کے انعقاد سے دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی معاملات کو درست کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بلوچستان میں بھی عام انتخابات ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ جمعیت علماءاسلام بلوچستان 17 نومبر سے 25 نومبر تک صوبے کے تمام اضلاع کا دورہ کرے گی، جہاں عوام کو سیاسی صورتحال سے آگاہ کرنے اور انہیں بیدار کرنے کے لیے رابطہ مہم چلائی جائے گی۔بارڈر بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں بند کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر دہشت گرد سرحد پار سے آ رہے ہیں تو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں، تاہم عوام کا روزگار بند نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، افغانستان اور ایران کے بارڈرز کھولے جائیں اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مائنز اینڈ منرلز اور مدارس سے متعلق ایکٹس اسمبلی میں پیش کیے جائیں تاکہ ان معاملات پر قانون ساز اداروں میں بحث اور فیصلہ سازی ہوسکے۔مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ جمعیت علماءاسلام عوامی حقوق اور جمہوری اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اگر حالات ایسے پیدا کیے گئے کہ اسمبلیوں سے استعفے دینا پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ ایک غیر قانونی اقدام ہوگا، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماءاسلام اپنے مو¿قف پر قائم رہے گی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *